شگر(پ ر)سابق ممبر ضلع کونسل شگر حاجی وزیر فدا علی نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر ایجوکیشن بلتستان اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن شگر ضلع شگر میں نظام تعلیم غرق کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔اساتذہ کی کمی سے دوچارگرلز ہائیرسکینڈری شگر سے تین اساتذہ کو سکردو تبادلہ کرکے اپنی نااہلی کا ثبوت دیا ہے۔اگر فوری طور ان اساتذہ کو دوبارہ اسی سکول نہ لایا گیا توشگر کے عوام کو نکال کر سخت احتجاج کرنے کیساتھ ڈی ڈی ای آفس شگر کا گھیراﺅ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ضلع شگر میں اساتذہ کی صورتحال دیگر تمام اضلاع کی مقابلے میں انتہائی خراب ہے۔ سکولوں میں طلباءو طالبات کے مقابلے میں اساتذہ کی تعداد انتہائی کم ہے۔جبکہ سکولوں میں نظام تعلیم کی صورتحال بھی انتہائی خراب ہے۔محکمہ تعلیمات عامہ بلتستان کے اعلیٰ حکام خصوصا ڈائریکٹر ایجوکیشن اور ڈپٹی ڈائریکٹر دونوں نااہل ہے۔ دونوں اہلکار شگر میں تعلیم کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ان کا عملی ثبوت اساتذہ کی کمی کا شکارگرلز ہائیر سکینڈری سکول شگر سے تین اساتذہ کو سکردو تبادلہ کردیا گیا ہے جس کے بعد سکول اساتذہ کی کمی شدت اختیار کردیا گیا ہے۔اگر ان کا تبادلہ کرنا مقصود ہوتو ان کی ایل پی سی سمیت سکردو تبادلہ کیا جائے۔ ورنہ شگر کی ایل پی سی پر سکردو میں ڈیوٹی نہیں دینے دینگے۔انہوں نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شگر میں محکمہ تعلیم کی ناقص کارکردگی اور اساتذہ کی تبادلے کا نوٹس لیں۔جبکہ ڈی ڈی ای شگر اور ڈائریکٹر ایجوکیشن بلتستان کو فوری طور تبادلہ کیا جائے۔ورنہ شگر کی عوام عاشورہ کے بعد شدید احتجاج کرنے کیساتھ ڈی ڈی آفس شگر کا گھیراﺅ کیا جائے گا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا