گلگت بلتستان کی مظلومیت اورلاشعوری کا ماتم۔۔

جب ہم گلگت بلتستان کی بات کرتے ہیں تو یہ بات ہمیشہ ذہین میں رہتا ہے کہ یہ دو نام ایک دوسرے سے لازم اور ملزوم ہیں کیونکہ اس دو نام کے ملنے سے ریاست کی تعریف مکمل ہوتی ہے۔ لہذا جب دو نام کے بغیرریاست کی تعریف مکمل نہیں بلکل اسی طرح ریاستی نظام اور دیگر تمام معاملات میں گلگت اور بلتستان میں یکسانیت لازمی ہونا چاہئے لیکن بدقسمتی سے ایسا دکھائی نہیں دے رہا بلکہ یہاں جس کی لاٹھی اُس کی بھینس والی فارمولے کے تحت سارا نظام چلایا جارہا ہے جوکہ انتہائی افسوس ناک بات ہے۔میں جب بھی خطہ گلگت بلتستان کے بارے میں کچھ لکھنے یا سوچنے کی کوشش کرتا ہوں فطری طور پر یہ بات ہمیشہ ذہین میں آتا ہے کہ جس خطے کی کوئی قانونی تعریف اور پہچان نہ ہو اس خطے میں ترقی اور تعمیر کا نہ ہونا اور محدود بجٹ پر طرزی نظام کے لوگوں کی بندربھانٹ کوئی تعجب والی بات نہیں۔محترم قارئین یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ آج اکسیویں صدی میں دنیا چاند کے بعد مریخ پر جانے کی جستجو میں ہیں ایڈوانس ٹیکنالوجی کی افادیت اور استعمال کیلئے نئی نسل ریسرچ میں مصروف ہیں وہیں گلگت بلتستان کے عوام بنیادی انسانی حقوق کی بھیگ مانگنے پر مجبور ہیں ،ساتھ ہی ہمارے خطے کے اندر ایک ایسی سوچ پیدا کی گئی ہے جوہر اُس شخص کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور غداری، فرقہ وایت جیسے گھناونی الزامات معمول کی بات سمجھے جاتے ہیں ،اس سوچ نے اس وقت گلگت بلتستان کے معاشرے کو بُری طرح کنفیوز کیا ہوا ہے۔ یہاں قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر متنازعہ حیثیت مطابق حقوق کی بات کرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ جرم بنتی جارہی ہے لیکن کسی کو یہ خیال نہیں آتا کہ اس قسم کے پروپگنڈے دشمن عناصر کو موقع فراہم کرسکتا ہے۔ اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری تمام ترقربانیوں کے باوجود اس خطے کے بیس لاکھ عوام کو گود لینے کیلئے بھی پاکستان کے حکمران تیار نہیں، یہ الگ بات ہے کہ ماضی کے غلط فیصلوں کے سبب اس خطے کو آئینی طور پر مملکت پاکستان کا حصہ بنانا اس خطے کے عوام کی خواہشات کے باوجود ممکن نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے مسلہ کشمیر پر خارجہ پالیسی خراب ہوسکتا ہے۔ لیکن متازعہ حیثیت کے سبب پاکستان کے زیر انتظام ہونے کی وجہ سے جو ذمہ داریاں اقوام متحدہ کی جانب کی سونپی گئی ہے اس پر تو عمل درآمد ہونا چاہئے تھا لیکن وطن عزیز کے حکمرانوں کو کرپشن اور لوٹ کھسوٹ کے گنگا میں مست ہو کر گلگت بلتستان کے حوالے سے بین الاقومی قوانین کی پاسداری کا احساس ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ دشمن ملک بھارت ہمیشہ اس ایشو کو لیکر گلگت بلتستان پر حق جتانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کاش پاکستان کے حکمران اس بات کو سمجھ جائے کہ یہ ایسی قوم ہے جنہوں الحاق بھارت کے خلاف بے یار مددگار بغیر کسی ریاستی مدد کے علم بغاوت بلند کرکے پاکستان کے ساتھ راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تھی جسکا صلہ ملنے کے بجائے مسلہ کشمیر کے ساتھ منسلک کرکے اس خطے کی شناخت کو آج تک مسخ کیا ہوا ہے۔المیہ یہ بھی ہے کہ ایک خطہ جو پہلے ہی آئینی طور پر اس ملک کا حصہ نہیں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کیلئے حکمرانوں کے پاس وقت اور احساس نہیں لیکن یہاں ہر پانچ سال بعد کچھ ایسے ناتجربہ کار اور سیاسی سوجھ بوجھ سے بلکل ہی نابلد عناصر کو حکمرانی کے نام پرآگے کرتے ہیں جو سیاست سماج احساس ذمہ داریوں سے بلکل کی فارغ ہوکر پانچ سال کی نوکری میں صرف کرپشن اور اقرباء پروری کو سیاست سمجھتے ہیں۔اب سوچئے جہاں حکمران عوام سے ووٹ لیکر کرپشن کرنے کیلئے آتا ہو اور اس خطیکے مسائل پنجاب اور سندھ سے بڑھ کر اور بجٹ پنجاب کے ایک موٹروے کے برابر بھی نہ ہو یہاں تعمیر اور ترقی کی باتیں کس حد تک درست ثابت ہوسکتا ہے۔اس سے بھی بڑھ کر لمحہ فکریہ ہے کہ یہاں جن افراد نے صحافت کے نام پر اخباری دوکان کھول رکھے ہیں اُنہیں بھی صحافتی اقدار کا ذرا بھر بھی علم نہیں،یہاں صحافی اور صحافت کیلئے معیار کے بجائے نامعقول اور غیر مقبول ہونا ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کے اخبارات اُٹھا کر دیکھیں تو لفظ صحافت رونا آتا ہے کیونکہ صحافت عوام اور حکومت کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے عوامی مسائل کی نشاندہی اور سماجی تربیت کیلئے کوششیں کرتے ہیں لیکن یہاں عجیب صورت حال ہے اخبارمیں خبر لگانے سے لیکر مضامین کی اشاعت تک کیلئے سفارش چاہئے ہوتا ہے،صحافتی قواعد ضوابط نے نابلد لوگ بغیر کسی تحقیق کے ذاتیمفاد کیلئے ہر اُس خبر کو شہہ سرخی بنا لیتے ہیں جنکا حقیقت سے دور کا بھی کوئی رشتہ نہ ہو۔ظلم کی انتہاء ہے کہ اس خطے پر پچھلے دہائیوں سے مخصوص لوگ لوٹا کریسی کی سیاست کے تحت پاڑٹیاں بدل بدل کر عہدے حاصل کرتے آرہے ہیں لیکن انکا دعویٰ آج بھی دہائیوں پہلے والی ہے لیکن مقامی میڈیا نے صرف سرکاری اشتہارات کی حصول کیلئے پرانی خبروں کو پالش لگا کر فریش کرکے عوام کو بیوقوف بنانے کو اپنا وطیرہ بنایا ہوا ہے۔ یہاں مسائل کی حل صرف اخباری بیانات کی حد تک کیا جاتا ہے سرکاری فنڈز ہو نوکریاں میرٹ کے نام پر میرٹ کا قتل عام معمول کی بات ہے حال ہی میں مثال لیں تو نوزائدہ گلگت بلتستان انوسمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو کی تعین کے حوالے سے اپوزیشن کی جانب سے مسلسل احتجاج کے باوجود میرٹ کی پامالی کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اپنے پولٹیکل ایڈوائزر کو لگا دیا۔ اسی طرح حالیہ سیلاب کی بات کریں تو ایک طرف سیلاب نے گلگت بلتستان میں قیامت بھرپا کیا ہوا تھا تو دوسری طرف گلگت بلتستان حکومت کے تمام ممبران نواز شریف کی نااہلی کے خلاف اسلام آباد میں بیٹھے رہے اور مقامی اخبارات میں بیانات کے ذریعے سیلاب متاثرین کی مدد کرتے رہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے مسائل اب چونکہ معمول بن چُکی ہے لہذا کسی کو اثر ہی نہیں ہوتا کہ ہمارے حقوق کیا ہیں اور ہمارے ساتھ کیا رویہ اور سلوک اپنا جارہا ہے۔ ا نسانی حقوق کی خلاف ورزی گلگت بلتستان میں سیاسی انتقام کے طور پر کرتے ہیں یہاں سیاسی تنقید کرنا نہ صرف جرم ہے بلکہ اُن پر غداری کے مقدے بھی بنائے جاتے ہیں حالانکہ غداری کا مطلب ملک سے بغاوت ہے اور گلگت بلتستان کا بچہ بچہ حقوق نہ ملنے کے باجود پاکستان کو اپنی منزل سمجھتے ہیں،مگر یہاں قانون کی غلط تشریح کرکے سیاسی حریفوں کو ذدکوب کرنا اب معمول بن چُکی ہے لیکن گلگت بلتستان خاص طور پر گلگت میں لوگ مفادات کی قوم پرستی اور سیاست کرتے ہیں اس وجہ سے قومی حقوق کی بات کرنے والے کسی ایکٹوسٹ کو گرفتار بھی کرے تو کوئی اُٹھنے کیلئے تیار نظر نہیں آتا۔ عوامی ایکشن کمیٹی جو تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی مشترکہ کمیٹی تھی اسے ایک سازش کے تحت غیر فعال کردیا ہے نوجوان نسل کو قومی حقوق سے ذیادہ مسلکی اور علاقائی جھگڑوں کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ اس تمام صورت حال کو دیکھ کر مجھے گلگت بلتستان کی بے بسی اور مجبوری پر رونا آتا ہے کیونکہ ایک ایسا خطہ جو قدرتی حُسن اور وسائل سے مالامال ہیں لیکن فکری جمود نے اس معاشرے کو غفلت کی نیند سُلایا ہوا ہے جو کسی فرقہ اور علاقے کی جھگڑے میں جاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ آج ہی کی دو تازہ خبروں پر اگر دو لفظ لکھوں تو ہمارے وزیر اعلیٰ صاحب فرماتے ہیں کہ لوگ مجھے اور نواز شریف کو مسلک کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں انکا یہ سوچ اُنکی نظرئے کی عکاسی کرتی ہے کیونکہ جمہوری نظام کے تربیت یافتہ سیاست دان اس قسم کی سوچ کبھی نہیں رکھتے،دوسری خبر پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر کا گلگت بلتستان کے حوالے سے جو بیان ہے وہ گلگت بلتستان کے حقوق پرستوں کے سوچ کی بلکل عکاسی کرتی ہے گلگت بلتستان میں قومی حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کا بھی ہمیشہ سے یہی موقف ہے جس کا فرحت اللہ بابر نے ذکر کیا۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس قسم کی باتیں کرنے والوں کو ہمارے اپنے ہی لوگ اپنے عہدوں اور مراعات کی خاطر غدار بنا لیتے ہیں حسنین رمل اس جرم کے تازہ مجرم ہیں جو ابھی تک زیر تفیتیش ہیں۔اس تمام صورت حال کے بعد اگر ہم گلگت بلتستان کی مظلومیت اور عوام کی بے حسی لاشعوری اور نوجوان نسل کی فکری جمود پر ماتم نہ کریں تو کیا کریں۔
از ۔شیر علی انجم

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc