میں لیلٰی کی فرقت میں ستایا ہوامجنون ہوں نہ شریں کی محبت میں گرفتار فرحت اور نہ ہی ہیر کی دلداہ رانجھا ہوں۔بلکہ ادنیٰ سا سماج کا طالب ہوں جو سماج میں پنپنے والے مسائل سے غمزدہ ہوں۔اسی لئے نہ لیلاٰ کی بات کرتا ہوں نہ شریں و ہیر سے کوئی خاص الفت رکھتا ہوں بلکہ میری محبت ان تمام غمزدہ لوگوں کے گرد گھومتا ہے جو سماجی ناہمواریوں کے زیر سایہ پروان چڑھ رہے ہیں۔ میری دکھ درد کا پیمانہ اُس وقت اپنے بام عروج کو پہنچ جاتا ہے جب بحثیت کلُ معاشرہ سماجی ناہمواریوں اور محرومیوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔اور محرومیوں کا ذکر کرتے کرتے میرا لہجہ تھوڑا کرخت اور کڑوا سا ہو جاتا ہے اسی لئے پیشگی معذرت کے ساتھ آپ کے خدمت میں قلمی گفتگو جاری رکھنا چاہوں گا۔آج جس موضوع کا انتخاب کرنے کی جسارت کی ہے وہ شناخت گلگت بلتستان ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کے انتہائی شمال میں واقع برف پوش و فلک بوس پہاڑوں کے درمیان واقع چھوٹے بڑے وادیوں پر مشتمل علاقہ گلگت بلتستان آذادی سے پہلے ریاست جموں کشمیر کا حصہ جس پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی کو یہاں کے مقامی لوگوں نے بے سرسامانی کے عالم میں ڈنڈوں اور لاٹھیوں کے زریعے آذاد کرایا۔ اورآذادی کے بعد یہاں کے آباواجداد نے اپنے سعی اس خطے کو مملکت اسلامی پاکستان کے ساتھ الحاق کیا لیکن ان کی یہ کوشش راٸیگاں چلی گئی جب پاکستان نے اسے ١٣ اگست ١٩٤٨ کو اقوام متحدہ میں لے جایا گیا یوں یہ خطہ پھر سے مسلہ کشمیر ساتھ کے نتھنی ہو گیا اور عالمی دنیا اسے مسلہ کشمیر کا حصہ گرادنے لگا لیکن یہاں کے عوام کی اکثریت اپنےنااہل رہنماوں کی بدولت اس حقیقت سے آج میں مکمل انکاری ہے۔اسی لئے تو اس کے بعد کیا ہونا تھا یہاں کے عوام اکہتر سالوں تک وفاق اور مقامی رہنماوں کی وجہ سے شناخت اور آئین نامی گمنام شے سےابھی تک ماورا رہا۔اکہتر سال گزرنے کے باوجود بھی نہ وفاقی حکومت نے اس علاقے کو مسلہ کشمیر کاز کو دیکھ کر سیٹ اپ دینے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی مقامی رہنماوں نے بھی علاقے کی نوعیت اور حیثیت کو لے کر کوئی خاص اور مضبوط موقف نہیں اپنایا تو اس کا نتیجہ یہ نکلا وفاق پچھلے اکہتر سالوں سے اس علاقے کا انتظام پیکج و آرڈرز کے زریعے چلانے لگا۔لیکن پھر بھی یہاں کے رہنماوں اور عوام کو ابھی تک اپنا قومی بیانیہ معلوم نہ ہو سکا۔اسی لئے یہاں کے رہنما بنے لوگوں نے اکہتر سالوں سے عوام کو ناممکنات پر مشتمل انواع و اقسام کے صوبائی سیٹ اپ کے لال بتی کے پیچھے لگا دی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا یہاں کے عوام پچھلے اکہتر سال گزرنے کے باوجود بھی اپنے لئے کشمیر کے مسلے کے تصفیے تک کوئی مضبوط سیٹ اپ پر متفق نہ ہوا۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلے میں جس میں گلگت بلتستان کو متنازعہ اور گلگت بلتستان کو مسلہ کشمیر کا حصہ ڈکلیر کرنے کے بعد اب عوام اور تمام رہنماوں کی آنکھیں کھل جانی چاہے اور ایک ایسا بااختیار سیٹ اپ کے حصول کے لئے کمر کسنا چاہے جو علاقے کو تاریخی حقائق کی روشنی میں میسر ہے۔اس کے لئے میرے نزدیک کشمیر طرز کا بااختیار سیٹ اپ بعمہ اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کی بحالی ہے۔اس سے ایک طرف مملکت اسلامی کا مسلہ کشمیر پر موقف میں مضبوطی پیدا ہو گی تو دوسری اہم بات پچھلے اکہتر سالوں سے اختیارات و آئین سے ماورا خطے کے عوام کے لئے مضبوط و محفوظ سیٹ اپ ملینگے۔وفاقی حکومت کو چاہے کہ وہ بھی خطے کو مختلف آرڈر دے کر عوام کومذید بے وقوف بنانے کے بجائے مسلہ کشمیر کے تناظر میں اور اقوام متحدہ کے قرداد کے عین مطابق ایک ایسا بااختیار سیٹ اپ دیں جو یہاں کے عوام کے امیدوں کے عین مطابق ہو جس کے لئے انہیں وفاقی سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے مقامی رہنماوں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے قومی سیاست کرنے والے رہنماوں سے بھی روابط بڑھانے کی اشد ضرورت ہے ۔اور اب گلگت بلتستان کےعوام کو بھی جاگ جانے اور اپنے حق کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اسی لئے ایسے لوگوں کو رہنما چن لے جو علاقے کے متعلق تاریخی حقیقت پر مبنی اسٹینڈ لے۔جس سے نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام کو فائدہ ہو گا بلکہ مسئلہ کشمیر کے حل کے دوران مملکت اسلامی پاکستان رائے شماری میں مضبوط پوزیشن پر کھڑا ہو گا۔
ذوالفقار علی کھرمنگی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟