فرعون کا ذکر قرآن کریم میں بنی اسرائیل کے قصہ میں آتا ہےـ ۔فرعون کا تکبر تاریخ اور ادب میں مشہورہیں۔ فرعون نے خواب دیکھا کہ بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا بنی اسرائیل کو کچھ ضرر نہ پہنچایا اس سے اس کو بہت وحشت ہوئی ۔کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ہلاک اور زوال سلطنت کا باعث ہوگا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو قتل کردیا جائے ۔ایک روایت کے مطابق ستر ہزار لڑکے قتل کر ڈالے گئے اور نوّے ہز ار حمل گرادیئے گئے اور مشیتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد جلد مرنے لگے قوم قبط کے روسانے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل میں موت کی گرم بازاری ہے۔ اس پر ان کے بچے بھی قتل کیے جاتے ہیں تو ہمیں خدمت گار کہاں سے میسر آئیں گے فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔
حضرت موسی علیہ السلام کی والدہ نے فرعون کے خوف سے ان کو ایک صندوق میں رکھ کر صندوق کو مضبوطی سے بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ دریا سے نکل کر ایک نہر فرعون کے محل کے نیچے بہتی تھی۔ یہ صندوق دریائے نیل سے بہتے ہوئے نہر میں چلا گیا۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیوی آسیہ دونوں محل میں بیٹھے ہوئے نہر کا نظارہ کررہے تھے۔ جب ان دونوں نے صندوق کو دیکھا تو خدام کو حکم دیا کہ اس صندوق کو نکال کر محل میں لائیں۔ جب صندوق کھولا گیا تو اس میں سے ایک نہایت خوبصورت بچہ نکلا جس کے چہرہ پر حسن و جمال کے ساتھ ساتھ انوار ِ نبوت کی تجلیات چمک رہی تھیں۔ فرعون اور آسیہ دونوں اس بچے کو دیکھ کر دل و جان سے اس پر قربان ہونے لگے۔ اسکے بعد کا واقعہ قران کریم میں تفصیلی موجود ہے۔ محترم قارئین عرض یہ ہے کہ ضلع کھرمنگ کے ایک ذمہ دار شخص سے علاقے کے معاملات پر گپ شب ہوئی تو اُنہوں نے بتایا کہ کچھ نیم سرکاری لوگوں کیجانب سے عوام میں یہ پروپگنڈا کیا جارہا ہے گلگت بلتستان کے ذّمہ دار سرکاری حلقوں کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ضلع کھرمنگ کو ترقیاتی کام میں نظر انداز ہونے کی اصل وجہ ضلع میں قوم پرست سوچ کا اُبھرنا یعنی سید حیدر شاہ رضوی کے پیرکاروں میں مسلسل اضافہ ہے۔لہذا ضلع کھرمنگ کی نئی نسل کو اس سوچ سے دور رہنا ہوگا یعنی یہاں سوچ پیدا نہیں کرنا ہے،شعور کا راستہ روکنا ہے،سوئے ہوئے لوگوں کے اوپر ایک اورکمبل اوڑھ کر مزید گہری نیند سُلا دینا ہے۔ ورنہ کھرمنگ کی بقاء خطرے میں ہیں۔
اس حوالے سے گزارش یہ ہے کہ مخصوص طبقے کا من گھرٹ اور منفی پروپگنڈا ہوسکتا ہے جو کہ عوام کے درمیان اداروں کے حوالے سےبدگمانیوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے لہذا ذمہ دار ادروں کو اس قسم کے منفی افواہ پھیلانے والوں سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ یہ لوگ کیوں حساس ترین علاقے میں اس قسم کے منفی افواہیں اُڑاتے ہیں۔ دوسری بات اگر واقعی میں اس خبر میں کوئی صداقت ہے تو دنیا کو معلوم ہے کہ ضلع کھرمنگ سمیت پورے گلگت بلتستان کے حق پرستوں کا بھی وہی مطالبہ ہے کہ جو ریاست پاکستان کا گلگت بلتستان کے حوالے سے بین الاقوامی موقف ہے۔ اگر قوم پرستی (جسکا مطلب بنیادی حقوق کا مطالبہ ہے) ہی جرم ہے تو گلگت کو تو پسماندہ ترین ضلع ہونا چاہئے تھا،اسی طرح ہنزہ بھی مکمل طور پر نظرانداز اور ضلع غذر کو تو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہئے تھا کیونکہ یہاں تو حقوق حقوق کے حوالے سے مراکز اور یہاں کے رہنماوں کی قربانیاں ہیں۔ اسی طرح ہمارے پڑوس میں آذاد کشمیرمکمل طور پر بنجر ہونا چاہئے تھا کیونکہ وہاں تو ہر تحصیل میں کئی قوم پرست جماعتیں پائے جاتے ہیں،لیکنایسا بلکل نہیں ہے۔
محترم قارئین اگر خبر کو درست مان لیتے ہیں تو پاکستان،ہندوستان کا ریاستی بیانیہ اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق آذاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حیثیت ایک ہے اور اقوام متحدہ نے دونوں خطوں کو وہی حقوق دینے کا حکم 13 اگست 1948 کو دی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ آذاد کشمیر میں سٹیٹ سبجیکٹ رول نافذ ہیں اُنکا اپنا دستور اور آئین ساز اسمبلی ہے لیکن گلگت بلتستان کو کیا ملا؟۔ گلگت میں برطانوی سامراجی ایجنٹ میجر بروان کی کی سازشوں کے نتیجے میں فرقہ واریت کی اتبداء پھر بھٹو کے دور میں اُس درخت کی پرروش اور 1988 سے لیکر سی پیک کا رحمت نازل ہونے تک فرقہ واریت کی فصل کٹائی گئی۔ یہاں سیاسی طور پر پہلے پنجتن پاک علیہ السلام ک نام پر پانچواں آئینی صوبے کا نعرہ، وہ نعرہ جب انتقال کر گئے تو عبوری صوبہ ،وہ بیچارہ جب ضعیف ہوگیاتو عبوری آئینی صوبے کی پیدائش اور پھر یہ بچارہ صوبہ بھی جوانی میں ہی دم ٹوڑ گیا تو سپریم کورٹ کا فیصلہ حقوق پرستوں کے نظرئے پر عدالتی مہر ہے۔
گزارش یہ ہے ضلع کھرمنگ دفاعی اعتبار سے انتہائی اہم اور حساس ترین علاقہ ہے اور اس وقت ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جو کھیل کھیلا جارہا ہے وہ نہ عوام کے مفاد میں اور نہ ریاست پاکستان۔ اس قسم کی محرومیاں اور پسماندگی کا دکھہر معاشرے میں موسی کی پیدائش کا سبب بنتا ہے یہ دنیا کی تاریخ کا حصہ ہے۔ لہذا ضلع کھرمنگ سمیت پورے گلگت بلتستان میں حق پرستوں کا نظریہ وہی ہے جو گلگت بلتستان کے حوالے سے ریاست پاکستان کا ریاستی بیانیہ ہے۔ گلگت بلتستان یا ضلع کھرمنگ سے کسی نے یہ نہیں کہا کہ کھرمنگ کو ہندوستان کے ساتھ ملاو ،گلگت بلتستان کو چین یا روس میں شامل کرو۔ لیکن موجودہ صورتحال میں عالمی گریٹ گیم کو دیکھ کر ضروراندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ پھر سے غلط کر رہے ہو ،بلتستان پھر سے تقسیم کی طرف جاررہا ہے مودی اور ٹرمپ کا گھٹ جوڑ بلتستان کو مزید ٹکرنے کی سازش لگ رہا ہے۔لہذا اپنی اداوں پر غورکرنے کی ضرورت ہے۔
اس وقت ضلع کھرمنگ میں خالصہ کے نام پر عوامی زرعی اراضیوں پر سرکاری عمارت کی مسلسل تعمیر دراصل کھرمنگ کے خلاف سازش ہے۔
سرکاری منصوبوں کی بندر بانٹ دراصل ضلع کھرمنگ سے دشمنی ہے۔
ضلع کھرمنگ کیلئے ایفاد پراجیکٹ کا حرام ہونا ضلع سے آپکی دشمنی کو ثابت کرتی ہے۔
ضلع کھرمنگ کے سیاحتی مقامات میں سرکاری سطح پر سہولیات کی عدم فراہمی عوام اور پاکستان دشمنی ہے۔
ضلع کھرمنگ میں زراعت کے مواقع پیدا کرنے کے بجائے عوام کا عدم سہولت کے سبب مسلسل ہجرت اور زراعت سے دور سبسڈی سے پیار عوام دشمنی ہے۔
ضلع کھرمنگ کی آبادی کا کم ازکم چالیس فیصد کم دکھانا اور اُس بنیاد پر بجٹ میں کٹوتی عوام سے دشمنی ہے۔
سرکاری اسکولوں میں سہولت کا مسلسل فقدان عوام سے دشمنی ہے۔
سکردو کرگل سڑک کھولنے کیلئے ہزار بہانوں کی تلاش دشمن کو موقع فراہم کے کرنے مصداق ہیں۔
لہذا ضلع کھرمنگ میں سوچ پیدا ہونے سے آج خوف کھانے والوآنے والے سے ڈرو کیونکہ آج بھی ضلع کھرمنگ کچھ عناصر موجود ہیں جو ڈی سی کی موجودگی کو ہی حقوق سمجھتے ہیں ۔ ضلع کھرمنگ کے حق پرستوں کا مطالبہ سید حیدر شاہ رضوی شہید سے لیکر آج تک وہی رہا ہے جس کی قانون میں اجازت میں مسلہ کشمیر کے تناظر میں اس خطے کے محکوم عوام کا حق ہے۔ لہذا آپ ہمیں بتائیں کہ آپکو ضلع کھرمنگ سے دشمنی کس بنیاد پر ہے اور کیوں ضلع کھرمنگ کو پسماندہ رکھنا چاہتا ہے؟
ضلع کھرمنگ میں موسیٰ کی پیدائش اور فرعون کا خوف۔۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟