چلاس(راجہ دانش)چلاس تکیہ قبرستان آج کل جادو ٹونے کا مرکز بن گیا ۔ قبروں کو کھود کر اندر سے بے چارے مردوں کے کےہڈیاں اور جسم کے ڈھانچے لے جا کران کے اوپر جادو لکھائی کی جاتی ہے ۔ کفن کے اوپر بھی شیطانی اعمال کئے جاتے ہیں ۔ مقامی آبادی کا کہناہے کہ رات کوقبرستان میں اکثر کوئی نہ کوئی آدمی نظر آتا ہے ۔ قبروں کے باہر پڑے کفنوں پر قبر کی اور باقیات کی بے حرمتی واضح نظر نظر آتا ہے پرانی قبر کو کھود کر اندر سے کفن کو باھر نکال کر اس کفن کے اندر لکڑیوں کے ٹکڑوں پرجادو ٹوٹکا کر کے باہر رکھا ہوا ہے ۔ ۔ لکھائی واضح ہے ۔ تعویز فروش اور جادوگر سادہ لوح مسلمانوں کے ایمان سے کھیل رہے ہیں اور شیطانی اعمال کے زریعے لوگوں کو مالی اور جانی نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں۔۔۔اسلام میں جادو کفر ہےاور جادو گر زندیق اور واجب القتل ہے۔ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے ناپاک عناصر سےمعاشرے کو پاک کریں۔
ضلع دیامر چلاس میں جادوگروں کا راج،قبروں کی بے حرمتی معمول بن گئی۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا