عوام گلگت بلتستان وزیر آعظم پاکستان،
چیف آف آرمی اسٹاف۔
ڈی جی آٸی ایس آٸی،
وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان،
چیف جسٹس سپریم اپلیٹ کورٹ،
ڈاٸریکٹر ایف آٸی اے،
چیف سیکرٹری گلگت بلتستان،
فورس کمانڈر گلگت بلتستان،
چیف جسٹس چیف کورٹ گلگت بلتستان
وہ دیگر حساس اداروں سے عوام دیامر درخواست کرتے ہیں کہ فوری طور پر اعلی سطح انکواٸری کرکے تتہ پانی متبادل روڈ اور سٹیل بریج کے نام پہ 41 کروڑ کی کرپشن کی تیاری ہورہی ہے اس میگا کرپشن کو روک کر قوم پر اور اپنے اوپر احسان عزیم کریں یہ ملک وہ قوم دونوں کی مفاد میں ہے۔
اس کے ساتھ تتہ پانی متبادل روڈ کے بارے میں بھی تفصیل سے بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ تتہ پانی متبادل روڈ جہاں پہ متبادل روڈ اور سٹیل کی بریج کا جو ایک میگا ٹینڈر ہوا ہے۔اس جگہ پہ پہلے سے ہی واپڈا کا منظور شدہ پری فیری روڈ ہے جس پہ واپڈا والوں کے طرف سے ڈیم ساٸیڈ پہ کام تیزی سے جاری ہے۔متبادل ساٸیڈ سے واپڈا کا پری فیری روڈ بناکر فارم کراس کیا ہے اور بہت ہی جلد راٸیکوٹ پل تک پہنچ جاٸے گا۔عرصہ دراز سے یہ روڈ نہیں بناکر عین اس وقت متبادل روڈ بناکر قومی خزانے کو کروڑں کا چونا لگانے کی کیا ضرورت تھی؟
اگر وزیر اعلی صاحب اس روڈ کو ایمر جنسی صورت میں بنانا ضرری سمجھتا تھا تو تو پھر وزیر اعل صاحب نے واپڈا والوں سے پری فیری روڈ اس طرف سے جلد تعمیر کیوں نہیں کروایا؟ اس سے 41 کروڑ روپیے بھی بچ جاتے اور متبادل روڈ اور پل بھی بن جاتے۔
حالانکہ اس روڈ کے جس ٹھیکدار کو ٹینڈر ہوا اس کے تعمیر ہونے سےپہلے واپڈا والوں کے طرف سے پری فیری روڈ مکمل ہونا ہے۔
اور یہ جو 41 کروڑ کی مد میں جو ٹینڈر ہوا یہ تو ڈیم کے پانی میں ڈوب رہاہے۔
اس سارے کہانی سے یہ لگ رہاہے موجودہ وزیر اعلی اس کے ٹیم اور جو متعلقہ چیف انجنٸر ہے سب مل کر عوام کو لولی پوپ دیکھا کر 41 کروڑ روپے میگا کرپشن کی تیاری کررہےہیں۔
اس کے ساتھ ہی ایک اور انکشاف بھی ہوا ہے وزیراعلی کی اس ٹیم نے ٹینڈربھی اپنے راز دار ٹھیکدار کے نام کرانے میں بھی کامیاب ہوٸے، اس غیر قانونی ٹینڈر کے خلاف پی ٹی آٸی والوں نٕے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔
اس میگا کرپشن اور گٹ جوڑ کو روکنےکےلیے عوام دیامر سڑکوں پہ نکلنا ہوگا۔
واضح رہے جب سے قراقرم بنا ہے تب سے تتہ پانی گلگت بلتستان والوں کےلیے موت کا کنواں ثابت ہوا ہے۔اور پورے گلگت بلتستان والوں کا یہ مطالبہ تھا کہ تتہ پانی متبادل روڈ بنا کر آسانی زندگی بچاٸے جاٸے لکین صدا افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہر وقت رکاوٹ FWO بنی انہوں نے عوام کی اپیل کو آن سنی ہوکر اس متبال روڈ بنانے بالکل توجہ نہیں دی۔توجہ کیوں دیتے (ایف ڈبلیو او) تتہ پانی روڈ کی مد میں سالانہ کروڑ روپیے ہڑپ کرلیتے۔
اب جاکے 2021 میں ان کو ہوش آیا کہ پری فیری روڈ واپڈا کے طرف سے بن رہا ہے۔ایسے وقت میں 41 کروڑ جیسے خطیر رقم کو تتہ پانی کے نام پہ ضاٸع کرنا جو کہ نہ ملک کے فاٸدے میں ہے اور نہ ہی قوم کے مفاد میں۔۔۔۔۔۔۔
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔ضیإاللّٰہ گلگتی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟