ناقص میٹریل کا استعمال،ضلع کھرمنگ منٹھوکھا 1.5MWبجلی گھر تکمیل سے پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار۔

کھرمنگ(قاسم قاسمی) ضلع کھرمنگ کے سیاحتی مقام موضع منٹھوکھا (گیمل ) کے مقام پر زیرتعمیر 1.5 میگاواٹ بجلی گھر ناقص اور غیر معیاری میٹریل کی استعمال اور کرپشن کی وجہ سے تعمیراتی کام مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کے شکار ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق 2015 میں 33 کروڑ کی لاگت سے زیر تعمیر بجلی گھر کو سیاسی اثررسوخ کا استعمال کرکے پہلےمتعلقہ ٹھیکدار اور محکمہ پی ڈبیلو ڈی کے افسران نے ملی بھگت سے لاگت کم کرنے کیلئے غلط سائٹ سلیکشن کرکے پہاڑی تودہ گرنے اور مسلسل سیلاب والے مقام پر لگائے ہیں۔ ساتھ ہی بجلی گھر کی تعمیراتی کام مقامی ناتجربہ افراد کو لوکل سطح پر ٹھیکہ دیکر واٹر سپلائی پائپ بٹھانے والے سمینٹ کے سٹینڈمیں سیمنٹ کم اور پتھر ذیادہ استعمال کرکے تکمیل سے پہلے ہی جگہ جگہ سے ٹوٹنا شروع ہوا ہے۔ اہل علاقہ کی جانب سے متعلقہ کنٹریکٹر کا اس طرف بار بار توجہ مبذول کرانے کے باوجود سیاسی اثر رسوخ کا سہارا لیکر اس طرف توجہ نہیں دیا ۔ اہل علاقہ نے چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ مقام کا دورہ کریں اور اس اہم پراجیکٹ میں سرکاری خزانے کو چونا لگانے والوں کے خلاف کاروائی کریں کیونکہ ضلع کھرمنگ میں مستقل بنیاد پر ڈپٹی کمشنر تعنیات نہ ہونے کی وجہ سے ضلع بھر میں اس قسم کے اہم مسائل کا کوئی پرُسان حال نہیں۔ دوسری طرف متاثرین بجلی گھر نے میڈیا سے خصوصی بات کرتے بتایا کہ اس بجلی گھر کیلئے استعمال شدہ زمینوں کی معاوضہ جو کہ ایک کروڑ 14 لاکھ کے قریب بنتا ہے مگرپانچ سال کا عرصہ گزر جانے باوجود حکومت کی طرف سے صرف وعدہ ہی کیا جارہا ہے۔ متاثرین کے مطابق اُنہوں نے اس سلسلے میں کئی بار ڈی سی کھرمنگ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے باوجود آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ اُنہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ہنگامی بنیاد پر نئے سرکاری نرخ نامے کے مطابق متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کو یقینی بنائیں بصورت دیگر شاہرہ کھرمنگ کا احتجاج کیا جائے گا۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc