گلگت(پ،ر)ترجمان صوبائی حکومت فیض اللہ فراق نے بسین کے مقام پر بیکن پبلک سکول کی سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کی صلاحیتیں متنازعہ نہیں ہیں ،محرومی کا غیر ضروری درس نوجوانوں کی صلاحیتوں کو زنگ آلود بنا رہا ہے ۔گلگت بلتستان کے نوجوان اور طلبہ و طالبات کسی طور پہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں ۔اس خطے کے مکینوں کی روشن تاریخ اور تہذیب ہے ،محرومی کا رٹہ لگانے والے خطے کی نوجوان نسل کو ڈی ٹریک کرنے کی کوشیش کررہے ہیں ،گلگت بلتستان کل کا روشن پاکستان ہے۔اس خطے کی اہمیت ہر لحاظ سے پہلے سے بڑھ چکی ہے ،لیکن ہم بدلتے ہوئے اس عالمی منظر نامے میں اپنی جگہ بنانے میں ناکام دیکھائی دے رہے ہیں کیوںکہ بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا ہے کہ ہم خود کو بھی بدلیں ،دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن ہم آج بھی محدود دائروں کے اندر سفر کررہے ہیں ۔انسانیت عالمی منشور ہے اور اس منشور کی کامیابی چھوٹے چھوٹے محدود دائروں سے بالا کوئی عمل ہے ،ہم لسانی ،فرقہ وارانہ اور علاقائی سطح پر منتشر ہیں جو کہ افسوس ناک ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر دور میں بسین کی عوام کو حقیقت سے دور رکھا گیا ہے اور یہ علاقہ متشدد رویوں کی صورت میں پیش کیا جاتا رہا ہے ،لیکن آج اس سکول اور عوام کا علم سے دوستی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں کے نوجوان بھی افض شگری،جی ایم سکندر اور جزل (ر)ہدایت الرحمن بن سکتے ہیں ۔اس علاقے میں تعلیم کے مزید چراغ جلانے کی ضرورت ہے۔علم روشنی ہے اور روشنی ہی اندھیروں کو شکست دے سکتی ہے ۔عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت پر واجب ہے کہ وہ عوام کے تعلیمی مسائل کے خاتمے میں کردار ادا کریں ۔انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کا مستقبل شاندار ہے لیکن رویوں کو درست سمتو ں پر گامزن کرنے کی ضرورت ہے ،شارٹ کٹ دنیا میں کوئی چیز نہیں ہوتی کامیاب زندگی اور بہتر مستقبل جہد مسلسل اور ٹھوکروں کے بعد نصیب ہوتی ہے ۔نوجوان خطے کا سرمایہ ہیں اور قلم کتاب سے مظبوط رشتہ کامیابی کی ضمانت ہے۔جدید دنیا میں اب قلم کی جنگ ہے جس کو موثر اور کاریگر بنانے کیلئے علم و عمل اور سائنس و ٹیکنالوجی پر زور دینا ہوگا ،اگر علم کے ساتھ تربیت و عمل کو منسلک نہ کیا گیا تو پھر پڑھی لکھی نسل بھی معاشرے میں تباہی کا سبب بنتی ہے ،تربیت کا تعلق والدین سے ہے اور والدین و اُستاد اپنے بچوں کیلئے رول ماڈل بنیں ۔انہوں نے بیکن پبلک سکول کے خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سکول کے پرنسپل نعیم قریشی نے ایک ایسے دور میں بسین جیسے علاقے میں علم کا پودا لگایا تھا جب یہاں کانوں میں صرف گولیوں کی آوازیں آتی تھیں ،میں ان کی سوچ کو سلام پیش کرتا ہوں اور آئندہ اس ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائیگا ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا