گلگت(ٹی این این) درجنوں افراد کی موجودگی میں نوجوان کا دریا برد ہونا غفلت کی بدترین مثال ہے اور بغیر حفاظتی اقدامات نوجوانوں کو تربیتی مراحل سے گزارنے پر آئی جی سمیت متعلقہ حکام کو برطرف کرکے قانونی کارروائی کی جائے. ستم بالائے ستم تین دنوں سے نوجوان کا بازیاب نہ ہونا صوبائی حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے. ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے تمام محکمے اندرونی طورپر بدحالی کا شکار ہیں ناتجربہ کار عملے کی بھرمار ہے تو تربیت اور وسائل ضروریہ سے ادارے خالی ہیں. کئی بار اس طرح کے واقعات کے رونما ہونے کے باوجود اقدامات کا نہ اٹھانا افسوسناک ہے. انہوں نے کہا کہ حالیہ پولیس نوجوانوں کا دل سوز واقعہ محکمے کی نااہلی کا نتیجہ ہے سردی کے موسم میں صبح کے وقت بغیر کسی احتیاطی تدابیر دریا میں نوجوانوں کو اتارنا مذموم عمل ہے اس جرم کے اندر آئی جی گلگت بلتستان سمیت دیگر تمام ذمداران برابر کے شریک ہیں. اور ریسکیوں اداروں میں ضروریہ وسائل کی فراہمی کیلئے صوبائی حکومت فوری اقدامات اٹھائے. مزید اس طرح کے واقعات سے قبل تدارک لازمی ہے.
بغیر حفاظتی اقدامات جوانوں کو تربیتی مراحل سے گزارنا جرم ہے، متعلقہ حکام کو برطرف کرکے قانونی کارروائی کی جائے۔مولانا سلطان رئیس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا