” ارشد شریف کو مارا گیا مگر فائدہ کس کا”

0 0

ملک کا مایہ ناز اینکر ، ایک نڈر اور دلیر صحافی ، شہیدوں کا وارث اور ملک سے محبت رکھنے والے ارشد شریف کو گزشتہ دنوں کینیا کے شہر نیروبی میں بے دردی سے شہید کیا گیا ، ارشد شریف کی جدائی کے غم میں نڈھال انکی بوڑھی ماں اور چھوٹے چھوٹے بچے زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں ، ارشد شریف کے اچانک اس طرح بچھڑ جانا ریاست کا نقصان ہے ، اس ملک کے در و دیوار مرحوم کی یاد میں افسردہ ہیں ، یہ ارشد شریف پر گمنام گولیوں کی برسات نہیں بلکہ ریاست کے سینے پر دشمن نے ایک ایسا وار کیا ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں ، یہ بات طے شدہ ہے کہ ارشد شریف کو مارا گیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کس نے مارا ہے ؟ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ کسی بھی واقعے کی تفتیش کا کارآمد طریقہ کا اندازہ اس واقعے کے بعد جانے والے فائدہ سے لگایا جا سکتا ہے، اہم سوال یہ ہے کہ ارشد شریف کی موت کا فائدہ آخر کس کو گیا ؟ ؟ ایک محب وطن ، محب فوج اور محب ریاست ارشد شریف جس نے اپنی ادا اور صدا میں ہمشہ پاکستان کو مقدم رکھا، جس نے ہمشہ ریاستی بیانیے کو سپورٹ کیا ، جس نے ایک شہید باپ اور شہید بھائی کو ملکی سلامتی کی وردی سمیت پاکستان کے پرچم میں لپٹا کر سپرد خاک کیا ، پاکستان میں حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد بھی ارشد شریف نے فوج پر بطور ادارہ تنقید کبھی نہیں کیا، اس نے انفرادی شخصیات پر تنقید کی اور یہ اتنا بڑا جرم تو نہیں ہے ،کیا ایسے کم لوگ ہیں جو روزانہ اداروں سمیت اداروں سے منسلک افراد پر پاکستان میں ہی بیٹھ کر تنقید کرتے رہتے ہیں ؟ مگر ایسا انجام تو کسی کا نہیں ہوا ہے ؟ بھارتی ایجنسی ” را” کے اہم مقاصد میں سے ایک بڑا ہدف یہ بھی ہے کہ وہ پاکستانی عوام اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرے اور اس مقصد کے لیے وہ اپنے مختلف اہداف کا چناؤ کرتا ہے اور اس کے حصول کیلئے اپنے دوست ممالک کا سہارا بھی لیتا ہے ، لگتا ایسا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کو یہ معلوم تھا کہ ارشد شریف کا بیانیہ بہ ظاہر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ اہم شخصیات کے خلاف ہے اور انہیں رستے سے ہٹانے پر پاکستان کی کثیر سادہ لوح عوام قتل کا سوال اپنے محافظوں سے پوچھیں گے، بہت زیادہ ممکن ہے کہ ارشد شریف کو بھارتی ایجنسیوں نے پاکستانی عوام اور فوج کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کیلئے رستے سے ہٹایا ہو ؟ ، ویسے بھی کینیا بھارتیوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ ہے ، بھارت کینیا کا چھٹواں بڑا ٹریڈ پارٹنر ہے اور 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت نے 299.33 ملین ڈالر کی ادویات، 264.40 ملین ڈالر کی گاڑیاں ، 242.03 ملین ڈالر کی مشینری و نیوکلیر ریکٹرز اور 199.32 ملین ڈالرز کی لوہا اور سٹیل کینیا کو درآمد کر چکا ہے، کینیا بھارت کی بڑی برآمدی مارکیٹ ہے اس کے علاؤہ بھارت سائینس و ٹیکنالوجی ، دفاعی سیکٹر و دیگر میں کینیا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے جبکہ بھارت101 کینیائی اسٹوڈنٹس کو سالانہ انڈین ٹیکنیکل کوآپریشن پروگرام کے تحت اسکالرشپس دیتا ہے،اس کے علاؤہ 2019 میں بھارت نے بمبئی سے نیروبی ہوائی سروس کا آغاز کیا ہے، زیم بنک آف انڈیا ( Exim bank of India) نے کینیا کی نیشنل گرڈ کی مرمت کیلئے 61 ملین ڈالرز کا قرض بھی دے چکا ہے ، بھارت کینیا کی پولیس سمیت مقتدر اداروں پر اپنا موثر اثر و رسوخ رکھتا ہے اور کینیا کی کل ابادی میں دیگر ممالک کے رہائشیوں میں سب سے زیادہ تعداد میں انڈینز آباد ہیں ایسے میں ہم کینیا کی پولیس پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں کہ وہ سچ بولیں اور کہیں کہ ہم نے ارشد شریف کو غلطی سے مارا ہے ، کینیا کی پولیس اعتراف جرم کر چکی ہے مگر اس پولیس کے پیچھے کون ہے ؟ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم ففتھ جنریشن وار فئیر کا شکار ہو کر اپنے اداروں اور اسٹیبلشمنٹ پر سات سمندر پار بیٹھ کر انگلیاں اٹھا رہے ہیں مگر حقائق اس کے برعکس ہیں، ارشد شریف کی شہادت پر بھارتی ایجنسی کے کچھ اہلکاروں کے ملوث ہونے کی حقیقت کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ اس واقعے کا فائدہ دشمن کو گیا اور ہم ادھر آپس میں ایک دوسرے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے الجھ رہے ہیں اور ارشد شریف کی موت کا نقصان پاکستان کو ہے ، پاکستانی عوام کا اور اداروں کا ہے شہید اس ملک کا ایک سرمایہ تھے، اللہ انہیں کروٹ کروٹ سکون اور پسماندگان کو صبر و جمیل کی دولت عطا کرے۔ امین

تحریر : فیض اللہ فراق

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website