جناب کمشنر بلتستان حمزہ سالک صاحب۔ امید ہے آپ خیر عافیت کے ساتھ ہونگے۔ آپکے حوالے ایک خبر سوشل میڈیا کی وساطت سے نظر سے گزار اُ س خبر پر بطور باشندہ متنازعہ خطے کے کچھ کہنے سے قبل حد ادب کیلئے دونوں ہاتھ جوڑ کر سر کو جھکا کے معذرت چاہوں گا ۔ محترم سالک صاحب خبر کے مطابق جو خدا کرے جھوٹ ہو اور آپ سے منسوب کرکے مقامی پیٹ برگیڈ یعنی جیب بابا جسے صحافی اور میڈیا کہتے ہیں، نے آپ کو خوش کرنے کیلئے آپ سے منسوب کرکے لگایا ہو۔ اگر ایسا نہیں ہے تو جس طرح آپ نے فرمایا کہ شیڈول فورمیں جن آفراد کو شامل کیا ہے وہ ریاست مخالف لوگ ہیں اور اگر اُنہوں نے اپنی ریاست مخالف سرگرمیاں ترک نہیں کی تو گرفتار کیا جائے گا۔ سر آپ کمال کے انسان ہیں آپ نے گلگت کو بھی فتح کیا ہے اور بلتستان بھی آپ نے فتح کرنا ہے لیکن محترم سوال کرنے کی جسارت کرتے ہوئے عرض یہ کروں گا کہ آپ کے نزدیک ریاست کے معنی کیا ہیں؟ ورنہ تو ہم وہ لوگ ہیں جو پچھلے ستر سالوں سے مملکت پاکستان کے آئینی شہری بننے کے خواہاں ہے۔ اور ہمارے اس مطالبے پر آپ ہی لوگوں کا بار بار کہنا ہے کہ آپکا علاقہ مسلہ کشمیر سے منسلک متنازعہ خطہ ہے لہذا ہمارے آئین میں آپکو شامل کرنے سے ہمارے کشمیر کاز کو نقصان پونچ سکتا ہے ہمارے خارجہ پالیسی پر آنچ آسکتا ہے دنیا ہمیں مزید تنہا کرسکتا ہے۔ ایسے میں آپ ہی بتا دیجئے کہ گلگت بلتستان میں ریاست کی تعریف آپ کیسے اور کس طرح کرتے ہیں ؟کیونکہ آپکے انکار کے باوجود ہم اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں اور پاکستان کیلئے مر مٹنے پر فخر محسوس کرتے ہیں ہمارے خطے کے کسی بھی شخص نے نہ ہی کسی آرمی کے بنکر پر حملہ کیا نہ ہی پاکستان کے کسی عام شہری کا بیگناہ قتل کیا اور نہ ہی گلگت بلتستان کا کوئی باشندہ لشکر جھنگوی،طالبان ،سپاہ صحابہ داعیش جیسے دہشت گرد تنظیموں کے کارکن ہیں۔ لہذا گلگت بلتستا ن کے عوام بھیڑبکریاں نہیں ہے جنہیں چرواہا اپنی مرضی سے چلائیں ہمارے کچھ حقوق ہیں جس کا مطالبہ ہمارا قانونی حق ہے اور اقوام متحدہ نے ہمیں حق دیا ہوا ہے لیکن آپ ایک طرف ہمیں آئینی چھتری کے نیچے شامل کرنے سے انکار کرتے ہیں دوسری طرف جب ہم مسلہ کشمیر کے تناظر میں اپنے حقوق کا مطالبہ کریں تو آپکو غدار ریاست مخالف لگتا ہے۔خدارا گلگت بلتستان پر رحم کیجئے ہم لوگ دہشت گرد نہیں بنیادی حقوق سے محروم تسلیم شدہ متنازعہ خطے کے باشندے ہیں۔اور اقوام متحدہ کے قوانین میں آپ یہاں کے حاکم نہیں بلکہ منتظم ہیں لہذا آپ سے ہاتھ جوڑ کر گزارش کروں گا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو مزید مشتعل نہ بنائیں ہمیں دہشت گرد بنانے کے بجائے اپنی اداوں پر ذرا غور کریں۔جناب سالک صاحب یہ وہی مسٹر منظور حسین پروانہ اور دیگر ہیں جنہوں نے جوانی اور کیرئر تباہ کرکے بلتستان کیلئے الگ کمشنری حاصل کی ہے اسی بدولت آج آپ کے پاس نوکری ہے۔لہذا آپ ایک سرکاری ملازم ہو میرے وطن کا مالک اور بادشاہ نہیں ۔بس آپ سے گزارش ہے کہ ہمیں ڈرا کر خاموش کر انے کی کوشش نہ کریں واللہ ہم اپنے وطن کیلئے مرمٹنے پر فخر محسوس کرنے والے لوگ ہیں۔ آپ سے بس یہ بھی گزارش ہے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے ریاست پاکستان کے نظرئے کی تائید کریں اور اُس پر عمل درآمد کریں کیونکہ 13 اگست 1948 کو مملکت پاکستان نے اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کیلئے مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے مکمل داخلی خود مختاری کو وعدہ کیا ہوا ہے اور ہم بھی بس اس وعدے کی پاسداری چاہتے ہیں تاکہ ہماری بھی کوئی پہچان ہو۔
شیرعلی انجم
کالم نگار
باشندہ متنازعہ گلگت بلتستان
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا