بے حس حکمران اور علوی اصول سیاست

مانتا ہوں کہ ہمارا دور مادی، علمی اور فکری ترقی کا دور ہے۔ ایک دور تھا کہ لوگ غاروں میں زندگی بسر کرتے تھے۔ ہر جہت سے لوگ پسماندگی کا شکار تھے۔ تفکر اور تعقل کی روشنی میں امور زندگی چلانے سے لوگ قاصر تھے۔ نہ و ہ اجتماعی و معاشرتی زندگی کی اہمیت سے آشنا تھے اور نہ ہی وہ امور زندگی میں ترجیحات کی تشخیص کی صلاحیت رکھتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ انسان و انسانیت کی منزلت، وقار اور صفات سے بھی ناواقف تھے۔ لیکن ہمارے دور میں پوری دنیا سمٹ کر انسان کی مٹھی میں بند ہوچکی ہے۔ بچہ بچہ منٹوں میں پوری دنیا کے حالات سے آگاہی حاصل کرسکتا ہے۔ غرض ہمارا دور گزشتہ ادوار سے مادی، علمی، فکری و،،،، ترقی کے اعتبار سے ہرگز قابل مقایسہ نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آج کے ہمارے ترقی یافتہ معاشرے میں ہمارے علم سے کہیں ذیادہ ہماری جہالت کا راج ہے۔ بلکہ یہ کہنا ذیادہ حق بجانب ہوگا کہ ہماری جہالت میں روز بروز مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اتنی علمی پیشرفت کے باوجود کچھ مفاہیم سے ہم نہ صرف جاہل ہیں بلکہ ان کی نسبت ہم جہل مرکب کا شکار ہیں۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہم ان مفاہیم سے جاہل و بیگانہ ہیں۔ ان مفاہیم میں سر فہرست سیاست کا مفہوم ہے۔ ہمارے معاشرے میں بحث و مباحثے اور نقد و اشکال کے لئے لوگوں کا سب سے محبوب و دلچسپ موضوع سیاست ہے۔ اپنی سیاسی پارٹی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے اور اپنے حریف کو زیر کرنے کی خاطر لوگ کٹ مرتے ہیں۔ لیکن حقیقت سیاست سے لوگ بالکل اجنبی ہیں۔ آج ہمارے معاشرے میں جو جتنا مکار، فریب کار، دروغگو اور چالاک ہوگا، اس کو اتنا ہی بڑا سیاست دان سمجھا جاتا ہے۔ جو قومی خزانے کو لوٹ کر لوگوں کو بے وقوف بنالے، ہمارے لوگ اس کو عظیم سیاستمدار سمجھتے ہیں۔ اس کی واضح مثال ہمارے سابقہ وزیر اعظم صاحب ہیں، جنہوں نے اپنی مادی خواہشات سے مغلوب ہوکر قومی خزانہ لوٹا، قوم کے پیسے سے دیارغیر میں خوب بینک بیلنس بنایا، جائدادیں خریدیں، قوم پر اس حقیقت کا انکشاف ہوا۔ پانامہ لیکس منظر عام پر آیا۔ پانامہ لیکس کا ذکر زبان خاص و عام پر جاری ہوا۔ ہمارے وزیر اعظم صاحب کو یقین ہوا کہ میری حکومت کی سرنگونی کا وقت آپہنچا ہے۔ قوم مجھے ہرگز نہیں بخشے گی۔
چنانچہ پانامہ لیکس کے موضوع سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے وہ بیمار بن گئے۔ ایسا مریض بن گئے کہ جس کا علاج وطن عزیز میں ممکن نہ تھا۔ مقصود لوگوں کو بے وقوف بننا تھا۔ چنانچہ وقتی طور پر اسے اپنے ہدف میں کسی حد تک کامیابی بھی ملی- لوگ نہ صرف خاموش ہوئے، بلکہ ان کی بناوٹی بیماری سے ان کی شفایابی کے لئے دعائیں مانگی گئیں۔ لیکن ذیادہ دیر نہیں گزری عدالت عظمی نے قانون کے مطابق اسے منصب وزارت سے نااہل قرار دیا گیا مگر عقل کل کا مالک سمجھنے والے معزول شدہ وزیراعظم نے نہ صرف اپنے جرم سے شرمندگی کا احساس کرتے ہوئے قوم سے معافی نہیں مانگے بلکہ چور مچائے شور کا مصداق تام بنتے ہوئے اپنی پارٹی کو لے کر میدان میں نکلے اور عدلیہ کو چیلینچ کرتے ہوئے پاکستان کی گلی کوچے میں مجھے کیوں نااہل قرار دیا کا نعرہ بلند کرتے ہوئے شور مچاتے رہے اور اپنے بچاو کے لئے نت نئی ترکیبیں سوچتے اور عملی کرتے رہے یہاں تک کہ آئین پاکستان کی شقیں بدلنے کے لئے بھی اپنی مقدور بھر کوشیشیں کئیں نتیجہ یہ ہوا کہ عدالت عظمی نے انہیں پارٹی صدارت سے بھی نااہل قرار دیا گیا ہماری نظر میں عدالت نے انصاف سے فیصلہ کرکے ایک بار پھر پاکستانی قوم کو مایوسی کی تاریکی سے نکال دیا ہے اور پوری قوم پر اپنی طاقت کا کھلا مظاہرہ کیا گیا بلاشبہ یہ ایک خوش آئند اقدام ہے جس پر پوری قوم کو عدالت کی تحسین کرنی چاہئے ۔ اگر ہمارے حکمران سیاست کے حقیقی مفہوم سے آشنا ہوتے تو یہ صورتحال پیش نہ آتی۔ کاش ہمارے حکمران علیؐ کی حقیقی سیاست سے کچھ سیکھ لیتے ۔علی ابن ابی طالب کی نظر میں سیاست کا مفہوم بہت ہی عمیق ووسیع ہے۔ آپ کے نزدیک سیاست سے مراد ہدایت و رہبری، تدبیر امور، اور دونوں جہاں میں انسان کی سعادت و خوشبختی کے لئے سامان فراہم کرنا ہے۔ علی ع کی نظر میں سیاست کا معنی ہرگز تجبر، زورگوئی، خودرای، اور قدرت کے بل بوتے پر دوسروں پر مسلط ہونا نہیں، علی ؐنیک اور درست سیاست کو انسان کے لئے مایہ حیات سمجھتے ہیں۔ ایک جگہ آپ ع فرماتے ہیں ” حسن السیاسۃ قوام الرّعیہ ” اچھی سیاست شہروں کو محکم بنا دیتی ہے۔ یا دوسری جگہ فرماتے ہیں “حسن السیاسۃ یستدیم الریاسۃ” حسن تدبیر سیاست اور سرداری کو باقی رکھتے ہیں۔ ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں ” من حسنت سیاستہ دامت ریاستہ ” جس کی حکمت عملی اچھی ہوگی اس کی ریاست اچھی ہوگی، اس کی ریاست باقی رہے گی۔ (المک سیاسۃ) مملکت داری ہی سیاست ہے۔ آپ کی نظر میں مادی طاقت یا قدرت کے زور سے سیاست دان بن کر لوگوں میں سیاست کرنا، ایک لغو و بے ہودہ کام ہے۔ علی ؐ کی سیاست کی بنیاد عدل وانصاف، امنیت، سکون وراحت، ہر ایک کے حقوق کا پابند، مناسب موقع پر مناسب حکمت عملی، مظلوم کی حمایت ظالم کی مخالفت، وغیرہ ہیں۔ آپٕ ع کی سیاست فطرت انسان، اور عقل و نقل کے عین مطابق ہے. کاش ہمارے حکمران علیؐ کی حقیقی سیاست سے کچھ سیکھ لیتے۔ آپ ع کی نظر میں دینی معیار پر معاشرے کی سرپرستی کرنا سیاست ہے، فرد و معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے تدبیروں کو بروئے کار لانے کا نام سیاست ہے۔ علی ؐ نے اسلامی سیاست کے اصول اور قوانین بھی بیان فرمائے ہیں۔ جن کو آپ ؐ نے اپنے شائستہ سردار اور اپنے قوت بازو مالک اشتر کے نام ارسال کردہ مکتوب میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس مکتوب کو اقوام متحدہ نے اپنے چارٹر میں شامل کیا ہے۔ رہبر کبیر انقلاب امام خمینی َ نے انقلاب اسلامی کی اساس میں شامل کیا ہے۔ کاش ہمارے حکمران علیؐ کی حقیقی سیاست سے کچھ سیکھ لیتے۔ آپؐ نے مالک اشتر سے فرمایا ” رعایا میں دو قسم کے لوگ ہیں (اما اخ لک فی الدین او نظیر لک فی الخلق) جن میں بعض تمہارے دینی بھائی ہیں اور بعض خلقت میں تمہارے دینی بھائی ہیں، ان سے عفو درگزر سے کام لینا، اس کی علت کے بیان میں آپ ؐ نے ایسا جملہ فرمایا جو سونے سے تحریر کرنے کے قابل ہے۔ فرمایا اس لئے کہ تم ان ( عوام ) کے حاکم ہو اور تمہارے اوپر تمہارا امام حاکم ہے اور جس امام نے تمہیں والی بنایا ہے، اس کے اوپر اللہ حاکم ہے۔ علیؐ نے قیامت تک آنے والے حکمرانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا کہ وہ اقتدار کے نشے میں مست ہوکر یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ وہ مطلق العنان حکمران بن چکے ہیں۔ ہر طرح کے احتساب سے وہ بالاتر و بری الذمہ ہیں۔ نہیں ایسا ہرگز نہیں بلکہ وہ بھی کسی کے سامنے جواب دہ ہیں۔ مکتوب میں دوسرا دستورالعمل یہ بیان فرمایا ” کہ خبردار اپنی ذات اور اپنے خاص عزیزوں اور رعایا میں سے اپنے دل پسند افراد کے بارے میں حقوق اللہ و حقوق الناس کے متعلق بھی انصاف کرنا کیونکہ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو ظالم ٹھہرو گے۔ وطن عزیز پاکستان میں تو اقربا پروری، من پسند افراد دوست احباب، دفتری ساتھی، پارٹی کے رہنما و کارکنان کا تقرر، رشوت لیکر نوکری دلوانا حکمرانوں کی پہچان کی ہیں۔ تیسرا دستورالعمل آپؐ نے یہ بیان فرمایا ” کہ تمہیں سب طریقوں سے ذیادہ وہ طریقہ پسند ہونا چاہئے جو حق کے اعتبار سے بہترین ہو۔ انصاف کے لحاظ سے سب کو شامل ہو، رعایا کی اکثریت کی مرضی کے مطابق ہو۔ چوتھا دستورالعمل یہ بیان فرمایا ” کہ خبردار عیب جوئی نہ کرنا۔ حکمرانوں کو عیب جوئی سے منع فرمایا ہے۔ پانچویں دستورالعمل یہ فرمایا ” کہ وہ ایسے لوگوں کو اپنے وزیر، مشیر اور قریبی نہ بنائیں جو سابقہ بدکرداروں کے مشیر، وزیر رہے ہوں. یہ کچھ نمونے ہیں۔ ہمارے حکمران تعصب و جہالت کی عینک اتار کر اگر اس دستاویز سے راہنمائی لیں، تو عجیب نہیں وطن میں عدل وانصاف کا راج ہو۔ امن وآشتی کی حکومت ہو۔ محبت و اخوت کا پرچار ہو، پاکستان امن کا گہوارہ بن جائے۔

تحریر: محمد حسن جمالی

اسلامک اسکالر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc