قانون درست نہیں ہے۔۔۔

0 0

ایک قابل حل مسلے کے عنوان کو بدل بدل کر بیان کرنے کی بجائے عنوان اور تعبیر کو اگر یکجا کیا جائے تو کسی بھی مسلے کو آسانی سے حل کیا جا سکتاہے یہ کوئی قدرتی طور پر نازل شدہ مسائل نہیں ہیں بلکہ ہمارے اپنے پیدا کردہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں طبقہء اشرافیہ کی کوتاہیوں کی بدولت جنم لے چکی ہیں ایک طرف بے جا گرمی میں اعصاب شکن لوڈشیڈنگ ،مہنگائی ،بگڑی معشیت اور ٹوٹ پھوٹ سماج کے عذاب ہم پر مسلط ہیں تو دوسری جانب شائد اپنی اعمال باعث ناگہانی آفات اور قدرتی آزمائشوں سے ہم دوچار ہیں یہ حادثات و سانحات ہمارے دکھوں اور المیوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں اور بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہم اب ان حادثات کو معمول کی بات سمجھ کر نظر انداز کرنے لگے ہیں ہمارے ہاں ایسے لوگ بڑھتے جا رہے ہیں جو اس طرح کے حادثات کے صرف ظاہری و تکنیکی اسباب کو حادثے کی اصل وجہ قرار دیتے ہیں دل خون کے آنسو روتاہے لاقانونیت دیکھ کر زبان حلق پر آجاتا ہے ہمارے بڑے تو ہمیں ہر کام احسن انداز کے ساتھ کرنے کی وعظ و نصیحت کرتے ہیں لیکن پھر اس میدان میں وہ خود ہی پیچھے رہ جاتے ہیں جمعرات کے روز شاہراہ قراقرم پر بس الٹ گئی جس کے نتیجے میں تین افرادجان سے گئے اسی روز ہراموش میں معلق پل ٹوٹنے کی وجہ سے تین افراد لقمہ اجل بن گئے اس طرح اور بھی واقعات روزانہ رونما ہوتے ہیں لیکن ہم آج تک نہ صرف ان حادثات کو معمول کے حادثات سمجھ کر نظر انداز کردئیے بلکہ ان واقعات کے اسباب کو سمجھنے کی زحمت تک نہیں کی بلاشبہ زندگی کی بھاگ دوڈمیں ہر زی روح کو موت کی لذت سے آشنا ہوناہی ہونا ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ موت میں ترمیم کی گنجائش ہے اور نہ ہی کوئی زی روح موت کو شکست دے سکتاہے البتہ معمول کے حادثات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان حادثات کی روک تھام کے لئے قانون سازی کرنا یا کم سے کم احتیاطی تدابیر کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ہے دنیا بھر میں ٹریفک کے حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن پاکستان بالخصوص گلگت بلتستان میں جو حادثات ہورہے ہیں یہ تعداد کسی اور صوبہ یا کسی ملک کی سالانہ حادثات کی مجموعی تعداد سے چار گنا زیادہ ہے ہمارے ہاں ٹریفک حادثات میں ہونے والے اموات دہشت گردی سمیت خودکشی اور بیماری کی وجہ سے ہونے والے اموات کی مجموعی تعداد سے کئی گنازیادہ ہے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹریفک حادثات کی فہرست میں ایشیاء میں پہلے نمبر پر ہے یہاں ایک سال کے دوران ٹریفک کے کل 9856حادثات ہوئے جن میں 50477افراد لقمہ اجل بن گئے یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہوتا جارہا ہے بلکہ اب خطرناک صورتحال اختیار کر چکا ہے ا س کی سب سے اہم وجہ لاقانونیت ہے ہمارے ہاں انسانی جانوں کی کوئی قدر نہیں ہے ہم انسان کو دنیا کی فالتو ترین چیز سمجھتے ہیں اگر کوئی مر بھی جائے تو کوئی بات نہیں ورنہ تو بحیثیت انسان ہمیں انسانی جانوں کی ضیاع کا کم سے کم فکر تو ہونا چاہئے کہ ان حادثات میں کتنے خاندانوں کے چراغ گل ہوئے کتنے گھر اجڑگئے یہاں تک کہ ملک و ملت کو کتنا خسارہ ہوا ؟دوسری وجہ ٹریفک قوانین کا نہ ہونا ہے اگر ہے بھی تو ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے دنیا کے تمام مہذب ممالک میں ٹریفک قوانین پر ہر صورت عمل کروایا جاتا ہے تاکہ حادثات کی بڑھتی ہوئی صورتحال پر قابو پایا جا سکے ان ممالک میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سے سخت سزائیں دی جاتی ہے تاکہ قیمتی جانوں کو ضیاع ہونے سے بچایا جا سکے ان ممالک میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے لئے کسی بھی شخص کو پہلے فیس جمع ادا کرنی ہوتی ہے پھر میڈیکل کرنا ہوتا ہے اسی طرح حصول لائسنس کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد اگر نتیجہ مثبت آئے تو لائسنس فراہم کیا جاتا ہے دوبئی میں موجود پاکستانی ڈرائیوروں کے بقول حصول ڈرائیونگ لائسنس کے لئے ایک شخص کو تقریبا7000درہم ادا کرنا پڑتی ہے یہ سب اس لئے ہے کہ لائسنس لینے والے کو لائسنس کی اہمیت کا احساس ہو اور اس کی ڈرائیونگ انتہائی اچھی اور قوانین کے عین مطابق ہو اسے غلطی سے پہلے کئی بار سوچنا پڑے یہی وجہ ہے کہ آج وہاں گلگت بلتستان سے سو گنا زیادہ ٹریفک ہونے کے باوجود ٹریفک حادثات کو کم سے کم کرنے میں وہ کامیاب ہیں دوبئی میں اگر کوئی شخص ٹریفک سگنل ہی کیوں نہ توڑے اسے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات غلطی پر غلطی کرنے والے کا لائسنس بھی ضبط کیا جاتاہے اور تین سال پرانی گاڑیوں کی ہر سال فٹنس ٹیسٹ کے مراحل سے گزاراجاتاہے مگر ہمارے ہاں نہ ڈرائیور کی تربیت کا کوئی بندوبست ہے نہ ہی گاڑیوں کی معیا ر کا جائزہ لیا جاتاہے بلکہ ڈرائیونگ لائسنس محض 300روپے کا بغیر کسی شرائط و ضوابط ملتا ہے لائسنس لینے والا رکشہ ڈرائیور ہے یا گاڑی چلاتا ہے کسی کو اندازہ نہیں یہاں چار دن ڈارئیور کے ساتھ والی سیٹ میں بیٹھنے والااگلے دن چشمے لگا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ جاتاہے ہمارے خواتین بیچ بازار میں گاڑی سیکتھے دیکھائی دیتی ہیں تو آپ خود اندازہ کیجئے کہ حادثات نہیںتو کیا ہونگے اب اس سلسلے کو ختم کرنے کی بے حد ضرورت ہے لہذا قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں سے گزارش ہے کہ جی بی میں مزید این سی پی گاڑیوں کی داخلہ پر پاپندی لگایا جائے ساتھ ہی کمسن بچوں اور غیر تربیت یافتہ خواتین اور لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانون سازی کرے تو عین ممکن ہے ہم ان حادثات کی روک تھام میں کامیاب ہوسکتے ہیں ۔

تحریر:فریاد فدائی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website