وزیر تعلیم گلگت بلتستان جانب سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری کےلئے بل لانے کی تیاریاں اپنی جگہ،لیکن اس سے پہلے سرکاری تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

گلگت( نامہ نگار) وزیر تعلیم گلگت بلتستان کی جانب سے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی ریگولیٹری کےلئے لانے کی تیاریاں عروج پر ہیں تو دوسری طرف نجی تعلیمی اداوں نے اس بل کو علم دشمن بل قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کہا یہ جارہا ہے حکومت کی جانب سے لائے جانے والا یہ بل نہایت اہمیت کے حامل ہیں چونکہ اس بل کے ذریعے والدین،بچوں،اساتذہ کے حقوق کو تحفظ کرنے میں مدد ملے گی بلکہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کو ایک موثر و مستحکم ڈھانچہ ملے گا جس کے مطابق وہ بہتر تعلیمی نظام رائج الوقت کرواسکیں گے۔

اس بل کے حوالے سے کچھ ممبران قانون ساز اسمبلی بھی خدشات رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کچھ ممبران کی جانب سے نجی تعلیمی اداروں کے مالکان سے رابطہ کرکے اس بل کے خلاف مہم جوئی کو تیز کرنے کی مشورہ بھی دیا ہے۔

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان میں نجی تعلمی ادارے کہیں کسی علاقوں میں صرف کاروبار کی حد تک تعلیم پر توجہ دیتے ہیں لیکن کئی علاقے ایسے ہیں جہاں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے نام پر نئی نسل کو برباد کیا جارہا ہے وہیں ان نجی تعلیمی اداروں نے فروغ تعلیم کیلئے بڑا کام کیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گلگت بلتستان کے کچھ علاقوں میں آج بھی سرکاری اسکولوں پر ہی عوام منحصر کرتے ہیں اسکا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ تمام نجی تعلمی ادارے اس معاملے میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہیں۔ بلتستان اور ہنزہ ریجن میں سرکاری تعلمی اداروں کی کارکردگی بلکل صفر ہیں لیکن ان علاقوں میں نجی تعلمی اداروں نے فروغ تعلیم کیلئے قابل تحسین کام کیا ہے۔

لہذا حکومت کو چاہئے کہ سب سے پہلے سرکاری اسکولوں کی حالت زار پر قانون سازی کریں بلکہ سرکاری اسکولوں کو بھی نجی سطح پر کنٹریکٹ پر دیں۔ اس کے بعد اگر کوئی پرائیوٹ تعلیمی ادارہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام نظرآئے تو اُن کے خلاف ایکشن لیں۔

اس وقت جو بل لایا جارہا ہے وہ صرف وزیر اعلیٰ کی انا کو تسکین پونچانے کیلئے لایا جارہا ہے اس بل سے ادارے ببنے کے بجائے برباد ہونے کے ذیادہ امکانات ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc