بے ہنگم شور | تحریر۔ حمایت خیال

چند دن قبل میں موبائل گیم میں مصروف تھا. میرے روم میٹ میوزک کا دلدادہ ہے.اس نے بلند آواز میں میوزک لگایا. اتنے میں وہ کسی کام سے باہر چلا گیا. میوزک کے بےہنگم شور کو کم کرنے کے بجائے حسب عادت نیوز سننے نیوز چینل لگا دیا. میری پوری توجہ اب بھی موبائل گیم پہ تھی. اچانک بلتی میوزک کی آواز کانوں تک پہنچی. بلتی میوزک کے سننے کے بعد میری نظریں سکریں پر منجمند ہوئیں. یہ اس لئے بھی تھا کہ پاکستان میں نیوز چینلز کو گلگت بلتستان کے لئے عنقریب کوئی جگہ نہیں ملتی. البتہ کبھی کبھی موسم کی تبدیلیاں انہیں یہ بتانے پر مجبور کئے دیتی ہیں کہ گلگت بلتستان میں بارش یا برفباری کا امکان ہے. اس کے علاوہ ثقافتی اور سیاسی خبروں میں گلگت بلتستان شامل نہیں ہوتا. بلتی میوزک کو سننے کے بعد سکرین پر نظریں جمی تھیں. دیکھتا کیا ہوں سینکڑوں لوگ ثقافتی لباس میں ملبوس روایتی رقص کرنے میں مصروف ہیں. مجھ ایک دم جھٹکا سا لگا. میں سوچ رہا تھا کہ کوئی خواب تو نہیں. کہیں ایسا تو نہیں کہ وقت اگے نکل چکا ہو اور مجھ اب ہوش آ رہا. ایسا لگ رہا تھا کہ گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنایا ھو یا گلگت بلتستان کو ایک سٹیٹ کا درجہ ملا ہو. کہیں ایسا بھی تو نہیں کہ یہ لوگ کارگل لداخ روڑ کے کھلنے اور بچھڑے خاندانوں کے ملنے کی خوشی پہ ناچ رہے ہوں. یا حویلیاں ڈرائی پورٹ سوست منتقل تو نہیں ہوا. دیامر، گلگت میں متنازعہ والی زمینوں کا فیصلہ تو نہیں آیا. ؟ کیا گلگت سکردو روڑ تکمیل تک پہنچ گیا. بلتستان یونیورسٹی کا پہلا کانووکیشن تو نہیں. ؟ کیا یہ سیلاب متاثرین تو نہیں جو مالی امداد ملنے پہ ناچ رہے ہوں.؟ وغیرہ وغیرہ
لیکن یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ کار ریس کی اختتامی تقریب تھی. جو چند دن پہلے سرفرنگا شگر میں منعقد ہوئی تھی.
اس کے بعد میں یہی سوچتا رہا کہ ان لوگوں کو بنیادی حقوق سے نوازا جائے … بچھڑے خاندانوں کو ملایا جائے…. آئینی حیثیت مل جائے… تب ان لوگوں کی خوشی کا ٹھکانہ کیا ہو گا…………

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc