اس پاک دھرتی کے باشندوں کیلئے۔۔

اس دھرتی  کے باشندو! آپ سے کچھ  عرض کرنی ہے ۔  میری عرض سنیے گا ضرور ،   ہاں اگر ہو سکے تو   اس پر غور کیجئے گا جو میں عرض کرنے جا رہا ہوں  اس پر اور  غور کرنے کے بعد  فیصلہ کر لیجئے گا کہ   میں صحیح کہہ رہا ہوں یا غلط ۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا  یہی  سننے ، دیکھنے  اور پڑھنے  کو ملا کہ    ملک ِ پاکستان میں  کوئی شخص آنے والا  ہے( یعنی  سلطنت ِ پاکستان  کا حکمران ) جو اس ملک کو ہر پہلو سے خوشحال  بنا دے گا  ۔بالکل امن و سلامتی ہو گی ،ہر طرف انصاف ہو گا ،کرپشن بالکل ختم ہو جائے گی ، معاشی خوشحالی ہو گی ،  معیاری تعلیم دی جائے گی ، روزگار  کا مسئلہ ،مسئلہ  نہ ہوگا ۔یعنی اس کے علاوہ  بہت کچھ ہو گا۔ ایسی تبدیلی  کسی بھی شخص کے حکمران بننے سے ہر گز نہیں  آ سکتی  ۔ ہاں ایسا ہو سکتا ہے  کہ کسی   ایماندار اور ذہین  آدمی   کا اس ملک کے  حکمران بننے سے ملک کے  کچھ نظام تو ٹھیک ہو سکتے ہیں پر ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے ۔بھلا  ہم کیسے  کسی ایک شخص  کی وجہ  سے ٹھیک ہو سکتے ہیں ۔ ہمارے دلوں میں جو دوسروں کے لیے نفرت بھری  ہوئی ہے اس کا کیا ؟ہم جو مہذبانہ  رویہ بھول چکے اس کا کیا ؟ہماری زبانیں  جو   دوسروں کےلیے زہر انگلنے لگی  ان کا کیا ؟ہم جس   اخلاقی پستی میں گر چکے اس کا کیا ؟  کیا ہمیں  اندازہ   بھی ہے کہ اس سے باہر نکلنے کے لیے ہمیں کتنی زیادہ محنت اور کتنے زیادہ وقت کی ضرورت  ہو گی  ۔ شاید   صدیاں لگ جائیں۔ اگر ہم نے واقعی تبدیلی لانی ہے  یا دیکھنی ہے تو  ہمیں شعور کی بیداری کی ضرور ت ہے ۔  تبدیلی  کا شعور کے ساتھ گہرا ربط ہے ، یعنی جب تک   ہم میں شعور  بیدار نہیں ہوگا ، جب تک  ہم   حق و باطل  ، صحیح و غلط میں  فرق نہ کر سکیں گے  تب تک  یہ نظام جیسے تیسے چل رہے ہیں  ایسے ہی چلتے رہیں گے ۔ اس ملک کے ہر شخص میں شعور کی بیداری  ہی ملک میں تبدیلی لا سکتی ہے ۔ یہ میرا خیال ہے  اگر آپ  کوئی اور خیال کیے ہوئے ہیں تو بے شک کریے  پر   میرے خیال سے اگر تبدیلی آنی ہے تو وہ  کسی شخص ( یعنی  سلطنت ِ پاکستان  کے حکمران )کے آنے سے نہ ہو گی بلکہ  نچلے درجے سے اگر ہم انفرادی طور پر اپنے اندر  تبدیلی لانا شروع کریں تو تب ہی ممکن ہے ۔ یعنی   ہر   شخص انفرادی طور پر اپنے آپ میں تبدیلی لائے۔ مجھ سمیت  ہر شخص   یہ سوچے کہ اس کے اوپر کیا  فرائض ہیں ؟ اس کے اوپر کیا ذمہ داریاں ہیں ؟  کیا وہ   اپنے فرائض کو  ویسے ہی پورا کر رہا ہے جیسا ان کا حق ہے ؟ کیا وہ اپنی ذمہ  داریاں  پوری طرح ٹھیک نبھا  رہا ہے  ؟  کہیں وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں  میں کوئی کوتاہی تو نہیں کر رہا ۔ کچھ لوگ  اپنی ذمہ داریوں کو  ٹھیک سے نبھاتے نہیں یا ذمہ داریوں کو ذمہ داری ہی نہیں سمجھتے اور خیال کرتے ہیں  ان کے ایسا کرنے سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے۔ جو لوگ   اپنی ذمہ داریوں کو ذمہ داری نہیں سمجھتے  ان کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک بادشاہ نے لوگوں کو  حکم دیا کہ اس بستی کا ہر شخص  دودھ  سے بھری  بالٹی لائے اور اس دودھ کو فلانی جگہ جمع کرے ۔ تو اس بستی  کے ہر شخص کے ذہن میں یہی خیال تھا کہ  اتنے لوگ  وہاں دودھ جمع کریں گےا ور اگر میں  نے وہاں میں  پانی سے بھری  ایک بالٹی دودھ میں شامل کر دی تو بادشاہ کوکیا پتا  چلے  گا  یا کسی  اور کو کیا پتا چلے گا  ۔  یہی خیال سبھی لوگوں کے ذہنوں میں تھا اور وہ سب دودھ  کے بجائے پانی جمع کر آئے ۔ صبح اٹھ کے بادشاہ   نے  جب وہ جگہ دیکھی تو  اس نے دودھ کی جگہ صرف پانی ہی پایا  ۔ کسی بھی ایک شخص نے دودھ  وہاں جمع نہ کیا  ۔ شاید بادشاہ انہیں یہ ثابت کر کے بتانا چاہ رہا تھا کہ اگر کوئی ایک شخص غلط ہے  یا غیر ذمہ دار  ہے اور وہ سوچتا ہے  کہ اس کے غلط ہونے  یا اس کی غیر ذمہ داری  سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے ۔تو وہ فرق ان سب نے دیکھا۔ ہمیں انفرادی طور پر اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔اس کے لیے ہر شخص سوچے کہ اس کا کر دار کیسا ہے ، اس کا اخلاق کیسا ہے ، اس کا دوسروں کے ساتھ رویہ کیسا ہے ۔ جس معاشرے میں وہ رہ رہا   اس معاشرے کے لوگوں کے ساتھ   اس کا    کھانا پینا ، اٹھنا  بیٹھنا ، چلنا پھرنا  اور بات چیت کرنا کیسا ہے ۔  ۔وہ سوچے کیا اس کا اخلاق اچھا ہے ؟ کیا اس کا کردار اچھا ہے؟ کیا اس کا دوسروں کے ساتھ رویہ اچھا ہے؟ وہ سوچے کے اس کے کسی فعل سے کوئی دوسرا شخص کسی اذیت کا شکار تو نہیں ، وہ سوچے  کہ اس کے ہاتھ او ر زبان سے کسی دوسر ے شخص کو کوئی تکلیف تو نہیں پہنچ رہی۔ جب ہم اپنے فرائض کو فرائض سمجھتے ہوئے ان کی ادائیگی کریں گے ، جب ہم اپنی ذمہ داریوں کو  ذمہ داری سمجھتے ہوئے نبھائیں گے ، جب ہمارا خلاق اچھا ہو گا ، جب ہمارا کردار اچھا ہو گا  ، جب ہمارا دوسروں کے ساتھ رویہ اچھا ہو گا  ،جب ہم  صحیح و غلط میں فرق جان لیں گے ،جب ہم حق و باطل میں  فرق جان لیں یعنی حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھیں گے، جب ہم ہاتھ اور زبان سے کسی دوسری انسان کو کوئی اذیت نہ پہنچائیں گے تو یقیناً  ہمارے معاشرے میں امن و سلامتی ہو گی ، وہ سب ہو گا   جس  کے خواب ہم برسوں سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں  اور ہمیں   ایک  واضح  بدلاؤ نظر آئے گا  ۔

 

تحریر : محمد فیاض حسرت

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc