غالباََ جمعہ کا دن تھا میں کسی کام سے پنڈی صادق آبادمیں تھا، دھوپ کی شدت بھی تیز تھی ، ایک چھوٹاسا لڑکا جس کی عمر تقریباََ14سال کا ہوگا دیکھنے میں کم عمر مگر شکل سے معلوم ہو رہا تھا کافی ذمہ داری ہوجسم پر پرانا لباس ہاتھ میں پلاسٹک کی چھوٹی سی گھڑی اور کافی بے چین نظر آرہا تھا۔میں سڑک کے کنارے رکا اور اس بچے کی معصومانہ انداز پر نظر ڈالنا شروع کیا،وہ بار بار پیچھے مڑ کے دیکھتا کچھ دیر بعد آگے جاتے پھر واپس آتے اور پھر پیچھے مڑ کر دیکھتے ایسا لگ رہا تھا گویا کسی کے انتظار میں ہو۔تھوڑی دیر بعد ایک چھوٹی پھول جیسی بچی سکول کی وردی پہنے روتی ہوی اس جگہ پہنچی جہا ں وہ بچہ انتظار کر رہا تھا۔بچی کے پہنچتے ہی اس نے اس کے سکول بیگ خود اٹھایا اور اپنے ہاتھوں سے اس کے چہرے کو صاف کیا، پسینہ ہٹایا اور ننھے ہاتھوں میں پہنے پلاسٹک کی گھڑی میں ٹائم دیکھا اور بچی سے کہا تیرے سکول کے لئے ابھی وقت ہے لیکن مجھے پھر آج استاد جی سے مار پڑے گا۔لفظِ مار نے چھوٹی بچی کو ہلا کے رکھا اور آنکھوں میں آنسو لئے اس کی طرف دیکھ کر سوری بھولا اور کہا آج ناشتہ ملنے میں دیر ہوئی تو کھائے بغیر آئی ہوں۔بچی کے رونے کی وجہ تو مجھے معلوم ہوا لیکن حیرت اس بات پر ہوئی کہ لڑکا تو سکول جانے کے لباس میں نہیں تھا پھر اس نے استاد کا نام کیوں لیا۔۔؟؟ میں اس لڑکے سے دعا سلام کے بعد ان کے ساتھ چلا ، نام پوچھنے پر کہا میرا نام ارسلان ہے او ر یہ میری بہن آمنہ ہے میرا صرف ایک ہی بہن ہے اور میں اس سے بہت پیار کرتا ہوں۔میں نے پوچھا آپ سکول کے یونیفارم میں تو نہیں پھر یہ کیوں کہا کہ استاد مارے گا ؟ وہ میری طرف دیکھا اور تھوڑی سی مسکراہٹ اپنے درد کو چھپانے کے لئے اپنے چہرے پر ظاہر کیا اور کہا میں سکول نہیں جاتا بلکہ استاد رفیق کے ساتھ راجہ بازار ورکشاپ میں کام کرتا ہوں ،وقت پر نہ پہنچ پائے تو وہ مجھے مارتا ہے،مجھے اپنی بہن کو پڑھانا ہے ہم نے آگے بڑھنا ہے ۔مجھ سے پہلے ہی چھوٹی بچی کی محبت جاگ اُٹھی اورمعصومانہ انداز میں بولی بھائی آپ اس کام کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے مجھے نہیں پڑھنا اس طرح، میںبھی امی کے ساتھ کام پہ جائوںگی اور ایک لمبی سانس لینے کے بعد کہا کاش!ابو زندہ ہوتے۔۔اس جملے نے مجھے اتنا درد دیا میں کیسے ذکر کروںمیرا کلیجہ فٹ رہا تھا مجھ میں اب ہمت نہیں تھی کہ میں ان کے ساتھ دو چار قدم اور ساتھ چلوں اور ان کی باتیں سنوں ۔ میں وہیں رکا اور دیوار سے لگ گیا ۔ہمارے ملک ِچمن کی یہ خوبصورت مگر مرجائے ہوئے پھول اور کلی اسی معصومانہ انداز میں آگے بڑھ گئے اور ایک دفعہ پیچھے مڑ کر دیکھا میری آنکھوں میں آنسو دیکھ کروہ مذید بولے بغیر اپنی بہن کی چھوٹی چھوٹی ہاتھوں کو پکڑ کر روڈ کے دوسرے پار چلے گئے نظروں سے غائب ہونے تک میں انھیں دیکھتا رہا پھر میں واپس آیاان کی پیاری پیاری ادائوں اور میٹھی میٹھی درد بھری باتیںمیں شائد کبھی نہیں بھول پائوں گا ارسلان آپ کی ہمت اور آمنہ آپ کی محبت کو سلام۔ مگر۔۔۔؟؟ ایسے اور کتنے بچے ہونگے جن کے ساتھ مشکلات ہونگے؟ ایک طرف بڑے لوگ اپنے بچوں کو اس طرح تیار کر کے VIP سکولوں اور مرسیڈیز کار میں لے جایا جاتا ہے روز کے حساب سے جیب خرچہ دینے کے علاوہ یہی امیروں کے بچے ٹپن میں اگر انڈا آملیٹ اور فاسٹ فوڈ وغیرہ نہ ہو تو سکول نہیں جاتے۔دوسری طرف ان بچوں کا بڑا ڈیمانڈ ہوتا ہے کہ سائکل موٹر بائک،سیر سپاٹے بڑے ہوٹلوں میں کھانے کولڈ ڈرنک یہ اگر نہ ہوتو وہ اپنے والدین سے خفا ہوتے ہیں اور والدین بلا شک شبہ ان کی ڈیمانڈ فوراََ قبول کرتے ہیں۔کیا ان یتیم بچوں کا کسی کوخیال نہیں؟کیا یہ کسی سے خفا نہیں ہوسکتے؟کیا ان کو تعلیم کا حق نہیں ؟اگر یہ اپنے والدین کی شفقت سے محروم ہیں اور تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو کوئی بھی ایسا انسان آپ کے پنجاب نہیں جو ان کی مدد کر سکے ؟وزیر اعلیٰ شہباز شریف آپ نے میٹرو پہ اتنا خرچہ جو کیا ہے ،لیپ ٹاپ تقسیم کئے و دیگر ترقیا ں کیں ہے تو آپ نے غریبوں کو کیا دیا ہے؟کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ادارہ نہیں جو اِن شاہین بچوں کو سنبھال سکے؟یا ایسا ادارہ ہے مگر وہاں سفارش پہ پھر ان برگر فیملیز کے بچے مفت تعلیم حاصل کر رہا ہے۔۔؟؟خدارا معاشرے میں کوئی ایسا فرد نہیں جو وسعت تو رکھتا ہے مگر ان غریب بچوں کے لئے ہمدردی نہیں رکھتا۔بچوں نے کسی سے بھیگ نہیں مانگے اس کا مطلب یہ بچے محنتی اور غیرت مند ہیں ۔۔وزیر اعلیٰ صاحب کیا یہ بچے آپ کے بچے نہیں؟کیا اس چھوٹی بچی نے کل جوان نہیں ہونا؟شادی نہیں کرنی۔۔؟؟ ایسے بہت سارے سوالات ہیں جو ذہنوں میں گردش کرتے ہیں او ہم مسلمان بس نفسا نفسی ہوگئے۔ان کوبچہ سمجھ کر کبھی کوئی دکھ دیتا ہے تو کوئی ٹھوکر دیتا ہے مگر اصل میں یہ بچے اپنے گھر کے بڑے ہوتے ہیں اور اگر ان پر توجہ کر کے ان کا حوصہ بڑھایا جائے تو یہی بچے کل ہمارے ملک کے معمار ہونگے۔میری دعا ہمیشہ اُن بچوں اور والد ین کے ساتھ ہے جو عاجزیو انکساری کے ساتھ پیش آتے ہیں اور فضول خرچ کرنے کی بجائے ان حق داروں کا خیال رکھتے ہیں دعا ہے خدا یا ان پھول سے بچوں کو ہمیشہ اپنی امان میں رکھیں ۔آمین!
تحریر ۔ بلاول بیگ بلتی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟