نگر( تحریر نیوز) ذرائع کے مطابق پی پی پی کے جاوید حسین کو نگر سے اپوزیشن لیڈر منتخب کرنے کے لئے حاجی رضوان ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کو امادہ کر لیا ہے، حاجی رضوان کے اس اقدام سے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مقامی و مرکزی عہدیداروں کی جانب سے تشویش کا اظہار، ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مقامی کابینہ کی جانب سے حاجی رضوان کے اس اقدام پر زیادہ تشویش کے اظہار کیا ہے لیکن اُنہوں نے ذیادہ پریشر کی میں اسمبلی استعفاء دینے کی دھمکی دی ہے ۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے نئے اپوزیشن لیڈر منتخب کرنے کے لئے مشاورت جاری ہے اور تمام اپوزیشن پارٹیاں پی پی پی کی حمایت کرتی نظر نہیں آرہی اور پلہ اسلامی تحریک کی جانب ہے لیکن اسلامی تحریک کے ارکان آپس میں متحد نہیں اسمبلی اپوریشن کی جانب سے محمد شفیع خان کے نام پر متفق لیکن پارٹی کے رکن اسمبلی کیپٹن سکندر کی شدید مخالفت نے پارٹی اور اپوزیشن کو پریشان کیا ہوا ہے ۔ ایسی صورت حال میں ایم ڈبلیو ایم کی مقامی قیادت میں شدید تشویش دکھائی دے رہا ہے کیونکہ حالیہ ضمنی الیکشن میں پی پی پی نے اسلامی تحریک اور ایم ڈبلیو ایم کے علماء کرام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان پارٹیوں کے علماء کو ایجنٹ قرار دیا تھا۔
دوسری طرف ایم ڈبلیو ایم کے عہدیداروں نے انجمن حسینہ نگر اور سپریم کونسل سے تشویش کا اظہار کیا اور انجمن میں موجود پی پی پی گلگت بلتستان کی بی ٹیم کا کردار ادا کرنے والے اراکین سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر نگر کا نام استعمال کرنا تھا تو کونسل کے رکن کو منتخب کرتے وقت حیدر المعروف اچانک سیٹھ کو پی پی پی سے ووٹ کیوں نہیں مانگا تب کہاں تھے نگر انجمن میں بیٹھے پی پی پی کے لوگ آج ان کو مفاد کی بات آگئ تو نگر کا نام استعمال کر رہے ہیں اگر اتنا نگر پر فدا ہیں تو حاجی رضوان بھی تو نگر کے ہیں اور قابل بھی ان کے نام پر کیوں اتفاق نہیں کیا جاتا کیا حاجی رضوان جاوید سے قابل نہیں ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پی پی پی اپنے مفاد کے لئے نگر کا نام استعمال کر رہی ہے لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوگی ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا