ضلع شگر کے یونین کونسل باشہ مسائل کی آماجگاہ بن گئی لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

شگر(عبداللہ دلشاد شگری) شگر کے انتہائی پسماندہ و دور افتادہ علاقہ باشہ ہر طرح کے مسائل میں گرا ہوا ہے۔ کم و بیش 20 گاوں پر مشتمل یو سی باشہ کی آبادی تقریبا 7 ہزار ہے۔ مذکورہ یونین کونسل میں بنیادی ضروریات زندگی کی سہولیات ناپید ہیں۔تعلیم اور صحت جیسے شعبوں کی صورت حال انتہائی نا گفتہ بہہ ہے۔ اس یونین کونسل کے عوام کے سیاسی رجحان و وابستگی کی بات کی جائے تو لوگوں کی کثیر اکثریت عمران ندیم کے ساتھ ہے۔ عمران ندیم اس وقت جی بی اسمبلی کے ممبر ہیں۔ ندیم صاحب اس سے قبل بھی 2 انتخابی معرکے سر چکے ہیں۔ تینوں دفعہ یو سی باشہ کے عوام نے اپنی سیاسی تقدیر کا فیصلہ عمران ندیم کے ہاتھ سونپ دیا، بھاری اکثریت سے ان کو کامیاب کرا دیا۔ عمران ندیم صاحب حکومت کا حصہ بھی رہے، مشیر بھی بنے مگر شومئے قسمت! کچھ نہ بدلا تو باشہ کا نہیں بدلا، یو سی باشہ کی صورت حال وہی کی وہی رہی۔ تقریبا 20 گاوں پر محیط یونین کونسل میں آج بھی ایک ہائی سکول نہیں۔ سینکڑوں طلباء و طالبات سالانہ مڈل کلاس پاس کرتے ہیں۔ مڈل کی اسناد کے حامل ان ہونہار بچوں کے ڈاکٹر، انجینئرز بننے کے سہانے خواب چکناچور ہو جاتے ہیں، کیونکہ تعلیمی سلسلے کو جاری و ساری رکھنے کے واسطے علاقے میں کوئی ہائی سکول نہیں۔ حکومت کی پالیسی کے تحت ہر ضلعے میں یونیورسٹی یا یونیورسٹی کیمپس بننا چاہئے مگر افسوس! باشہ کے معصوم بچوں کو یونیورسٹی اور کالج درکنار! سکول بھی میسر نہیں۔ صحت کے شعبے کی بات کی جائے تو پورے علاقے میں کوئی اسپتال نہیں بن سکا۔ دو تین سول ڈسپنسریز کی عمارتیں ضرور بنی ہیں مگر ڈاکٹرز موجود ہیں اور نہ ہی ادویات۔ تاہم علاقے کے عوام آج بھی پر امید ہیں کہ ان کے ووٹوں سے منتخب عمران ندیم ان مسائل کا ادراک کریں گے اور ہنگامی اقدامات اٹھاتے ہوئے باشہ کی کئی سالوں کی محرومیوں کا کچھ حد تک ازالہ کریں گے۔عوام یہ سمجھتے ہیں کہ عمران ندیم سیاسی شعور اور عوام کا درد رکھنے والے سیاستدان اور رہنما ہیں۔ لھذا عمران ندیم صاحب سے گزارش ہےکہ مزکورہ مسائل کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں اور اپنا روایتی ووٹ بنک بھی محفوظ بنائیں۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc