ضلع کھرمنگ گوہری تھنگ حقائق و حالات۔

گوہری تھنگ گوہری اور ہلال آباد کے درمیان میں واقع وسیع میدان کا نام ہے یہ تھنگ برسوں سے گوہری سادات اور مادھوپور کے درمیان متنازعہ رہا ہے اب تک یہ تنازعہ حل نہیں ہوا ہے۔ جب سے کھرمنگ ہیڈکواٹرر یہاں بنانے کا حکومت نے منصوبہ بنا یا ہے یہ معاملہ سوشل میڈیا پر مادھوپور غاسنگ تا ح ہلال آباد والوں کی بحث کا محور بنا ہوا ہے۔ مادھوپور کے عوام کا موقف ہے یہ تھنگ پہلے مادھوپور والوں کا چراگاہ رہا ہے اور ہم نے گوہری سادات کو دینی مبلغ کے طور پر بسایا تھا لہذا ان کو اتنی ہی زمین استعمال کرنے کا حق ہے جتنا ہم نے ان کو دی ہے اس کے علاوہ باقی زمینوں پر قبضہ کی حق نہیں رکھتا ۔ دوسری طرف گوہری سادات کا موقف ہے کہ ہم برسوں سے یہاں رہائش پزیر ہیں جس طرح بلتستان کے باقی علاقوں میں قانون ہے کہ جس جگہ جس گاوں کے قریب ہے یا جغرافیائی طور پر اسکا حصہ حریم کہلاتا ہے وہ جگہ اسی کا ہوتا اسی طرح گوہری تھنگ گوہری سادات کے قریب ہے اور جغرافیائی طور پر گوہری سادات محلے کا حصہ ہے لہذا گوہری تھنگ گوہری سادات کی ملکیت ہے۔ اس معاملے کی گونج شرعی اور قانونی عدالتوں میں بھی ہے رپورٹ کے مطابق گلگت عدالت اور سکردو شرعیہ نے فیصلہ مادھوپور عوام کے حق میں دیا ہے۔ لیکن سوال اگر شریعی اور قانونی عدالتوں نے فیصلہ مادھوپور عوام کے حق میں دیا ہے تو اب تک مادھوپور عوام نے اپنے قبضے میں کیوں نہیں لیا؟ یا اس کو آباد کرنے یا مادھوپور عوام کے درمیان تقسیم کرنے کے لیے کیوں اقدام نہیں اٹھائے۔ یاد رہے مادھوپور کے عوام نے اس سے پہلے بھی صحیح فیصلہ نہ لینے کی سبب ایک تھنگ ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ژھوق سے اوپر موجود تھنگ کو آباد کرنے کے لئے شیخ محسن علی نجفی نے اپنے ذاتی کوششوں سے آج سے سات اٹھ سال پہلے چار کروڑ کا منصوبہ رکھا تھا لیکن مادھوپور کے عوام نے اسے صرف مادھوپور عوام کی ملکیت کا دعوی کیا جس پر شیخ محسن صاحب برہم ہوگئے اور منصوبے پر عمل نہ ہوسکا۔ اب اس تھنگ پر جنگی جہاز کے لیے ایئرپورٹ بنانے کی تیاری جاری ہے اور مقتدر ادارے نے ناب تول بھی مکمل کی ہے۔ اسی طرح گوہری تھنگ کو بھی حکومت باپ کا جاگیر سمجھ کر خاموشی سے کسی کو ایک پیسہ دیے بغیر ہیڈکوارٹر بنانے کی تیاری کی جاری ہے لیکن اس ظلم کے آگے گوہری سادات کے استقامت قابل تعریف ہے۔لہذا مادھوپور عوام سے گزارش ہے یا تو آپ اس ظلم کے آگے ڈٹ جائیں اور یا گوہری کے عوام کے ساتھ ملکر لڑیں وگرنہ اب خاموش رہیں اور گوہری سادات کو اپنا جدوجہد جاری رکھنے دیں ورنہ اس تھنگ پر بھی دوسرے تھنگ کی طرح حکومت یا فوج قبضہ کر لے گی اور بدلے میں ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں گے اور ایک دوسرے کا دست گریبان ہو کر رہگا لہذا میری مادھوپور عوام سے گزارش ہے وقت کے حساب سے اور وقت کے تقاضے کو دیکھ کر ماضی کے دشمنی اور انا پرستی بلا تر ہو کر فیصلہ کرے ایسا فیصلہ جس سے ہماری باپ کی جاگیر ہمارے پاس رہے اور فائدہ ہمارے حق میں ہو ہم ایک ہی قوم مسلک زبان کی ہے ہم سب ایک دوسرے کی خوشی غم میں شریک رہتے ہے تو ہم کیوں اتنی وسیع میدان کو آسانی سے کسی تیسرے کے ہاتھ میں اتنی آسانی سے جانے دیں۔

تحریر: شہزاد علی بلتستانی

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc