تازہ ترین

جوانان شگر اور پی ٹی آئی سے امیدیں

ایک لفظ جس سے خان صاحب نے بار ہا بار اپنی ہر اجتماع میں دہراتا رہا ہے اور اب بھی دھرا رہا ہے اگر ہم یہ کہے تو کم نہیں ھوگا اب یہ مکمل پاکستان تحریک انصاف کا نعرہ بن چکا ہے وہ لفظ “تبدیلی” ہے
اس سے سونامی کا نام دیکر خان صاحب نے اپنے ایک سو بیس دن کے دھرنے میں باقاعدہ موضوع گفتگو بنایا اور آواز بلند کرتا رہا ” تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آگئی ہے” مزید کہا کہ اس سونامی میں پاکستان کے ہر چھوٹے بڑے شہر،گاوں و قصبے آئیں گے اور پرانے موروثی سیاست چور لٹروں کو یہ سونامی نابود کر دے گی شاید اسی سونامی کی اثرات ملک کے شمالی علاقوں میں پہنچ چکی ہیں جسں کے لپٹ میں گلگت سمت بلتستان کےدیگر اضلاع بھی آنے لگی ہیں اس بات کا اندازہ بلتستان میں سیاسی میدان میں سب سے زیادہ حساس اور بے پناہ جذبات رکھنے والی عوامی علاقہ شگر کے حالیہ سیاسی ہلچل سے لگایا جاسکتا ہے جس سے مجھ سمت آپ تمام قارئین نے سوشل میڈیا اور اخبارات کے سرخیوں میں دیکھ چکے ہیں ۔
جناب قارئیںن وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب کو نیا کرنا چاہیے شگر میں پی ٹی آئی کی امیدوار جناب انجینئر عدیل صاحب کے جانب سے پی ٹی آئی انتخابی نشان بلے کو چن کر اسی کو کرپشن اور سابقہ حکمرانوں کے احتساب کا علامات کہا جا رہا ہے اور اسی انتخابی نشان کیساتھ ایک الگ ذہانت سے سیاست کے میدان میں اتر چکاہے ۔پڑھا لکھا اور خاندانی اثرورسوخ کے پش نظر اس سے بڑھ کر ایک باصلاحیت نوجوان کی پر وقار شخصیت نے جس طریقے سے اپنا الگ منشور لے کر سیاست میں قدم رکھا شگر کے تمام پڑھے لکھے طبقات نے سراہا سیاسی میدان میں اتے ہی دور جدید کے اعلی تعلیم یافتہ اس نوجوان نے اپنی پارٹی کے لیے سب سے پہلے ملک وخطے کے مستقبل کو سنوارنے والے ، ملک و قوم کی امیدیں جن سے وابستہ ہو ایسے ہی طبقے کو پہلے ہی پارٹی کے لیے مدعو کیا اور انہیں ایک زبردست پلیٹ فارم مہیا کرکے پاکستان کے تین بڑے شہروں راولپنڈی ،لاہور اور کراچی سے طلبا قیادت پر مشتمل الگ الگ کابینہ سازی تشکیل دی جس کا مقصد ملک کے ان بڑے شہروں میں زیر تعلیم شگر کے طلبا کو درپیش مسائل باہم مشاورت سے حل کرنا ہے کابینہ سازی کی تشکیل پر تینوں بڑے شہروں میں طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی انہی موقع پرعدیل شگری صاحب نے اپنا پہلا منشور ” صحت وتعلم پہلا منشور”کو مستقبل کے معماروں کو زہین نشین کرایا جس سے اچھی طرح سمجھ کر طلبا جوانوں نے نہ صرف پی ٹی آئی شگر کی حمایت کا اعلان کیا بلکہ پورے شوق اور ولولے کیساتھ اس پارٹی کی مکمل رکنیت حاصل کی کراچی سمت دوسرے دو بڑے شہروں سے ایک ھزار سے زائد طلبا نے ایک ہی وقت میں اس پارٹی سے منسلک ہونے کا اعلان کیا ساتھ ہی ساتھ عدیل شگری کی سیاسی قیادت ،قابلیت اور علاقے سے متعلق بہتر پالیسی کی وجہ سے دوسری پارٹیوں کی اہم وکیٹں بھی گرنے لگی اور اس پارٹی سے باقاعدہ طور پر الخاق ہوئے ۔
خطے کے ہر فرد مزدور ،امیر ،غریب ،بزنس مین ،تعلیم یافتہ عرض کہ ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے عام نوجوان مرد و خواتین بزرگ اور بچے سب علاقے میں تبدیلی کے خواہاں ہیں اور عوام اپنے پرانے سیاستدانوں سے سخت بے زار ہو چکی ہیں ساتھ ہی عدیل صاحب کی قیادت پر امیدیں وابستہ کر چکی ہےکہ سالوں سے محروم اس نوازئیدہ ضلع کے لیے یہی پارٹی وہ سب کریں گی جو باقی نہیں کر سکیں ۔
پچھلے حکمرانوں سے متعلق طلبا و عام نوجوانان شگر کا موقف صاف ظاہر ہے پچاس ہزار سے زیادہ ابادی والی اس علاقے میں دو ہی شخصیات باریاں لیتے رہے غلط سیاسی شعور ،جھوٹے وعدے ،اقرباپروری کے رواج ،رشوت خوری کی تلقین اور اپنے پیچے ذندہ باد کے نعرے لگاتے غلامی کی زندگی جیسی ناپاک سوچ کو معاشرے میں عام کیں ۔سیاحت کے لیے اہم سیاحتی مقام ہونے کے باوجود اس دور جدید میں نصف سے زیادہ شگر کے آبادیوں کا موبائل فون کی سروسس کا نہ ہونا اس بڑھ کر کچی کھنڈرات سڑکیں اس علاقے کے سیاسی حکمرانوں کے نااہلی کی منہ بولتا ثبوت سمجھی جاتیں ہیں ۔نہ صحت کے شعبے میں ترقی ہے نہ تعلیم کے میدان میں ، بیسک ھلتھ یونٹس میں ڈاکٹرز نہیں ،سکولوں میں سہولتوں کی فقدان ،پورے شگر میں صرف ایک ہی انٹر کالج دور افتادہ علاقوں میں تعلیم کی شرح دو فی صد تک نہیں نہ ایمبولینس نہ ہی قدرتی آفات سے بچاؤ کے ادارے موجود شگر کے جوانان پرانے سیاستدانوں سے ناامید ہو چکے ہیں اب توقعات نئی قیادت سے جوڑ دیں ہیں اور عزم کر رکھا ہے کہ عدیل شگری صاحب کے ساتھ ھاتھوں میں ھاتھ ڈال کر تبدیلی کی سونامی کو پورے شگر میں وسعت دیں گے اور تمام محرمیوں کا ازالہ کریں گے ۔
اب 2020 کے الیکشن کا انتظار ہے اس سےپہلے محترم عدیل شگری صاحب اپنی کامیابی کے لیے کیا نیی سیاسی دماغ چلاے گا جس سےمزید عوام متاثر ہو اور وہ اپنی کامیابی کو کیسے یقینی بنائیں گے یہ ان کی اپنی قابلیت اور محنت پر انحصار ہے مگر شگر کے جوانان ان سے امیدیں باندھ چکے ہیں امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش ان کی ضرور ہونی چاہیں ساتھ جوانوں کو انہیں توقعات کو پورا کرانے کے لیے موقع بھی فراہم کرنی چاہیں جس کے لیے ہر قدم بہ قدم آئیندہ کے انتخابات میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور نئی تبدیلی جو ترقی ،امن اور خوشحالی پر مشتمل ہو لانے کی ضرورت کو عام کرنی چاہیئے انشاللہ پکی حکمت عملی ہو تو کسی دن یہ محنت رنگ ضرور دیکھائے گا۔

تحریر: شجاع شگری

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*