قومی اسمبلی اور سینیٹ کی گیلری میں جا کر سر ہلانا ہماری منزل نہیں۔ امجد ایڈوکیٹ

گلگت(پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے فیصلے جاتی امراء میں نہیں پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں۔قومی اسمبلی اور سینیٹ کی گیلری میں جا کر سر ہلانا ہماری منزل نہیں بلکہ ہم آئینی راستے اور ووٹ کی طاقت سے قومی اسمبلی اور سینیٹ جا کر عوامی نمائندگی چاہتے ہیں۔صوبائی حکومت کا بیڑہ کرپشن کے بوجھ سے غرق ہونے والا ہے۔گلگت بلتستان کے آئینی معاملات میں ایک نااہل شخص کی مداخلت غیر آئینی ہے۔حفیظ الرحمان کرپشن کے کارواں سالار بن چکے ہیں۔نااہل شخص کی ڈکٹیشن پر چلنے والے خود بھی بہت جلد عوامی عدالت سے نااہل قرار پائیں گے ۔حفیظ سرکار نے گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو سیاسی اور سماجی طور پر مایوس کر دیا ہے پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو نہ صرف سیاسی و سماجی شعور و آگہی فراہم کرے گی بلکہ انہیں مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے رہنمائی کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے گی کیونکہ نوجوان قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور قوم کی ترقی و خوشحالی اور عروج میں انکا کلیدی کردار ہوتا ہے ۔ صوبائی حکومت جس انداز میں اپنی کرسی بچانے کیلئے لاو لشکر لے کر جاتی امراء گئی کبھی گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کے لئے اسطرح جانے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ان حالات میں وزیر اعلیٰ اور وزراء حق حکمرانی کھو چکے ہیں ۔حکومت کا کام عوامی مفادات کا تحفظ ہوتا یے نہ کہ ذاتی مفادات کا ۔موجودہ صورتحال میں گلگت بلتستان کونسل کا چند افراد کو روزگار فراہم کرنے سے زیادہ کوئی کردار نہیں تھا ۔گلگت بلتستان کے عوام کو مطمئن کئے بغیر کوئی بھی غیر معقول سیٹ اپ محرومیوں میں اضافے کا باعث ہوگا اور عوام ایسے سیٹ اپ کو مسترد کر دینگے۔ وزیر اعلیٰ کو اپنی کرسی بچانے کے لئے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ایسے میں انہیں گلگت بلتستان کے عوام کی نمائیندگی کرنے کے بجائے اپنی کرسی کی فکر کھائے جارہی ہے. 2009 کا سلف گورننس آرڈیننس آئینی اصلاحات کی جانب پیشرفت میں اہم قدم تھا۔مگر موجودہ صوبائی حکومت وفاق میں گلگت بلتستان کے عوام کی نمائندگی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے .انہوں نے مذید کہا کہ سپریم کورٹ کا نااہل شخص کو پارٹی صدارت کے لئے بھی نااہل قرار دینا تاریخی فیصلہ ہے۔ ملکی سیاست سے ضیاءالحق کے لگائے ہوئے بدنما داغ دھلنے لگے ہیں ۔بہت جلد عدالتی اور عوامی طور پر ضیائی باقیات کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا اور پاکستانی سیاست میں صرف جمہوری طور پر وجود میں آنے والی جماعتیں عوامی نمائندگی کرینگی ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc