کیا ریاستی بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے۔؟

مجھے اپنی آنکھوں اور کانوں پے یقین نہیں آرہا میں پچھلے تین دنوں سے کنفیوز تھا اور کل رات سے خوش گوار حیرت کے مارے عجیب گومگوں کی کیفیت میں مبتلا ہوں۔(1)سب سے پہلے پچھلے دنوں آرمی نے رتھ فاو کو 18 توپوں کی سلامی کے ساتھ پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیا جس سے یقیناً فوج کی ہی توقیر میں اضافہ ہوا.(2) اس کے بعد کل کی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے منہ سے بانی پاکستان اعظم محمد علی جناح کے تاریخی الفاظ کی گونج سنی وہ کہ رہے تھے پاکستان صرف مسلمانوں کا نہیں تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ہے۔اور لوگوں کی مذہبی معاملات سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں۔(3) مسلکی اور مذہب کے بنیاد پے نفرتیں پھیلانے والے را کے ایجنٹ ہیں. ڈی جی آئی ایس پی آر کے تمام باتیں خوش آئند ہیں۔ اور ان سے سو فیصد متفق ہیں تھوڑے اضافے کے ساتھ کہ مذہبی انتہا پسندی اور تعصب اور نفرتیں پھیلانے والوں کی جڑیں اسی زمین میں ہیں مگر انکو دشمن قوتیں استعمال کرتی ہیں انکی جڑیں کاٹ دیں تا کہ دشمن انہیں استعمال نا کر سکیں.ہم غیر آئینی پاکستانی تمام محرومیوں کے باوجود پاکستان کے خیر خواہ ہیں.ہماری خواہش ہے کہ یہ صرف باتیں نا ہوں ریاست حقیقت میں یہی پالیسی اپناے اور اس میں کچھ مزید اضافہ کریں سینٹ کو مزید با اختیار بناتے ہوے تمام زبانوں کو قومی زبان قرار دیں.تا کہ تمام چھوٹی قومیتوں کا فیڈریشن /پاکستان میں سٹیک بڑھے زیادہ اپنایت محسوس کریں.اور ہم جیسے محکوم استحصال زدہ خطے کے لوگوں سے بھی با قاعدہ معاہدہ کریں الحاق یا پاکستانی فیڈریشن میں ہمارا کردار اور حیثیت واضح کریں ہمیں پاکستانی فیڈریشن میں برابر کے حقوق دیتے ہوے یہ گارنٹی دیں کے ہماری دھرتی کے ہندوستان اور چین کے ہاتھوں مقبوضہ حصوں کو کسی بھی طرح واپس لانے کی کوشش کریں گے.اس بنیاد پر ہم خلوص دل سے پاکستان میں شامل ہونے کا سوچ سکتے ہیں.گارنٹی اس لئے چاہیے کہ ہمارا پاکستان کے تخلیق سمیت کسی بھی جدوجہد میں کوئی کردار نہیں قیام پاکستان کے حوالے سے نا ہی ہم بر صغیر کا حصہ رہے ہیں کبھی کسی بھی حوالے سے خواہ ثقافتی ہو یا تاریخی و جغرافیایئی ہم اپنی الگ شناخت یا پہچان کو کسی ریاست یا حکومت تو دور کی بات ہے مذہب کے لئے بھی نہیں کھو سکتے.لہٰذا ریاست پاکستان ہماری جذبات و احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں ہم تعلق اور رشتے نبھانے والے لوگ ہیں.ہمارے سب لوگوں کو تھوڑے عرصے کے لئے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے تھوڑے لوگوں کو ہمیشہ کے لئے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے مگر یاد رکھیں ہمارے سارے لوگوں کو ہمیشہ کے لئے بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ بدلتی دنیا کا ادراک کرنا چاہیے وقت بدل رہا ہے سوچ بدل رہی ہے ریاست و مذہب انسان کے لئے ہی وجود میں آئی ہے تو گلگت بلتستان کے لاکھوں انسانوں کی انسانی حقوق کا احترام کرتے ہوے انکی الگ شناخت تشخص کو تسلیم کریں۔انہیں انکا حق دیں اس میں آپکا ہی بھلا ہوگا پاکستان مضبوط ہوگا۔
تحریر : آصف ناجی ایڈوکیٹ

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc