گلگت(پ،ر)اس وقت گلگت بلتستان کے مسائل اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ محض ذکر حسین رضی اللہ سے آگے بڑھ کر مشن حسین رضی اللہ پر عمل ناگزیر ہوچکا ہے.کشمیر یمن فلسطین اور شام میں ہونےوالی زیادتیوں کے خلاف آواز اٹھانا شرعی و اخلاقی فریضہ ہے اسی طرح گلگت بلتستان کے مسائل پر بات کرنا قومی فریضہ گلگت بلتستان میں محرومیوں کے حد تک مسائل کا اضافہ ہوچکا ہے جس سے کوئی ایک ادارہ بھی محفوظ نہیں ہے عوامی ایکشن کمیٹی نے جو تحریک چلائی ہے قومی مفادات کو مقدم رکھا گیا ہے۔لیکن ہر تحریک کو مختلف رنگ دینے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اسی طرح حالیہ تحریک بھی سپریم اپیلیٹ کورٹ کے کے نہیں بلکہ اس کورٹ میں موجود کرپٹ عناصر کے خلاف ہے اسے لوکل نان لوکل کا رنگ دینے والے موجودہ ملکی حالات میں گلگت بلتستان کے اندر کشمیر کی سی صورت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے یوم حسین رضی اللہ کے نام سے منعقد اجتماع اور اخبارات کیلئے جاری کردہ بیان میں کیاانہوں نے مزید کہا کہ سپریم اپیلیٹ کورٹ کے ایک ڈپٹی رجسٹرار نے محکمہ اطلاعات کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کے پروگرامات کے متعلق لیٹر جاری کرکے جہاں آذادی صحافت پر حملہ کیا ہے وہی گلگت بلتستان کے لوگوں کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ہے
لہذا اپنی نوکری کو بچانے کیلئے عدالت کا وقار مجروح کرنے والے فرد کو فوری ملازمت سے فارغ کیا جائے۔بصورت دیگر عوامی ایکشن کمیٹی کی جدوجہد مزید تیز کی جائے گی عوامی ایکشن کمیٹی کی 25 تاریخ کا جلسہ عوامی مسائل کے حل کیلئے ہے جس کو بھرپور طور پر کامیاب بنایا جائے گا.انہوں نےکہا کہ گلگت بلتستان کے لوکل ادارے تباہی کے دہانے پر ہیں انکو بچانے کیلئے صوبائی حکومت کے اقدامات ناکافی ہیں سپریم اپیلیٹ کورٹ نیٹکو اور گلگت بلتستان کونسل میں ہونےوالی زیادتیوں کے بارے وزیر اعلی گلگت بلتستان اور گورنر گلگت بلتستان کی خاموشی افسوسناک بات ہے.
انہوں مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے لوکل وسائل پر صوبائی حکومت کا کنٹرول ہونا چاہئے اور انکے متعلق قانون سازی کا اختیار بھی صرف اور صرف گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اختیار میں ہونا چاہیے.
انہوں نےکہا کہ مائیننگ اور ٹمبرلینڈ سمیت اہم وسائل کو گلگت بلتستان منتقل کرانے میں عوامی ایکشن کمیٹی کی طویل جدوجہد رہی ہے تب جا کے جہاں لوگ ایک لیز لینے کیلئے اسلام آباد میں در در کے دھکے کھاتے تھے آج پورے ملک سے لوگ گلگت آرہے ہیں.ایسے میں کسی قانون سازی کے نام پر دوبارہ سے اس وسائل پر شب خون مارا گیا تو ذمداری صوبائی حکومت اور مقامی سیاسی جماعتوں کی ہوگی
گلگت بلتستان میں ذکر حسین سےبڑھ کر مشن امام عالی مقام پر عمل ناگزیر ہوچکی ہے،مولانا سلطان رئیس ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا