اسلام آباد( تحریر نیوز نیٹ ورک) سپریم کورٹ آف پاکستان میں مسلہ کشمیر سے منسلک گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ یہ آئینی پٹیشن آئین پاکستان کے آرٹیکل 184(3 ) کے تحت دائر کی گئی ہے ۔پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1999 میں وفاق پاکستان کوحکم دیا تھا کہ آئین سمیت تمام قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کو تمام جمہوری حقوق دیے جائیں۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے 2009 میں گلگت بلتستان میں سلیف گورننس آرڈر کے ذریعے ایک نظام دیا ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے ۔ بنیادی طور پر یہ دو آئینی پٹیشنیں تھیں جنہیں سپریم کورٹ نے ضم کر کے سماعت کیا اور ایک ساتھ نمٹا دیا ۔ان میں سے ایک پٹیشن 94/17گلگت بلتستان کونسل کی سابق ممبر فوزیہ سلیم عباس نے دائر کی تھی جبکہ دوسری 94/11الجہاد ٹرسٹ کے حبیب وہاب الخیری نے دائر کی تھی۔ ان دونوں پٹیشنوں کو سننے کے لئے سُپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں پانچ رُکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے متفقہ طور پر فیصلہ جاری کیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اپنی تاریخی فیصلہ28 اپریل1999ء میں صفحہ نمبر 42 پر حکم صادر کرتا ہے کہ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے ا نڈیا ، چین تبت ، روس کے درمیان ایک انتہائی حساس خطہ ہے ، یہ عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی کہ گلگت بلتستان کو کس طرح کی حکومت د ینی چائیے کیونکہ اس بات کی آئین پاکستان اجازت نہیں دیتی،اور نہ ہی ہم ہدایت دے سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے کیونکہ یہ ملک کے عظیم تر مفاد میں نہیں در اصل یہاں اقوام متحدہ کے زیر نگراں رائے شماری ہونا ہے۔آگے یہ بھی حکم کرتا ہے کہ ناردرن ایریاز ریاست جموں و کشمیر کا آئینی حصہ ہے، حکومت پاکستان 6 مہینوں کے اندر یہاں بنیادی حقوق،سیاسی اور انتظامی اداروں کی فراہمی کو یقینی بنائیں ، اس طرح کے اقدام سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی موقف پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔
گلگت بلتستان کے عوام کا بھی ہمیشہ سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ یا تو اس خطے کو تمام مسلے مسائل کو ایک طرف رکھ کا پاکستان میں قانونی طور پر شامل کریں ۔ایسا ممکن نہ ہونے کی صورت میں مسلہ کشمیر کے تناظر میں اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو مکمل طور پر بحال کرتے ہوئے گلگت بلتستان کیلئے بھی آذاد کشمیر طرز پر استصواب رائے تک کیلئے ایسا نظام دیں جس میں اس خطے کی شناخت کا تعین ہو۔ اس وقت گلگت بلتستان کے نئی نسل میں اس مسلے کو لیکر سخت تشویش پایا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہورہا دوسری طرف متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق حاصل نہیں ۔سپریم کورٹ آف پاکستان سے یہاں کے عوام امید لگائے بیٹھے ہیں کہ عدالت عالیہ وہاب الخیر ی کیس پر عمل درآمد کرکے گلگت بلتستان کے عوام کی اکہتر سالہ محرومیوں کا ازالہ کریں۔
گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت سے متعلق سپریم کورٹ آف پاکستان کا وہاب الخیری کیس کیا ہے؟ اسپیشل رپورٹ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا