عبوری صوبہ اور عوامی اہم مطالبات

0 0

جنگ آزادی کے بعد ڈوگروں کو شکست دے کر اپنی مدد آپ بلا مشروط پاکستان سے الحاق ہونے والا دنیا کا واحد خطہ گلگت بلتستان ہے جسے ستر سالوں سے سوتیلی ماں جیسے سلوک کر رکھا ہے ۔کبھی کراچی معاہدہ تو کبھی سرتاج عزیز کمیٹی تو کبھی ثاقب نثار کی  ہمدردی اور اب سپیکر کمیٹی مطلب یہاں کے عوام جس طرح سادہ لوح اور شریف ہے اس کا پورا پورا فایدہ لیا جا رہا ہے ۔

یہاں بنیادی سہولیات ناپید ہے۔حکومت آزاد کشمیر کے دریاؤں کے پانی کے استعمال پر وفاق کو سالانہ اربوں روپے دیتی ہے لیکن مجال ہے کہ باڈر ایریا سے بہتے دریا سندھ جو گلگت بلتستان سے بہتے ہوے ادھا پاکستان کو سیراب کرتے ہے ۔پاکستان حکومت یہاں کے عوام کو دریاوں کی مد میں کچھ نا دے سکتی تو کم از کم یہاں ہر پانچ کلو میٹر پر ڈیم بنا کر وافر مقدار میں بجلی پیدا کر کے نیشنل گرڈ کو دے کر اربوں روپے کما سکتا ہے نا حکومت خود کام کرتے ہے اور نا ہی دلچسپی رکھنے والے ملکوں کو کام کرنے دیتے ہے اسی طرح یہاں کے پہاڑوں میں چھپے اربوں کے معدنیات جن سے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کا تقدیر بدل سکتا ہے اس پر بھی کوی کام نہیں کر رہا یہ علاقہ پچھلے کٸ سالوں سے بیرونی و اندورنی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بناہوا ہے سیاحت کو پروموٹ کر کے یہاں سے کما کر ملکی اکنامی مضبوط کر سکتا ہے ۔

دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر مہم جوئی کیلے آنے والے کلایمرز سے بھی کما کر سیاحت کے شعبے میں مزید  ترقی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چاینہ پاکستان اکنامک کوری ڈور منصوبہ جس کا ایک اہم فریق گلگت بلتستان بھی ہے ۔گلگت بلتستان کے کٸ میلوں زمین اس اہم منصوبے میں استعمال ہو رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اس اہم خطے کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے واضح رہے سی پیک روٹ سے ایک منٹ میں چالیس ہزار سے زیادہ گاڑیاں گزرنا ہے جن کی دھواں سے یہاں کےپانچ ہزار سے زیادہ گلیشرز کو شدید نقصان ہو سکتا ہے اور گلوبل وارمنگ کا خطرہ سمیت مستقبل میں سیلاب اور دیگر تباہی بڑھ سکتا ہے ان معاملات پر گلگت بلتستان کے رہنماوں کی خاموشی بھی لمحہ فکریہ ہے ۔

عمران خان کی جب سے حکومت آی  اب تک صرف گلگت بلتستان کے خوبصورت مقامات کے تصاویر سوشل میڈیا پر لگانے کے علاوہ عملی طور پر کچھ نہ کیا۔پاکستان حکومت گلگت بلتستان سے مخلص ہے تو ان تین شعبوں میں کام کروا کر یہاں سے اربوں روپے کما کر گلگت بلتستان سمیت پاکستان   کو خود کفیل بناے ۔بہت سے حکومتیں گزرے تاہم کسی بھی جماعت نے آج تک سواے بلند بانگ دعوں کی کچھ نہ کیا ۔

گلگت بلتستان جب تک  عبوری صوبہ رہے تمام وفاقی ٹیکسز کا مکمل خاتمہ کا جاے ۔یہاں کے زمینوں کا واحد اختیارات صوبے کو دیا جاے ۔چونکہ یہاں بے روزگاری کی وجہ سے یوتھ اب خودکشیاں کر رہے ہیں گلگت بلتستان ٹیسٹنگ سروس بنا کر زیر التوا تمام پی سی فور پر کام کیا جاے ۔ مقامی پڑھے لکھے جوانوں کو اعلی گریڈ تک رسای ممکن بناے جاے ۔ حق حاکمیت حق ملکیت پر حقیقی معنوں میں عمل کیا جاے۔پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں کوٹہ حد میں اضافہ کیا جاے ۔گندم سبسڈی بڑھایا جاے   ان تمام معاملات پر جب تک عمل نہ کرے عبوری صوبہ بنانے اور اس کی حامی جو بھی ہے میر صادق اور میر جعفر کہلاے گا نام کا عبوری صوبہ اور چند مفاد پرستوں کو ایوانوں تک رسای کو ہم کبھی تسلیم نہیں کرینگے۔

پچھلےدو سالوں سے نیا ڈرامہ عبوری صوبہ بنانے کا وعید سنا کر ایک بار پھر عوام کو ماموں بنایا جا رہا ہے تاہم عبوری صوبہ بنانے سے بہتر تھا کہ کشمیر طرز سٹ اپ ہی دیتے جو بھی ہو عبوری صوبہ بناے تو بھی اچھا ہے کچھ نا ہونے سے کچھ ہونا بہتر ہے ۔لیکن عبوری صوبہ بنانے کیلے ہمارے مقامی ماہرین سے مشاورت کر کے ان کی بھی راے شامل کیا جاے تاکہ کراچی معاہدہ جیسی ڈرامہ بازی نہ ہو ۔باقاعدہ گلگت بلتستان گرینٹ جرگہ بلا کر ان سے پوچھا جاے کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور ان کی ڈیمانڈ کے تحت یہاں کے عوام کو پیکج دیا جاے ۔ خارجہ پالیسی سمیت دیگر اہم معاملات کے اختیارات وفاق کو دے کر باقی تمام تر اختیارات صوبے کو منتقل کرنے کا معاہدہ کیا جائے جو کہ داخلی خودمختاری کیلے اہمیت کی حامل ہے۔

ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کیلئے آئین کے آرٹیکل ون، آرٹیکل اکیاون اور آرٹیکل 257اور 258 میں ترامیم کرنا لازمی ہے مختصر آرٹیکل اکیاون قومی اسمبلی کی نشستوں اور صوبوں میں ان کی تقسیم کے حوالے سے ہے،  258 صوبوں سے باہر کے علاقہ جات کے نظم و نسق سے متعلق ہے۔یعنی وہ علاقے جو پاکستان کا حصہ تو ہیں لیکن کسی صوبے کے ساتھ نہیں ۔گلگت بلتستان اسی آرٹیکل کے ساتھ پاکستان میں شامل ہے اور گورننس آرڈر اسی آرٹیکل کے تحت یہاں نافذ ہے۔آئین میں ترمیم کیلئے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔اور آرٹیکل 257 ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے ہے ۔ امید ہے پاکستان حکومت اس دفعہ باقاعدہ اسمبلی سے دو تہای اکثریت لے کر جی بی کو مثالی عبوری صوبہ بنا کر یہاں کے اباو اجداد کی پاکستان کیلے دی ہوی قربانیوں کا صلہ دینگے ۔ پاکستان زندہ باد

تحریر مظاہر حسین ہلال آبادی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website