متنازعہ حیثیت کے سبب پاکستان کی چھٹی مردم شماری سے بھی گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر خارج،سوشل میڈیا پر ہنگامہ۔

اسلام آباد( نامہ نگار) پاکستان کی چھٹی مردم شماری کا اعلان، گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کو نکال کر ٹوٹل آبادی پونے اکیس کروڑ سے بھی بڑھ گئی، دوسری طرف ادارہ شماریات کی جانب سے گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کو پاکستان کے آبادی میں شامل نہ کرنے پر غم غصہ اور افسوس کا اظہارکرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ گئی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان اور آذاد جموں کشمیر ایک متازعہ علاقہ ہے اور مسلہ کشمیر کی ممکنہ حل تک کیلئے پاکستان کے زیر انتظام ہیں لہذا یہاں کے شہری آئینی اور قانونی طور پر پاکستان کے شہری نہیں کہلاتے۔ گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے خطے کو صوبہ بنانے کی مسلسل مطالبے پر دفتر خارجہ، اور وفاقی وزراء بانگ دہل کہہ چُکے ہیں کہ گلگت بلتستان تنازعہ کشمیر کا حصہ ہے لہذا اس خطے کو پاکستان میں شامل کرنے سے بھارت کو کشمیر کے دیگر خطوں پر قبضہ کرنے کا موقع مل سکتا ہے لہذا جب تک مسلہ کشمیر کا تصفیہ نہیں ہوتے یہ علاقے پاکستان کے زیر انتظام رہیں گے۔ سروے آف پاکستان کے افیشل سائٹ پر بھی گلگت بلتستان کو باقاعدہ ریاست جموں کشمیر کی ایک اکائی کے طور پر پیش کیا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان کو یکم نومبر اُنیس سنتالیس کی آذادی کو بنیاد بنا کر اور سولہ دنوں پر مشتمل مقامی حکومت کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرتے ہیں تو اس خطے کی متنازعہ حیثیت ختم ہوسکتا ہے لیکن ایسا کرنے کیلئے کوئی تیار نہیں۔لہذا جو لوگ مردم شماری میں آبادی شامل نہ کرنے پر پریشان ہیں اُنہیں تاریخی حقائق کا مشاہدہ اور مسلہ کشمیر کو مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف وفاق پاکستان کو بھی چاہئے کہ گلگت بلتستان کو وہ تمام حقوق دیئے جائیں جو پاکستان ،ہندوستان اور اقوام متحدہ کے درمیان متفق ہیں۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc