سابق وزیر اعظم آذاد کشمیر کا گلگت بلتستان کو آذاد کشمیر کے ساتھ ملانے کا مذموم مقاصد بے نقاب۔

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) کشمیر میڈیا سروس کے مطابق صدر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس و سابق وزیر اعظم آذاد کشمیر سردارعتیق احمد خان نے کہا ہے پیپلز پارٹی دور حکومت میں آئینی ترامیم کے مسودے کی تیاری کے دوران کبھی بھی کشمیر کونسل کے خاتمے پربات چیت نہیں کی گئی۔ کشمیر کونسل ، وزارت امور کشمیر کے بعد کا ایک قابل قبول ارینجمنٹ تھا ۔ کشمیر کونسل، مظفرآباد اور اسلام آباد حکومتوں کے درمیان ایک آئینی پل ہے۔ کونسل کے انتظامی اور مالی اختیارات محدود کر کے آئینی اختیار بحال رکھا جائے اورگلگت بلتستان کو بھی اس کشمیر کونسل میں نمائندگی دی جائے۔
یاد رہے گلگت بلتستان کونسل کی تحلیل کے بعد وفاق نے گلگت بلتستان کونسل کے تمام اختیارات قانون ساز اسمبلی کو منتقل کرکے اسمبلی کا نیا نام قانون ساز اسمبلی ختم کرکے گلگت بلتستان صوبائی اسمبلی جبکہ مقامی ایم ایل ایز کا نام ایم پی رکھنے کے حوالے سے باتیں بازگشت ہورہا ہے۔ مگر گلگت بلتستان اسمبلی کس حیثیت میں وفاق کے سامنے گلگت بلتستان کی نمائندگی کریں گے اس حوالے سے ابھی تک کوئی میکنزم تیار نہیں کیا کیونکہ موجودہ نظام صدراتی آرڈننس کے پلر پر کھڑی ہے  اور آئین پاکستان میں گلگت بلتستان کو ریاست جموں کشمیر کا حصہ مسلہ کشمیر کا جزو قرار دیا ہوا ہے جبکہ آذاد کشمیر حکومت کو ایکٹ 74 کے تحت آئینی پروٹیکشن حاصل ہے۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے سردار عتیق کا بیان انتہائی مضحکہ خیز ہے اور اس بیان سے گلگت بلتستان کونسل کی خاتمے پر شکوک شبہات پیدا ہورہا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc