بلتستان یونیورسٹی ایک اُمید۔۔

0 0

بزرگ کہا کرتے تھے کہ ان کے زمانے میں اہالیان بلتستان کو مڈل سے آگے کی تعلیم حاصل کرنے کے لئے سرینگر جانا پڑتا تھا جبکہ پروفیشنل تعلیم کا تصور بھی نہیں تھا۔تعلیم کے شوقین افراد مڈل تک پڑھ پاتے اور ڈوگر ہ راج میں نوکری حاصل کرنے کے بعداپنی عملی زندگی کا آغاز کرتے ۔آٹے میں نمک کے برابر افراد ہی سرینگر سے میٹرک کرسکتے تھے۔ان دنوں وزیر غلام مہدی واحد خوش قسمت فرد تھے جنہیں علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے، ایل ایل بی کرنے کا موقع ملا لیکن بدقسمتی یا کہیئے یا کچھ اور،ان سے کچھ سیکھنے کی بجائے ہمارے حکمران محکمہ مال سمیت کئی دیگر ضلعی اداروں میں انہیں گھماتے رہے اور ان کی صلاحیتوں سے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا نہیں گیا۔(بعد ازاں وہ کچھ عرصہ ضلعی سیاست میں بھی رہے اور جنرل ضیا ء کے دور میں مجلس شوریٰ کے مبصر کی حیثیت سے بھی خدمت انجام دئیے۔ )اعلی تعلیم یافتہ ایک ہی فرد سے کوئی ایسا کام صحیح معنوں نہیں لیا گیا کہ وہ علاقے کے نوجوانوں میں علم کی تڑپ کے لئے اپنا کردار ادا کرسکیں لیکن اس کے بعد حالات تیزی سے تبدیل ہونے لگے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے زور بازو سے ڈوگروں سے آزادی حاصل کر لی اور بغیر کسی حیل حجت کے خود کو پاکستان میں ضم کرلیا۔آزادی کے فوراً بعد سے بلتستان میں پہلے میٹرک اس کے بعد کالج کی سطح تک تعلیم شروع ہو گئی۔یہ آزادی کا ثمر تھا کہ یہاں کے عوام کے مطالبہ پرتعلیم ان کے دہلیز تک آپہنچی۔دیگر اعلی تعلیم خصوصاً میڈیکل اور انجینئیرنگ کی تعلیم کے لئے صاحب حیثیت طلبا نے ملک کے بڑے شہروں تک جانا شروع کر دیا لیکن غریب کے لئے اعلیٰ تعلیم اب بھی ایک خواب تھی۔وقت کے ساتھ ساتھ جب لوگوں میں شعور آیا تو یو نیورسٹی کا مطالبہ ایک فطری امر تھا چنانچہ ۲۰۰۱ء میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے گلگت میں قراقرم یونیورسٹی قائم کی جس کے کچھ عرصے بعد اس کا ایک کیمپس سکردو میں بھی قائم کیا گیا۔اس کیمپس کے سٹاف نے نامساعد حالات کے باوجود سکردو کے قریب موضع حسین آباد (اتفاق کی بات ہے کہ مذکورہ علیگ غلام مہدی صاحب کا تعلق یہیں سے تھا)کے انٹر کالج کے لئے قائم کردہ مختصر عمارت میں کلاسز کا اجراء کیا گیا۔اس درسگاہ کے قیام سے بلتستان کے طلبہ و طالبات کے لئے یونیورسٹی کی تعلیم کا در کھل گیا۔بعد ازاںمسلم لیگ نون کی صوبائی حکومت نے 2016ء میں طلبا کی مشکلات اور ان کی علمی تشنگی کو دور کرتے ہوئے سکردو میں بلتستان یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کیا اور 2018ء میں اس یونیورسٹی کا باقاعدہ آغاز ہوا، پرزور عوامی مطالبے کے نتیجے میںاب علیحدہ گرانٹ کے علاوہ وائس چانسلر کی تقرری بھی عمل میں لائی گئی ۔بلتستان کے طلبا ء کے لئے یہ سہولت بہت بڑی نعمت ہے کہ اس کی بدولت ان کی اعلی ٰتعلیم کی خواہش اپنے ہی علاقے میں پوری ہو رہی ہے۔
اس خطے کے عوام یونیورسٹی خصوصاً قابل ا حترام وایس چانسلر سے اس با ت کی توقع رکھتے ہیں کہ جامعہ میں نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کا بھی خاص خیال رکھا جائے گا۔ اسلامی اقدار کے منافی کوئی بھی عمل یا سرگرمی سے پہلے اس پر غوروخوض کرنا بھی اہم ہے ۔خصوصاً مقامی عملے کا فرض ہے کہ وہ نئے آنے والے فیکلٹی ممبران کو اس علاقے کی اقدار سے روشناس کراتے ہوئے تعلیمی عمل کو باعزت طریقے سے آگے بڑھائے۔کہا جاتا ہے کہ تعلیمی ادارے عمارت سے نہیں اس کے اساتذہ سے پہچانے جاتے ہیں چنانچہ ارباب اختیار سے امید کی جاتی ہے کہ اساتذہ کی تقرری میں صرف اور صرف میر ٹ کو اہمیت دی جائے گی تاکہ مادر علمی کے اس نئے اور زرخیز پودے کی شروع دن سے ہی بہترین آبیاری کی جا سکے۔
بلتستان کے عوام محترم وائس چانسلر سے اس بات کی بھی امید رکھتے ہیں کہ جامعہ میںایسے علوم و فنون کے ڈیپارٹمنٹ بھی کھولے جائیںجو گلگت بلتستان کے طلبا و طالبات کو مستقبل کے چیلنجز سے نبٹنے کے لئے تیار کریں اور ایسی تربیت کا اہتمام بھی ہو جو طلباء کی عملی زندگی کے لئے انہیں تیار کریں۔اس کے ساتھ ساتھ بلتی زبان و ادب کی تحقیق کے لئے ایک چئیر کا قیام بھی عمل میں لایا جائے جہاں بلتی زبان و ادب سے منسلک افراد کو تحقیقی سہولیات میسر ہو۔
اس ادارے میں قدم رکھنے والے بعض طلبا و طالبات کی یونیورسٹی کی تعلیم سے قبل کا عمل آموزش انتہائی مخدوش حالات میں وقوع پذیر ہو چکا ہوتا ہے لہذاٰذہین و فطین ہونے کے باوجودانہیں اعلیٰ تعلیم انتہائی مشکل ثابت ہوتی ہے اس کے لئے ادارے کے تعلیمی نظام میں فائونڈیشن کلاسز کے ساتھ ہی ان کے لئے خصوصی سیشنز ہونے چاہیئں تاکہ وہ آگے چل کراپنے کورسز کے ساتھ پورا انصاف کر سکیں۔ہر تعلیمی ادارہ انٹری ٹیسٹ کے نام پر چھان پھٹک تو کرتا ہے لیکن یہ سوچنے کے لئے کوئی تیار نہیں کہ پہلے ان بچوں کو کن حالات میں تعلیم تک رسائی تھی ۔ان بد قسمت بچوں کو سوائے چند غیر معیاری پرائیوٹ تعلیمی اداروں کے کوئی لینے کو تیار نہیں ہوتا جن کا مقصد صرف اور صرف پیسہ بنانا ہے۔
اب تو یہ رواج چل پڑا ہے کہ جو تعلیمی ادارہ جتنے زیادہ ،ہم نصابی سرگرمیاں،سیمینار،دورے اورفوٹو سیشن کروائے وہی سب سے زیادہ کامیاب ہے جبکہ ان اداروں کی دروں خانہ تعلیم خصوصاً تربیت پر توجہ نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔اگر بہترین مغربی طرز تعلیم کی تقلید میں ان کی معاشرت کی پیروی بھی لازمی ہوگی تو اس سے یہ ادارے ملک و معاشرے کے لئے سود مند کم اور انتشار کا باعث لازماً بنیں گے۔بہتر یہی ہو گا کہ ہر سرگرمی اس تعلیمی عمل کو ڈسٹرب نہ کرے جس کے لئے والدین نے بچوں کو اس ادارے میں بھیجا ہے اور جس کو وقت دئیے بغیر کامیابی کو کوئی فائدہ نہیں۔
اگر اس عظیم ادارے کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ رکھتے ہوئے سیاسی دخل اندازیوں سے دور رکھا گیا تو جلد ہی اس کا شمار کامیاب تعلیمی اداروں میں ہونے لگے گا بصورت دیگر یہاں کے عوام کی امیدوں پر ایک بار پھر پانی پھر جائے گا۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس جامعہ کے ارباب و اختیار کو وہ ہمت ،طاقت ،دیانت اور قوت ایمانی عطا فرمائے کہ یہ ادارہ ہر لحاظ سے ایک مسلمان اور پاکستانی طالب علم کے لئے باعث فخر ہو اور اس ادارے کی پہچان ملک و بیرون ملک ایک کامیاب ادارے کی حیثیت سے کیا جا سکے۔آمین!

تحریر: نبی وانی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website