تانگیر کی پسماندگی ـ ذمہ دار کون؟ـــ

0 0

قدرتی وسائل سےمالا مال وادی تانگیر، جسکو قدرت نے حسن اور وسائل بطور تحفہ عطا کیےھیں کو حکومت نے، پاکستان کیساتھ غیرمشروط الحاق سے تاحال، نہ صرف نظروں سے گرائے رکھا ھےبلکہ ترقی کی سیڑھیوں کو یہاں سے یوں اکھاڑ پھینکاھے،جیسے اس جنت نظیروادی کا حکومت سےکوئی رشتہ ھی نہیں جڑتا ـ بدقسمتی کی انتہا یہ ہوا کہ مقامی آبادی زیادہ پڑھی لکھی نہیں اور کارِ سرکار غیر لوگوں کےھاتھوں لگاـ جنہوں نےاس بدقسمت وادی سے کبھی بھی نہ دل لگایا نہ ھی خلوص سے ترقی کی چادر پہنانے کی سعی کی ـ وادی کی قسمت اور خراب کرنےمیں مقامی نمائندوں ؛ ٹمبر مافیا، ٹھیکہ دار برادری، ایموزینائیٹ مافیا اور نوکری برائے پیسہ گروپ نے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا ـقدرتی وسائل کا مخصوص گروہ نے استحصال کیا جنکو حکومتی سرپرستی اور اشیر باد ھمیشہ سے حاصل رھی ھے ـجنگلات کا قتل سرِ عام ھوا، حکومت کی نظر ان پر نہ پڑ سکی ـ ستیل مائننگ کمپنی کو تالےلگادیے گئے،عوام کو کچھ نظر نہیں آیا ـ سیاحتی مقامات کیلئے منظور شدہ زیرِ تعمیرروڈزکو ٹھیکہ دار برادری ہڑپ کرگئی ، پی ڈبلیوڈی کی بینائی ادھرتک رسائی نہ پاسکی ـ حکومتی اداروں میں ذمہ داران ، من مانیوں میں مصروف عمل رھے ـ اعلیٰ عہدیداران کو ان کی خبرتک نہ ھوئی ـسیاسی نمائندوں کو عوام نے مسائل کے حل کیلئے چنا مگر وہ وسائل کو لوٹنے کے ماھر بن گئے ـپسماندگی ،وادی میں ھرجگہ ناچتی پھرتی رھی مگر ترقی کے پاوں ھمیشہ سے پابند سلاسل رھے ـعوام کس کس کا احتساب کرے گی ـ آخرکار عوام نےھی سب کچھ کرنا ھے تو گاڑیوں پر حال اور ماضی میں لگے پاکستانی جھنڈے ، خوبصورت دفاتر میں موونگ چیئرز پہ بیٹھے حضرات ، ماھانہ حکومتی خزانے سے کروڑوں کی مد میں تنخواہ وصول کرتے حکومتی ملازمین ــ یہ سب کس لئے ھیں ؟ یہ تماشا کیا ھے؟پسماندگی کا سرکس لگاکر،ترقی کے بینرز کون آویزاں کررھے ھیں ؟گلگت بلتستان کا وزیراعلیٰ کون ھے؟ تانگیر سےتعلق رکھنے والا فارسٹ منسٹر کدھر ھیں؟ چیف سیکریٹری ، چیف جسٹس ، ایف سی این اے اور احتساب کا ادارہ ـ ؟؟؟؟؟ کیا ان سب کا دائرہ اختیار میں تانگیر نہیں آتا؟ کیا یہ سب لوگ تانگیری عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ؟ اللہ تعالیٰ ، کیا ان سے تانگیری عوام کے متعلق سوال نہیں کرے گا ـ کون ھوگا جو اس بدقسمت وادی میں ترقی کی سیڑھیاں متعارف کروائے گا ـفی الحال حکومتی اور سیاسی بےرخی سے ،نہیں لگتا کہ یہاں سے پسماندگی دور کرنے کیلئے کوئی مخلص بھی ھے ـ پسماندگی مندرجہ ذیل شرائط پر دور کی جاسکتی ھے
ـ 1ـ- وزیراعلیٰ سمجھے کہ تانگیر گلگت بلتستان کا حصہ ہے۔
-2ـ تانگیر کا منتخب نمائندہ اس بات کا احساس کرے کہ وہ یہاں کےعوام کے ووٹوں سے جیتا ھے۔
3 -ـ سیاست کو کاروبار نہ بنایا جائے۔
4۔ ـ چیف سیکریٹری ہر ھفتہ تانگیر کا دورہ کرے۔
ـ5 -ــ سیکریٹری ورکس پی ڈبلیو ڈی کے محکمے کو اپنا سمجھے اور جو کرپشن کا اتوار بازار تانگیر میں گرم ھے اسکو لگام دے ـایف سی این اے تانگیر پر خصوصی توجہ دے۔
ـ6 ـ- چیف جسٹس نامکمل منصوبوں کا ازخو نوٹس لیں۔
ـ7 -ـ تانگیر سے منسلک حکومتی تمام ذمہ داران اپنے فرائض کو خوفِ خدا کیساتھ نبھائیں مزکورہ بالا افراد و ادارے اگر چاھیں تو اک سال میں تانگیر ترقی کےعروج کو چھوسکتا ھے مگر المیہ یہ ھکہ یہ تمام ادارے اور افراد اپنی ذمہ داریوں سے مخلص نہیں ـصرف یہاں کے جنگلات اور قیمتی پتھر سے ھی اس وادی کی پسماندگی کو دور کیا جاسکتا ھے ـ نامکمل منصوبوں اور کرپٹ مافیا کا خاتمہ بھی ترقی کا ضامن ھوسکتا ھے مگر یہ ذمہ داری کس کی ؟
تحریر: عباداللہ شاہ
ضرب قلم۔۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website