وی سی کا معاملہ صرف آغا علی رضوی صاحب Agha Ali Rizvi کا نہیں بلکہ اس میں پڑھنے والے سینکڑوں سٹوڈینس کا مسلہ ہے ۔ خود ایچ ایس سی نے پچھلے سال اپنے رپورٹ میں کہا گیا ہے ملک میں 32 جامعات جس میں بشمول یونیورسٹی آف بلتستان بھی شامل ہیں ایچ ای سی کے مطابق یونیورسٹی آف بلتستان کے اکیڈمک کارکردگی غیر تسلی بخش ہے ۔ اور ہر کوئی کہتے ہوئے آرہے ہیں کہ وی سی کمپیٹینٹ بندہ ہے ۔کس بات کی ایکسٹینشن دی گئی ؟ کیوں دوبارہ تعینات کے لیے سرچ کمیٹی اور سینیٹ پر دباؤ ڈالا گیا ؟ کیا پاکستان میں وی سی نعیم کے علاؤہ کوئی قابل وی سی نہیں ؟ جان بوجھ کر یونیورسٹی کو بدنام کرنے ، اکیڈمک کارکردگی کو خراب کر نے اور امن کو خراب کرنے کے لیے دوبارہ تعینات کیا گیا ۔ کسی بھی یونیورسٹی میں بطور وی سی کوئی تجربہ نہیں پنجاب یونیورسٹی میں بحیثیت رجسٹرار کام کیا ہے وہاں بھی لوگوں نے بھگایا تھا ۔
بلتستان ایک حساس علاقہ ہے کچھ عوامل یہاں کے لوگوں کو تعلیم ہے میدان میں آگے دیکھنا نہیں چاہتے ۔ جان بوجھ کر یونیورسٹی کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے ۔ امید ہے یہاں کے سٹیک ہولڈرز ملکر متنازعہ وی سی اور رجسٹرار کو ہٹا کر ایک قابل وائس چانسلر اور رجسٹرار کے تعینات میں کردار ادا کرینگے ۔ جو حضرات وی سی کو فرشتہ ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں انکے لیے کچھ مواد جو آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے اپنے رپورٹ 2020 -2021 میں شائع کیا گیا تھا شئیر کر رہا ہوں ۔
آڈیٹر جنرل پاکستان کے رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر نعیم کے کارنامے ۔
یہ یونیورسٹی آف بلتستان ہے ۔ یونیورسٹی کے دیکھ بھال ہمیں اچھی طرح کرنا آتا ہے ۔ لیکن کسی کو اپنے جاگیر بننے نہیں دونگا ۔
کیمپ آفس کے لیے غیر قانونی 59 لاکھ 45 ہزار خرچ کئے ۔جیسے خود کو صدر پاکستان سمجھا ہوا ہے۔
خود کی ذاتی عیاشوں کے لیے 46 لاکھ روپے خرچ کئے ۔
غیر قانونی بھرتیاں ۔
سینڈیکیٹ ممبر کی غیر قانونی تقرریاں
ٹریجری آفیسر کی غیر قانونی تقرری
رجسٹرار کی غیر قانونی تقرری
اکیڈمک کونسل کی غیر قانونی تقرریاں
سرٹیفائیڈ آڈٹ رپورٹ سینیٹ ممبر کو 13 (ڈی) سیکشن کے مطابق جمع کرنا تھا جو کہ نہیں کیا گیا ۔
ٹریجری کی پوسٹ کے اہلیت کے لیے امیدوار کا متعلقہ فیلڈ میں 12 سال تجربہ اور ایم بی یا کامرس فیلڈ سے ہو ۔ لیکن جس بندے کو تقرر کیا گیا وہ صرف سمپل ایم بی اے تھا
سینیٹ کی اجلاس کے لیے کورم کے لیے 1/3 ہونا ضروری ہے لیکن سپیشل یونیورسٹی آف بلتستان کے 50 فیصد الاؤنس کے لیے 19 میلین رکھا گیا ۔ جس میں سینیٹ کا کورم پورا نہیں تھا ۔
یونیورسٹی کے ریکارڈ کے مطابق کل فیس 62 میلین جمع ہوئی لیکن بینک میں صرف 45 میلین ڈپوزٹ کیا گیا جبکہ 17 میلین کی کوئی ریکارڈ نہیں ۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟