یو ایس ایڈ سے ایک گزارش۔۔

گلگت بلتستان کے اسلامی کلچر میں کافی عرصے سے مغرب زمین کے کچھ ترقی یافتہ دعوے کرنے والے کچھ این جی اوز کا صرف گلگت بلتستان کے ساتھ ہمدردی کا بازار کچھ زیادہہی نظر آرہےہیں اس ہمدردی کا بے حد ممنون ہوں۔اس ہمدردی کا شکریہ ادا کرنے کےلیے میں مغرب زمین کا (مطالعہ )نظارہ کیا تو مجھے شرمندگی محسوس ہوئی کہ یہ لوگ اپنے بحران غربت میں بھی اپنوں سے زیادہ غیروں کی دیکھ بال کرتے ھیں بلکہ میراہمدردی اپنے لوگوں سے زیادہ یورپ کے ترقی یافتہ مملکتوں میں سے زیادہ امریکہ کے لوگوں کے طرف میرےہمدردی کی شرح میں اضافہ ہوایہاں بچے،جوان، بوڑھے ،بہنیںہمارے بہنوں سے زیادہ محتاج نظر آئیں امریکہ میں عورتیں اپنے بچوں کو لیکر گلی کوچوں میں ایک لقمہ نون کے لیے تڑپ ر ہیںہیں یہاں امریکہ میں ایک جوان ایک وقت کے بھوک مٹانے کے لیے کام کرنے کو تیارہیں یہاں امریکہ یورپ میں زیادہ ماڈرن ہونے کہ وجہ سے فیملی فسادات میں بہت سارے جوان بوڑھے بے گھر روٹوں پر کارٹون کو اپنا فرش زندگی بنا کر زندگی گزار رہےہیں۔2011 میں امریکہ میں غربت کہ شرح 30 فیصد تھا اور اب تک اس شرح میں اضافپ ہوا نظر آتےہیں 2011 میں امریکہ کے ہر 6 نفر میں سے ایک نفر غربت کے شکار میں مبتلا تھے اور اسکی شرح میں بھی کمم ہوتے ہوے نظرنہیں آرہےہیں
لیکن اس تمام تر بحران کے باوجود یوایس ایڈ کو صرف ھماری فکر ھیں یورپین کلیچر نے اتنی ترقی کی ھیں کہ بھای بہن کو داد تحسین دے رھا ھے کہ ھماری بہن فلان اس غریبہ کے ساتھ کے ٹو سر کیا کچھ عرصے بعد بہن اپنے بھای کے لیے ایک نو مولد کا تحفہ لیکر آتی ھے بھائی بڑی خوشی سے اپنی پیاری بہن کی نومولد کو چوم لیتا ھے پھر ایک دن وھی نومولد اور ایک ماڈرن نومولد کو ساتھ لیکر آتے ھیں اسی طرح سلسلہ چلتا رھے گا ماڈرن کیلچر اتنی ترقی کریگا کہ ایک دن بھائی بھن کو نھیں پہچان سکے گا نہ باپ بیٹی کو۔این جی اوز، یو ایس ایڈ کے بحد ممنون ھے کہ ھماری فقارت کو دور کرنے کے ساتھ ھمارے تھذیب کا بھی فکر ھیں ایسی تھذیب کی بھائی،شوھر،باپ گھر میں آرام فرما رھے بہنیں ترقی کے آسمان کو چھو رہی ہیں۔گلگت بلتستان کے غیور بھائیوں سے یہی تمنا ہے کہ سوچئے سمجھئے آج تک گلگت بلتستان میں اتنی غربت نھیں آئی ہے کہہ ہم جناب زینب (س) کے کنیز بہنوں کو بھول جائیں آج تک گلگت بلتستان میں کوئی گدھائی کرتےہوے نظر نہیں آتے ہے آج تک ہم اپنے پاوں پر اسلامی تہذیب کے ساتھ بے نیازی سے زندگی گزار رہے ہیں این جی اوز،یو ایس ایڈ کو چاہئے کہ ہم سے زیادہ امریکہ میں فقارت ہیںہم سے زیادہ وہاں تہذیب کے بحران ہے۔ہم سے ہمدردی کے بجاے اپنے گلی کوچوں میں سونے والے بے سہارہ لوگوں کے مدد کیجئے یہاں سر زمین گلگت بلتستان میں اسلامی تہذیب کے ساتھ لوگ اپنے فیملیز کے ساتھ خوش و خرم اور بی نیازی کے ساتھ سفر طے کر رہےہیں۔ بلکہ یو ایس ایڈ سے گزارش ہے کہہماری اسلامی تہذیب کو غرب میں لاگو کریں تاکہ وہاں بیوی اپنے شوہر کو بہن اپنے بھائی کو پہچان سکے۔مجھے امید ہے کہ گلگت بلتستان کے بھائی ، بہنیں اس پالیسی کو سمجھے کہہم سے زیادہ امریکہ میں زیادہ غربت اور فکری روانی بحران ھیں اسکے باوجود یہ این جی اوز یو ایس ایڈ وغیرہ کو ھماری فکر کیوںہیں!!!
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

تحریر : محمد اعظم شگری

جامعہ علمیہ کراچی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc