تازہ ترین

وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن کا سکردو میں سرفہ رنگاہ کاریلی کی اختتامی تقریب میں شرکت ، سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کئے بغیر حب روایت کمیٹی بنا کر بحالی کا وعدہ کرکے واپس چلے گئے۔

سکردو( نامہ نگار) سرفہ رنگاہ کار ریلی کی اختتامی تقریب میں شرکت کیلئے وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن سکرود آئے تو مقتدر حلقوں کا یہی کہنا تھا کہ وہ سیلاب ذد ہ علاقوں کا بھی دورہ کریں گے۔لیکن بدقسمتی سے اُنہوں نے ایسا نہ کرکے عوام کو مایوس کیا۔ وزیر اعلیٰ نے سکردو میں پریس کانفرنس کرکے خود پر تنقید کو مسلکی رنگ دینے کی کوشش کرکے بلتستان کے مسائل کی حل کے حوالے سے اپنی خراب کارکردگی کو چھپانے کی کوشش کی۔ پریس کانفرنس میں اُنہوں نے حسب سابق متاثرین سیلاب کی بحالی کیلئے وعدے کئے اور دو ماہ کے اندر متاثرین کو گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا ،اُنہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی میں کوئی کوتاہی نہیں کریں گے، کمشنر بلتستان کی سربراہی میں متاثرہ علاقے کی بحالی او رتعمیر نو کے کام کو تیز کرنے کیلئے باقاعدہ کمیٹی بنا دی گئی ہے، ۔ انہوں نے کہاکہ سیلاب کی تباہ کاریوں پر ہم ہرگز سیاست نہیں کریں گے،لیکن ساتھ ہی سابق حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ اپنی حکومت کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کا بجٹ آٹھ ارب روپے سے بڑھا کر پندرہ ارب روپے کردیا ہے، بلتستان میں دو نئے اضلاع بنائے، بلتستان یونیورسٹی کے قیام کی منظوری دیدی جس کیلئے دو ارب روپے منظور ہوچکے ہیں۔ چوبیس اگست کو ایچ ای سی کے چیئرمین بلتستان آرہے ہیں۔ یونیورسٹی کی عمارت بننے تک ڈگری کالج سکردو بلتستان یونیورسٹی کی کلاسیں شروع کی جائیں گی۔

یاد رہے پریس کانفرنس کے دوران مقامی صحافیوں نے چُپ کا روزہ رکھا ہوا تھا اور کسی کو یہ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ متاثرین علاقوں کا دورہ کیوں نہیں کررہا ہے،سکرود روڈ کی تعمیرکیلئے کب تک جھوٹ بولتے رہیں گے،سکردو کرگل روڈ کی بحالی کیلئے محبوبہ مفتی کی بیان کے بعد وہ کیا حکمت عملی طے کریں گے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*