گلگت ( تحریر نیوز نیٹ ورک)گلگت بلتستان میں بجلی بحران شدت اختیار کر رہاہے حکمران سیاسی بیان بازی کم کرکے مسائل کے حل پر توجہ دیں.گلگت بلتستان میں آفسر شاہی کلچر کو ختم کرکے برابری کی بنیاد پر بجلی فراہم کی جائے گلگت میں تمام سپیشل ٹرانسفارمرز اور سپیشل لائینو کا خاتمہ کیا جائے جب تک حکمران روشنی میں رہیں گے انکو غریبوں کے اندھیروں کا احساس نہیں ہوگا لہذا متعلقہ محکمے کے ذمداران فوری طور پر اضافی لائینو کو کاٹ کر عوام اور حکمرانوں کو یکساں بجلی فراہم کرے.مخصوص اور اہم دفاتر کیلئے جنریٹر کی سہولت ہونے کے باوجود تیل کا بجٹ بھی صرف ہورہا ہے اور سپیشل بجلی کے مزے بھی لوٹے جارہے ہیں.ان خیالات کا اظہار مولانا سلطان رئیس چئیرمین عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کے بیانات سے لگتاہے کہ اگلے سال تک گلگت بلتستان پیرس بن جائے گا مگر عملی طور پر کسی بھی شعبے میں ترقی نظر نہیں آرہی اس ضمن میں موجودہ وفاقی حکومت کا رویہ بھی گلگت بلتستان کے مفادات میں نظر نہیں آرہاانہوں نےکہا کہ اگر وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے بجٹ کو ختم کرنے کی کوشش کی تو عوامی طور پر احتجاج کیا جائے گا.انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام میں لوڈشیڈنگ سے زیادہ غیر منصفانہ تقسیم پر غصہ پایا جاتا ہے جس کیلئے ضروری ہے کہ چیف سکریٹری وزیر اعلی اور فورس کمانڈر سمیت اہم ادارے اپنے طور پر زائد ٹرانسفارمرز اور سپیشل لائینو کا خاتمہ کرکے عوام کے زخموں پر مرہم رکھیں.وگرنہ اس بار جب عوام روڈ پر آئیں گے تو یقینا سمبھالنا مشکل ہوگا.عوام کیلئے ہیٹنگ کوکنگ اور لائیٹنگ کیلئے بجلی فراہم کرنا حکومت وقت کی ذمداری بنتی ہے اور جب تک گلگت بلتستان میں بجلی کی کمی کو ختم نہیں کیا جاتا تب تک گرین گلگت بلتستان کا خواب پورا نہیں ہوسکتا
حکمران سیاسی بیان بازی کم کرکے مسائل کے حل پر توجہ دیں۔مولانا سلطان رئیس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا