دیامر بھاشا ڈیم کے متاثرین سینکڑوں کی تعداد میں واپڈا کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

چلاس(شفیع اللہ قریشی سے)صدیق اکبر چوک میں متاثرین دیامر بھاشاہ ڈیم کے ساتھ ہونے والے منصفانہ اور ظالمانہ رویوں پر واپڈہ کے خلاف ٹائر جلا کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے میں سیاسی ،سماجی اور عوام الناس نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی۔دیامر یوتھ موومنٹ کے زیر اہتمام واپڈہ کے ،متاثرین دیامر بھاشاہ ڈیم کے ساتھ ہونے والے منصفانہ اور ظالمانہ رویوں کے خلاف چلاس مین بازار صدیق اکبر چوک میں ٹائر جلا کر زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرے میں واپڈہ کیخلاف شدید نعرہ بازی ۔مظاہرین کا مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں پانچ مارچ سے واپڈہ دفتر کے سامنے غیر معاینہ مدت تک احتجاجی دھرنے کی دھمکی۔احتجاجی جلسے میں دیامر یوتھ موومنٹ کے کارکنان کے علاوہ علمائے اکرام ،عمائیدین چلاس ،اور متاثرین ڈیم کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔دیامر یوتھ موومنٹ کے رہنماؤں،شبیر احمد قریشی،طاہر ایڈوکیٹ،شریف شاہ،عابد حسین،ادریس صالق،فرحت اللہ،سید رحمت شاہ،مولانا محمد دین و دیگر نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ واپڈہ کا روز اول سے دیامر متاثرین بھاشاہ ڈیم سے ظالمانہ، غیر منصفانہ اور غیر زمہ دارانہ رہا ہے۔متاثرین ڈیم نے ملک کی بقاء اور ترقی کے خاطر اپنے اباء و اجدات کے قبروں کی قربانی دی ہے۔مقررین نے کہا کہ واپڈے نے ہمیشہ چور دروازے سے ڈؤن شہروں سے ملازمین بھرتیاں کی ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ واپڈہ نامی ازدہا (سی بی ایم) کے نام سے اربوں روپے اپنے بخل کے نیچھے رکھا ہے۔دیامر کی تعمیر و ترقی پر خرچ ہونے کے بجائے گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں خرچ ہو رہے ہیں۔متاثرین ڈیم کی لاجوب قربانوں کے اوپر نمک پاشی ناقابل برداشت ہے ۔واپڈہ اپنا قبلہ درست کریں اور متاثرین ڈیم کے ساتھ ظالمانہ ہتھکنڈوں سے باز آجائے۔انھوں نے کہا کہ دیامر کے تمام ویلیز میں پانچ کلومیٹر روڈ بنانے کا باقاعدہ پابند ہے۔انکی ملی بھگت سے ٹھکیداروں نے شروع میں ہی ناقص مٹیرل استعمال کیا ہے ،جو ابتدعامیں ہی ٹوٹ پھوٹ ہو کر رہ گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ واپڈہ ملی بھگت سے لوکل ٹھکیداروں کو نظر انداز کر کے اپنے من پسند ٹھکیداروں کو نواز نے کی پالسیوں پر عمل پیرا ہے۔مقررین نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ دیامر ایک پسماندہ علاقہ ہے۔اس جدید دور میں بھی بنیادی سہولیات ،صحت اور تعلیم سے محروم ہیں اور واپڈہ حکام خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔واپڈہ دیامر کے اندر موجود مسائل کے خاتمے کے بجائے جی بی کے مختلف اضلاع میں سرگرم ہے جو کہ متاثرین کے ساتھ انتہائی زیادتی ہے۔جلسے کے آخر میں متفقہ طور پر قرارداد پیش کی گئی۔قراداد متں میں کہا گیا کہ سابق صدر پرویز مشرف کے اعلان کردہ فی چولہا تین لاکھ روپے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور تین لاکھ روپے کے عدم فراہمی سے متاثرین ڈیم کے اندر تشویش پائی جاتی ہے جوکسی بھی وقت بڑئے لاوے کا سبب بن سکتی ہے ۔انھوں نے کہا کہ یہ کہ سی بی ایم سیکموں کے زریعے نالے جات کے اندر زیر تعمیر روڈ کے استعمال میں ناقص مٹریل اور جن روڈ کے اوپر تارکول بچھایا گیا ہے وہ ناقص اور ناقابل استعمال ہے ۔ہم مطالبہ کر تے ہیں کہ تھور ہڈور کھنرکھنبری گوہر آباد گیس بالا گیس پائین نیاٹ بونر داس داریل تانگیر بٹھو گاہ ویلزکے پانچ کلو میٹر ناقص اور غیر میعاری تعمیر کردہ روڈ کے اوپر انکوائری کمیشن بیٹھا کر کام کرنے والے ٹھکیداروں کو بلیک لیسٹ کر کے پابند سلاسل کر دیا جاے ۔نیز انھوں نے یہ بھی کہا کہ ٹھیکداروں کو پے منٹ کرنے والے واپڈا ملازمین کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے ۔قراداد متن میں کہا کہ ملازمین کے بھرتی میں 1سے 15سکیل تک دیامر اور گلگت بلتستان کے بے روزگار نوجوانوں کو ترجی دی جائے ہم ڈون شہروں سے بھرتی کردہ لوگوں کو ظلم و جبر تصور کرتے ہیں ۔انھوں نے کہاپبلک سکول چلاس میں ہائی کوالئیفائیڈاستاتذہ کو بھرتی کر کے ان کی تنخوایں واپڈا ادا کریں نیز چلاس شہر کے اند ر ٹیکنکل انسٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ڈی ایچ کیو ہسپتال چلاس میں ایکیومنٹ اور میڈسن کے لیے فنڈنگ کریں ۔انھوں نے کہا کہ واپڈا متاثرین ڈیم کے مسائل حل کرنے کی بجائے آئے روز نئے مسائل پیدا کرتی جارہی ہے اس اقدام کو ہم متاثرین ڈیم کے زخموں پر نمک پاشی تصور کرتے ہیں ۔لہذا واپڈا اپنی پالیسوں پر نظر ثانی کرے۔انھوں نے وزیر اعظم پاکستان سے مطالبہ کرتے ۰وئے کہا کہ ہمارے تمام مطالبات پرفی الفور عمل کریں نہ کرنے کی صورت میں دیامر یوتھ موومنٹ متاثرین ڈیم کے ساتھ مورخہ 5مارچ 2018کو واپڈا دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا غیر معانہ مدت تک دینے کا اعلان کیا اور کہا تما م تر ذمہ داری حکومت وقت پر ہوگی ۔۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc