علامہ اقبال 9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوٸے۔مولوی سید میر حسن سے فارسی اور عربی میں تعلیم حاصل کی۔سیالکوٹ اور لاہور میں اعلی تعلیم پاٸی۔ایم اے کرنے کے بعد اورینٹل کالج اور گورنمنٹ لاہور میں انگریزی اور فلسفے کے استاد رہے۔پھر سن 1905 میں بیرسٹری کے لے انگلستان چلے گٸے۔اور وہاں سے ایرانی تصوف پر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔وطن واپس آکر لاہور ہاٸی کورٹ میں وکالت شروع کردی مگر یہ پیشہ انہیں پسند نہ آیا اور اس سے الگ ہوکر شاعری پر توجہ مرکوز کردی۔ساری عمر لاہور میں بسر کی۔سن 9 نومبر 1938ٕ میں طویل علالت کے بعد اس جہاں فانی سے رخصت ہوگٸے۔۔۔۔
علامہ اقبال میں شعر وسخن کافطری مزاق بچپن ہی سے موجود تھا۔انہوں نے اپنی شاعری کا باقاعدہ آغاز 1901 میں نالہ یتیم لکھ کرکیا۔ان کے یہ نظم مخزن میں شاٸع ہوٸی۔اس کے بعد اقبال نے بہت سی نظمیں لکیھیں ہیں۔اس دور کے نظموں میں مناظر فطرت کی عکاسی کی ہے۔چاند،جگنو،صبح کا تارا اور قدرتی مناظر پر بہترین نظمیں ہیں۔اس کے بعد ان کی طویل اسلامی اور قومی نظمیں سامنے آٸیں۔جن میں بزم انجم،خضر راہ،طلوع اسلام،شکواہ اور جواب شکواہ بہت مشہور ہیں۔آخری دور کا کلام ضرب کلیم اور بال جبرٸیل ہے۔
اقبال کی شاعری کا مرکب کٸ عناصر کا مجموعہ ہے۔اس میں گرمی اور گداز بھی ہے اور جزبات نگاری بھی،اس میں حسن بھی ہے ور فلسفے کی گہراٸی بھی،اس میں خودی بھی ہے اور بیداری وہ آزادی کا پیغام بھی،اس میں عزم واستقلال کا درس بھی ہے۔اور ترغیب عمل کا پیغام بھی،ان کے کلام میں جدت فکر بھی ہےاور ندرت بیان بھی،اس میں سرور بھی ہےاور ظریفانہ رنگ بھی،اس میں شان وشوکت بھی ہےجاہ وجلال بھی ہے۔اس میں دلاویز شبہات واستعارات بھی ہیں اور زبان کی شگفتگی بھی،اس میں تاریخی وادبی نکات بھی ہیں منطقی وفلسفیانہ خیالات بھی۔الغرض قبال کی شاعری میں سماج کی اصلاح،اخوت انسانی اور تعمیر جہاں کا درس مضمر ہے۔
علامہ صاحب کے اشعار کے کلام کے کچھ نمونے پیش کرنا چاہتا ہوں۔
شعر۔۔۔
”کس کو معلوم ہے ہنگامہ فردا کا مقام
مسجد ومکتب و مے خانہ ہیں مدت سے خموش“
اس شعر اقبال فرماتے ہیں کہ کیسے معلوم ہے کہ جو حالات کل پیش آنے والے ہیں۔ان کی حقیقت اور حثیت کیا ہے۔مسجد،مدرسہ اور شراب خانہ تو مدت سے خاموش بیٹھے ہیں وہ اس ہنگامہ میں کیا حصہ لیں گے۔
اقبال کے یہ شعر کے بعد مجھے گلگت بلتستان کے مشہور شاعر جمشید خان دکھی صاحب یہ شعر یاد آرہاہے۔
اشعار۔۔۔۔۔
”ہندو، یہ مسلمان ونصاریٰ سے مجھے کیا
انسان ہوں میری یہی پہچان بہت ہے
ملا کا یہاں پیٹ نکتا ہے مسلسل
لکین و سمجھتا ہے کہ ایمان بہت ہے“
گلگت بلتستان شعرإ وادبا ایک عرصے سے علاقے میں علم وادب کے فروغ کےلیے کام کررہےہیں۔تو اس حوالے سے بھی کچھ اشعار شامل کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔
دکھی صاحب فرماتےہیں۔
”تعصب سے بھرا پیغام یہ ہے
بہاو خون درس عام یہ ہے
مسلمانوں کا جب انجام یہ ہے
میں کافر ہوں اگر اسلام یہ ہے“
عبدالحفیظ شاکر صاحب فرماتےہیں۔
”تو کاروان اہل ادب کا امیر ہے
تیرے حضور قلب سے آداب لکھ دیا
ظفر وقار تاج صاحب اپنے کلام اس انداز میں پیش کرتےہیں۔
”یہی اصول رہاہے سدا ہمارا ظفر
قلم سے جس کا بھی رشتہ ہے وہ ہمارا ہے“
اسماعیل ناشاد صاحب فرماتےہیں۔
”خلوص وہ مہر کی محفل سجاکر دیکھ لیں آو۔
چراغ امن راہوں میں جلاکر دیکھ لیں آو۔
بسا کر نفرتیں سینوں میں اب تک کچھ نہیں پایا۔
اخوت کا حسین پرچم اٹھاکر دیکھ لیں آو۔
عبدالخالق تاج صاحب کو گلگت بلتستان ادب کا جان اور پہچان کہوں تو بجا نہ ہونگا۔
”کچھ ہیں مزہب کے جنون میں غرق کچھ زاتوں میں ہیں۔
دشمنان قوم ہر سو مختلف گھاتوں میں ہیں۔
عنایت اللہ شمالی فخر دیامر اس انداز میں اپنے کلام پیش کرتےہیں۔
“چمن میں جبر و تشدد کی گفتگو ہے ابھی
میرے چمن میں میرا دل لہو لہو ہے ابھی۔
”کوٸی موت کے سوداگروں سے جاکے کہے
تمہاری موت کا چرچا بھی کو بہ کو ہے ابھی۔۔۔۔“
اقبال کا سارا کلام قرآن و حدیث کا ترجمان ہے۔وہ شاعر ملت اور حکیم الامت ہیں انہوں نے مسلمانوں کو اپنی شاعری کے زریعے تصوف و عرفان اور حکمت و معرفت کا درس دیاہے اور اسی کو تسخیر کاٸنات کا سبب قرار دیا۔وہ فرماتےہیں۔
”اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا۔
کہ تیرے زماں و مکاں اور بھی ہیں۔
الغرض اقبال کی شاعری وہ بانگ درا ہے جس نے ہماری زہن کو نٸی تواناٸی بخشی۔اقبال کی شاعری نے ہماری بےحسی اور جمود کو توڑا۔۔۔۔۔
تحریر۔۔۔۔ضیإاللہ گلگتی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟