… آہ.آج کےپی این کےبانی وچیف ایڈیٹر راجہ حسین خان مقپون مرحوم کی دسویں برسی منائی جارہی ہے گلگت بلتستان بھرسمیت روالپنڈی اسلام میں کے پی این کےدفاترمیں قرآن خوانی کی جائےگی اورمرحوم کےدرجات کی بلندی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی اوران کی اعلی صحافتی سیاسی اورسماجی خدمات پر روشنی ڈالی جائےگی اورانہیں خراج عقیدت پیش کیاجائےگا راجہ صاحب کےانتقال کودس سال گذرگئےمگراحساس نہیں ہواکہ گلگت بلتستان میں مذاحمتی صحافت کےبانی کو ہم بچھڑے دس سال گذرگئے اورآج ہم ان کی دسویں برسی بھی منارہے ہیں مرحوم کی صحافتی خدمات کی بات کی جائے تو یہ کہنابےجاء نہ ہوگاکہ وہ گلگت بلتستان میں مذاحمتی صحافت کے بانی تھے انہوں نےاپنی پوری زندگی مذاحمتی صحافت کی آبیاری کیلئے وقف کردی مرحوم کی ڈکشنری میں ڈروخوف نام کی کوئی چیزنہیں تھی وہ جو کہتے تھے کردکھانے کےعادی تھے ان کی زندگی میں انہیں کبھی بزدلی کامظاہرہ کرتے ہوئے یا جی حضوری اور چاپلوسی کی صحافت کرتے نہیں دیکھا انہوں نےہمیشہ مذاحمت کی صحافت کی یہاں تک کہ انہوں نے قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں لیکن اصولوں پرکبھی کوئی سمجھوتہ نہ کیاحکمرانوں کے ساتھ راجہ حسین خان مقپون مرحوم اور ان کےادارے کاہمیشہ ٹکراو رہا جمہوریت کا نعرہ لیکر اقتدار میں آنےوالی کئی حکومتوں نے روزنامہ کےٹو اوراس کےبانی وچیف ایڈیٹر راجہ حسین خان مقپون مرحوم کو ذہنی کوفت پہنچانے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑی یہاں تک کہ راجہ حسین خان مرحوم کےادارے(روزنامہ کےٹو نقارہ اوروادی)کےسرکاری اشتہارات بندکرکےاس اہم اشاعتی ادارے کو بلیک میل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور کوئی موقع ہاتھ سےجانے نہ دیا سرکاری اشتہارات کی بندش کے علاوہ کےپی این کےدفاترپر بھی حملے کرائے گئے اس ادارے سے منسلک لوگوں کومعاشی طورپر غیرمستحکم کرنے کے ہرحربے استعمال کئےتمام تردباو کے باوجودراجہ حسین خان مقپون مرحوم مذاحمتی صحافت کے میدان میں ایسے کھڑےرہے جیسے میدان جنگ میں شدیدچوٹیں آنےکےباوجود زخمی سپاہی کھڑا رہتا ہےمالی طورپر شدید نقصانات پہنچانے کےباوجود بھی راجہ حسین خان مقپون ثابت قدم رہے ایسانہیں تھاکہ وہ چاپلوسی کی صحافت کرکے اسپانسر لیتے تھے 2012 میں راجہ حسین خان مقپون کی حادثاتی موت اور 2017 میں ان کے دیرینہ ساتھی نامورصحافی سید مہدی شاہ مرحوم کے انتقال کےبعد تو گلگت بلتستان میں صحافت اسپانسرشپ پر ہونے لگی یہ تلخ حقیقت ہےکہ یہاں اب صحافت نہیں بلکہ صحافت کےنام پر کاروبارہونے لگاہے یہ کہنا بےجاء نہ ہوگاکہ یہاں اس وقت اسپانسرڈ جرنلزم ہورہی ہے بعض لوگ صحافت کا لبادہ اوڑھ کر اداروں کےپی آر آو کی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں اس وقت مذاحمتی صحافت دور دور تک بھی نظر نہیں آتی آج کل صرف انہی لوگوں کی واہ واہ ہے جو اسپانسرڈ صحافت کرکےزرد صحافت کی بدترین مثالیں قائم کررہے ہیں ان لوگوں کو مکمل طورپر دیوارسے لگادیاگیا ہے جو مذاحمتی کی سعی کرتے ہیں اب تو صحافت یہاں تک قابل رحم ہوگئی ہےکہ لوگ اس سے وابستہ افراد سے نفرت کرنے لگے ہیں انتظامی وسائل بھی انہی لوگوں پر صرف کئے جاتے ہیں جو چاپلوسی کی صحافت کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے مذاحمتی صحافت کرنےکی کوشش کرنےوالے صحافی زیر زمین چلے جاتے ہیں ان کی معاشی حالت قابل رحم ہوتی ہے اس وقت ان لوگوں کی چمک ہے جو یا تو صحافت کا لبادہ اوڑھ کر کسی ادارے سے خفیہ تنخواہ لے رہے ہوتے ہیں یا صحافت کا سہارا لیکر مختلف تقریبات کےنام پر اسپانسرلے رہے ہوتے ہیں راجہ حسین خان مقپون مرحوم کی دسویں برسی کےموقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے طرز صحافت کوبھی اپناناہوگا جب تک راجہ حسین خان مقپون مرحوم اور سید مہدی مرحوم کےطرز صحافت کو اپنایا نہیں جائےگا اور اسپانسرڈ جرنلزم کو پس پشت ڈالانہیں جائےگا تب تک صحافی اپنا کھویا ہوا مقام ہرگز حاصل نہیں کرپائیں گے اگر صحافت سے وابستہ افراد نے اپنا کھویاہوا مقام حاصل کرنا ہے توانہیں سب سے پہلےان لوگوں کو کچل دینا ہوگا جو صحافت کےنام پر تماشہ کررہے ہیں یہاں اسپانسرڈ جرنلزم کررہے ہیں جب تک اسپانسرڈ جرنلزم کرکے صحافت کی بدنامی کاباعث بننےوالوں کو کچلا نہیں جائےگا اورایسے کالی بھیڑوں کےخلاف جدوجہدنہیں کریں گے تب تک صحافی باوقار زندگی گذار نہیں پائیں گے اور معاشرے میں اپنا کھویاہوامقام حاصل نہیں کرسکیں گے
تحریر محمد اسحاق جلال
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟