تحریکِ ضلع داریل تانگیرــ پھانسی کے پھندے پر۔

0 0

عوام نےجس شوق اور ولولےسے تحریکِ ضلع داریل تانگیرکا آغاز کردیاتھا، اسکو دیکھ کےمحسوس ھورہاتھاکہ صوبائی حکومت اور عوامی نمائندے، اپوزیشن سے لاحق خطرات کو بھانپتےھوے پہلی فرصت میں اس ایشوکوحل کردینگے لیکن نتیجہ اس کےبرعکس نکلا ـ صوبائی حکومت کی پس وپیش اور منتخب نمائندوں کی بدنیتی سے اپوزیشن گروپ نے بھرپور فائدہ اٹھاتےھوے تحریک ضلع داریل تانگیر کو دو مختلف اضلاع کا شکل دیکر ناقابلِ حل مطالبے کیطرف موڑ دیاـ تاریخ کی موم بتی روشن کرنےسے پتہ چلتاھے کہ اسطرح کی ایک سازش سقوط ڈھاکہ کی شکل میں بھی نظرآتی ھےجہاں ادھر ھم ادھرتم ، کے شرمناک نعرے لگےتھے ـ عوامی مفاد میں ابتدائی مرحلہ دونوں وادیوں کو ملاکر ایک ضلع بنانا ھے ـ بعد میں اگر حالات سازگار ھوں؛ حکومت مہربان ھو اور عوام مطمئن ھوجائے ؛ تو لازمی امر ھیکہ دو اضلاع کا قیام بھی وقت کی پکار ھوگی ـ معاشرتی مسائل اور سیاست پہ نظررکھنے والے تجزیہ نگار اور ماہرین کا کہنا ھےکہ اپوزیشن اس موڑ پہ جو خطرناک کھیل کھیل رھا ھے وہ مستقبلِ قریب میں وادیوں کے درمیان اجتماعی دشمنی اور خون خرابےکا پیشِ خیمہ ھوسکتا ھے ـ موجودہ حالات میں دونوں وادیوں کے منتخب نمائندوں کا فرض ھکہ وہ حالات کی نزاکت کو سمجھیں ـ قومیت اور عصبیت کے خول سے باہر نکل کرمسلے کا حل سوچیں ـ اگر داریل تانگیر کا منتخب شدہ نمائندے یہ نہیں سوچ سکتے کہ اپوزیشن گروپ اپنے سیاسی مفادات کا کارڈ کھیل چکی ھےتو انکو حقِ نمائندگی پہ از سرِ نو نظرثانی کی ضرورت ھے ـ یہاں یہ بات کہنا مناسب ھےکہ قومیت نہ صرف ازروئے اسلام بلکہ معاشرتی اور اخلاقی قدروں کےبھی منافی ھےـ اور بالخصوص سیاست میں قومیت حرام ھےـ اب اگرکسی نمائندے کو قومیت کا رنگ دیے بنا، سکون نہیں ملتا تو اس کے پاس اور بھی ہزاروں مواقع ہیں جہاں وہ اپنی اس ذہنی پراگندگی کا ثبوت دےسکتا ھےـعلاوہ ازیں مذھب کےنام پر کچھ لوگ سیاست کےچراغ روشن کرکے اس عوامی دیرینہ مطالبےکا گلا گھونٹےکےدرپے ھیں جو کہ کسی بھی صورت عوامی مفاد میں نہیں ـ جس لمحے ہیڈکوارٹرکےتعین کیلئے میٹنگ بلائی گئی تھی ، اس لمحے ھی دو اضلاع کا مطالبہ سامنےآنا، سوالیہ نشان ھےـذاتی مفادات اور سیاسی مفادات کو عوامی اور اجتماعی مفادات کےسامنے ذبح کرنا،سیاست کا معراج ھوتاھے ـ مگر ذھنی پستی کےشکار عناصرکو کون سمجھائیں کہ ہربات کو سیاسی نظرسے دیکھنا ضروری نہیں ھوتاـ عوام جو مطالبہ کرتے ھیں اس کےسامنے سرِ تسلیم خم کرنا ھی سیاست ھےـ اکڑ اور انا سیاستدانوں کا کام نہیں ـ ان کو اپنےکردار سےعوامی تربیت کرناھوتا ھےـ اب نمائندگی سے منسلک حضرات کی اپنی سوچ ایسی ھوـ تو وہ عوام کی کیا سیاسی تربیت کرسکیں گے ـخدارا ـ باز آجاو ــ اک ضلع کا حصول ممکن نہیں اور آپ اپنی سیاست کی دکان چمکانےکے لئے دو اضلاع کی بات کرتے ھو ــ حالت اور حیثیت یہ ھکہ کوئی دو چوکیداریاں نہیں لاسکتے اور منافقت کی انتہا یہ ھے کہ دو اضلاع کی بات کرتے ھیں ـاس سے قبل کہ عوام کے صبرکا پیمانہ لبریز ھو،موجودہ نمائندے اور اپوزیشن منافقت کی روش ترک کردے ـ کہیں ایسا نہ ھوکہ عوام احتساب پہ اترآئے اور آپکو کہیں چھپنے کی جگہ نہ ملے ــ اک ضلع اور اسکا ہیڈکوارٹر حالیہ مطالبہ ھے اور سب کو متفق ہوکر اس پر توجہ کی ضرورت ھے ـ پہلے اک ضلع بن جائے اور مشترکہ جدوجہد کامیاب ھوتو بعد کے مطالبات بعد میں دیکھے جائیں گے ـ۔
تحریر:عباداللہ شاہ
ضرب قلم

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website