بزداروں کی اکثریت گلگت بلتستان کا مستقبل کیا ہوگا؟

0 0

خاندان بچے کی پیدائش سے لے کر آخری عمر تک کا سب سے بڑا اسکول ہوتا ہے جہاں بچے کی تربیت ہوتی ہے اگر کسی لمحے یہ تربیت نہ ہوتو معاشرتی زندگی سنوارنے کے بجائے بگڑنے لگتی ہے چاہیے جتنی ڈگریاں انکے گلے میں ڈال دیا جائے کچھ فرق نہیں پڑتا ہے انڈسٹریل انقلاب سے پہلے انگلستان میں ایک خطرناک سماجی مسلہ پیدا ہوا تھا جسکو برطانوی سماجی علوم میں جنریشن گیپ کے نام سے پڑھا جاتا ہے اور وہ واقعی میں ایک بہت بڑا مسلہ تھا لیکن ہر مسلے کا تعلق عوام سے اور سماجی زندگی سے ہوتا ہے لیکن محسوس ہر بندہ نہیں کرسکتا ۔۔۔اگر محسوس کرتے بھی ہیں تو مفادات اور مشکلات کی وجہ سے اس مسلے پر بولنے والوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے یہ آج تک انسانی تاریخ کی ایک تلخ حقیقت رہی ہے اور دکھ اس وقت بڑھ جاتا ہے جب لوگ میڈیا میں یا ماس کمیونیکیشن کے پلیٹ فارم میں مخالفت کرتے ہیں اور سماجی محافل میں آپ کے کام کی تعریف کرتے ہیں اور اپنی مجبوریوں کا زکر کرتے ہیں جو کہ بہت بڑا کلکولیٹیڈ طوفان سے بھی زیادہ خطرہ ہے ۔۔۔اج کے گلگت بلتستان میں تعلیم کی کمی نہیں میرا یہاں تعلیم سے مراد ہمارے لحاظ سے ہے یعنی ہم جس طرح کے لوگوں کو تعلیم یافتہ کہتے ہیں جن کے پاس ڈگری ہو لیکن یونیورسل تعریف اس کے برخلاف ہے اور میرا بھی یقین ڈگری والے تعریف پر نہیں ہے بلکہ میں اکثر اوقات بلکل ان پڑھ لوگوں کو پڑھے لکھے لوگوں سے بہتر سمجھتا ہوں اور ڈگری کو ڈگریاں حاصل کرنے کے دوران دیے گئی اخراجات کی رسیدیں سمجھتا ہوں کیونکہ تعلیم انسان کے اندر شعور پیدا کرتا جو کہ اخلاقیات اور انسانی حقوق اور اجتماعی مفادات کے روائے بنانے میں کردار ادا کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے یہ جھلک دیکھی نہیں جاسکتی ہے تو ہم تعلیم یافتہ کہنے سے قاصر ہوں گے۔۔ گلگت بلتستان کو ایک سماج کے طور پر دیکھا جائیں تو وہاں تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ بہت دیر سے شروع ہوا یعنی تیسری نسل بہت کم خاندانوں میں پڑھی لکھی ہوگی ۔۔اکثریت پہلی نسل پڑھ رہی ہے اور اللہ کریم کریں کہ یہ سلسلہ بہت اچھے سے حقیقی معنوں میں جاری رہے ۔۔۔گلگت بلتستان میں اس وقت جنریشن گیپ کا دور چل رہا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ کوئی محسوس نہیں کر رہے ہیں۔۔فیملی سب سے بڑے اسکول 🏫 کے طور پر مکمل ناکام ہوگیا ہے اور دوسرا بڑا پر اثر ادارہ مزہبی اسکول بھی ناکام ہوگئے جسکی وجہ سے معاشرتی گیپ اس وقت جزیرے کی طرح ہوگیا ہے یعنی زمین پر سفر کرنے والا بحری سفر کے دوران اتر کر آگئے بڑھے گا یعنی خلا اتنا زیادہ ہوا ہے ۔۔۔۔گلگت بلتستان میں جو تبدیلی آئی اسکی وجہ والدین کا اکثریت ان پڑھ ہونا اور تعلیمی اداروں کی علاقے میں نہ ہونا سب سے اہم مسلہ ہے یعنی بچپن سے بچوں کا والدین سے دور ہونا اور ایسے معاشروں میں پروارش ہونا جہاں اخلاقیات اور سماجی اقدار کی گنجائش کم مال و دولت اور عہدے و سروت کا اثر کلیدی کردار سازی کا عمل ادا کرتا ہے جیسے لاہور کراچی اور دیگر علاقوں کی معاشرت میرا مطلب ہے والدین سے دوری اور مرضی کی زندگی گزارنے کے بعد اگر یہ بچے واپس آتے ہیں تو اپنے ساتھ تہذیب اقدار اخلاقیات نہی بلکہ تمہ لالئیچ اور ایک خاص قسم کی مفاداتی طرز ذہنیت لاتے ہیں جسکو عقلمندی ہوشیاری کے کور میں ڈال کر علاقہ پرستی اور کچھ بھی کرنے سے دور نہیں ہٹتے ہیں جسکی ایک مثال فیسبک ہے وہاں جو نفرت پھیلائی جاتی وہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی ہی ہے اس میں ان پڑھ اور پہلی نسل کے پڑھے لکھے افراد شامل نہیں ہے ۔۔۔ اور یہ مفاداتی گروہ سماجیات اور اخلاقیات سے خالی آگئے بڑھ رہے ہیں جسکی وجہ سے علاقائی رنگ زبان نسل پرستی کی بنیاد پھر سے بڑھنے لگی ہے جو کہ بہت افسوسناک ہے دوسرا ایک اور خطرناک پہلو پڑھے لکھے نوجوانوں کا سطحی سوچنے کا عمل یعنی سنی سنائی باتوں پر عمل درآمد کرنا اور آگئے بڑھنا شروع ہوگیا ہے فیتھ جنریشن وار صرف ممالک کے درمیان نہیں ملکوں کے اندر اسٹبلشمنٹ عوام کے ساتھ لڑ رہی جوکہ بحثیت مجموعی وسائل کی جنگ ہے بلوچستان والوں کے مطالبات آج بھی آزادی نہیں انکی زمینوں پر قبضے جو کہ ناجائز ہیں اور حکومت کرنے کا حق مانگتے ہیں جوکہ ملکی سالمیت اور استحکام جیسے موٹے موٹے الفاظ کی مدد سے رد کیا جارہا ہے اور طاقت کے زور پر خاموش کرنے کا عمل جاری ہے جس میں لوگوں کا اغوا قتل اور جنگی حربوں کا استعمال جیت کے لئے جاری ہے یعنی ریاست اور عوام کے درمیان جنگ کی ایک مثال اسطرح گلگت بلتستان میں وہاں کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کی صورت میں جاری ہے گلگت بلتستان کے عوام نے آزادی حاصل کرنے کے بعد پاکستان سے الحاق کی کوشش کی جوکہ نہیں مانا گیا بہتر سالوں بعد آج چین کی ضروریات سی پیک کے لیے پوری کرنے کے لیے عبوری صوبے کا منجن تیار کیا گیا تھا جوکہ مقامی لوگوں نے مسترد کردیا لیکن لیڈرشپ کے نام پر وہاں جو منڈی لگائی جاتی ہے اس دفعہ وہاں پر بزداروں کی اکثریت جمع کیا گیا ہے شاید اسٹبلشمنٹ کے منصوبے کچھ خاص ہیں تو اسطرح کے لوگوں سے ہی کام لیا جاسکتا جسکی ایک تازہ مثال فرینٹیر کانسٹبلری کی گلگت بلتستان کے جنگلات کی حفاظت کے نام پر تعیناتی کا آرڈر ہے اصل میں حکومت پاکستان (اسٹبلشمنٹ) بڑے پیمانے پر گلگت بلتستان میں زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے مقامی پولیس پر اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے ایف سی کو تعینات کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ عوام کی طرف سے ممکنا مزاحمت کو طاقت کے ذریعہ کریش کیا جائیں!!! جو کہ ایک احمقانہ کام ہوگا!!! گلگت بلتستان اور بلوچستان میں ایک بنیادی فرق ہے بلوچستان پاکستان کا قانون حصہ ہے گلگت بلتستان ایک متنازعہ حیثیت والا علاقہ ہے جس کا مطلب یہ کہ اس علاقے پر قبضہ یا زبردستی بہت مہنگا ہوگا یعنی پاکستان کا درینہ تعلقات والا ملک چین گلگت بلتستان کے ذریعے پاکستان بکا ہمسایہ ملک بنا ہو ورنہ دونوں کی عملا کوئی سرحد نہیں ملتی ہے جوکہ بحثیت مجموعی دونوں ملکوں کے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اسطرح گلگت بلتستان کے لوگوں کی اہمیت کم زمین کی اہمیت زیادہ ہے جس کے لیے پاکستانی اسٹبلشمنٹ دن رات سازش کرنے میں مصروف ہے۔۔ فرقہ وارنہ فسادات کرانے میں یہی وجہ کار فرما تھی اسطرح مقامی آبادی کو تقسیم کرنے کا کام بہتر انداز میں کیا گیا اور آج بھی اسٹبلشمنٹ کا سب سے بڑا راکٹ یہی فرقہ وارنہ نظریات کی ضرورت سے زیادہ تراوئج ہے جو کہ ہر شخص کو پتہ ہے اور اب سمجھ کر مفادات لینے کے لیے لوگ اسٹبلشمنٹ کے استعمال میں ہے جو کہ آہستہ آہستہ کم ہورہا ہے ۔۔۔ اس عمل میں زیادہ تر مذہبی گروہ اور بےروزگاری سے تنگ پڑھے لکھے لوگ شامل ہیں جوکہ جنریشن گیپ میں اخلاقیات سے خالی ڈگری یافتہ نوجوانوں کی وجہ سے ہے ورنہ گلگت بلتستان کا کوئی سمجھدار فرد گھر میں آگ لگانے کے بالکل حق میں نہیں ۔۔۔ اس وقت شعوری ارتقاء کا سفر جاری ہے لیکن مفادات لوگ یہاں پر بھی بہت بڑی روکاوٹ ہیں جوکہ ڈبل سواری ہیں مفادات کے لیے پاکستانی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ دلی طور پر گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ جسکی وجہ سے ایک آدھ دفعہ انکے منہ سے بھی اسی باتیں نکلتی ہیں جسکو نیشنلزم کا نام دیکر لاشعور عوام کے لیے گناہ کبیرہ بنایا ہوا ہے حالانکہ حقوق و مفادات اجتماعی کی بات کرنا کوئی غلط نہیں ۔۔۔گلگت بلتستان میں دیا ہوا واحد گندم جو کہ سبسیڈی کے ساتھ ہے کسی وقت وہاں کی قسمت بدل دیے گا میری دعا ہے اسٹبلشمنٹ اسکے ساتھ چھیڑتا رہے تاکہ لوگوں کا ڈر ختم ہو اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اتفاق سے بات کریں سماج تو سب کا ہے فیتھ جنریشن کا جہاز آج کل بگاڑا ہوا منصوبہ لیکر روز گلگت بلتستان کا سفر کرتا ہے لیکن کامیابی ہر گزرے دن کم ہورہی ہے اندھر چنگیزی نسل زور لگا رہے ہیں کہ وعدہ پورا کیا جائے ایک متنازعہ علاقے کو سی پیک کا گیٹ واے نہیں رکھ سکتے ویسے بھی سی پیک کا آخری آرام گاہ جنگ کے ماحول میں ہے تو بلوچستان اور گلگت بلتستان کو اسٹبلشمنٹ زمینی اہمیت کی سزا دے رہی ہے تاکہ علاقے پر تسلط قائم ہوجائے کاروباری مراکز ہونگے پنجاب کے لیے تاکہ اصل پاکستان کی ترقی نہ روکے ویسے بھی باقی صوبوں کی عملا کوئی اہمیت نہیں بس جیغرافی کی وجہ سے شامل ہیں نقشے میں عملا تو پنجاب پاکستان ہے جس کا خواب سیالکوٹی اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھا تھا اب یہ فرشتے ہی بتا سکے کہ اقبال رحمۃ اللہ نے یہی خواب دیکھا تھا یا اسٹبلشمنٹ نے ایڈیٹنگ کرکے تبدیل کیا ؟ مجھے تو گلگت بلتستان کے لوگوں کا فکر ہے جو ڈگریاں حاصل کرتے ہوئے آسمان کو چھو رہے ہیں سوچ اور فکری سطح گول گپے والے بوائے سے بھی کمزور ہیں ۔۔۔
سوالات اور جوابات اور بھی ہیں پہلے یہ کچھ پڑھ کر مجھے برا بھلا کہو ہوسکتا جنگلات کی وجہ سے ایف سی ڈیمز کی وجہ سے رینجرز اور ایک دن علاقے کی خوبصورتی کی وجہ سے پاکستان والے کہیں یہاں سے نکل جاؤ ورنہ رینجرز اور ایف سی کی گولیاں تو ختم ہی نہیں ہوتیں کیونکہ وہ تعصب اور نفرت کے آگ سے بنے شعلہ ہیں جو اسٹبلشمنٹ کی میوزک پر انسانیت کا قتل عام کو چنے والے نشتے کی طری مزے دار خوراک سمجھتے ہیں ایف سی اگر اتنے کام کے ہیں تو بلوچستان میں بے گناہ ہزارہ برادری کے قاتلوں کیوں نہیں ڈھونڈتے جو بیس سال سے قتل عام کا شکار ہیں جو انسان کی حفاظت نہیں کرسکتےوہ درخت 🌲 جیسے بے زبان جاندار کی کیا حفاظت کرینگے پر ہاتھی کے دانت والی کہاوت محاورے کے ساتھ مجھے اجازت دو اب یہ باتیں کرنا بھی بہت بڑا جرم بن سکتا کیونکہ ہم امریکہ جو آئے بیھٹے ہیں غدار قرار دینے کا آسان طریقہ جو ہے ۔
پروفیسر علی شفا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website