گلگت بلتستان کے حکمرانوں کا رائونڈ جاتی عمرہ یاترہ، کیا کھویا اور کیا پایا؟

اسلام آباد(خصوصی سروے رپورٹ) وفاقی حکومت کی جانب سے کشمیر اور گلگت بلتستان کونسل کو تحلیل کرنے کی خبروں کے بعد آذاد کشمیر کے حکمرانوں نے اس عمل کو حکومت آذاد کشمیر کے اختیارات میں اضافے کی طرف ایک اچھا اقدام قرار دیکر فورا ایکٹ 74 کو اصلی شکل میں بحال کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔ یاد رہے ایکٹ 74 دستور پاکستان کے مطابق آذاد کشمیر اسمبلی کو قانونی پروٹیکشن دیتی ہے اور اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو بھی واضح کرتی ہے۔ جبکہ گلگت بلتستان 2009 سے میں نہ تین میں تھے اور نہ تیرہ میں لیکن 2009 صدارتی آرڈنینس میں صدر پاکستان کی طرف سے ایک خصوصی حکم نامے کے تحت اس خطے کو صوبائی طرز کا ایک نطام دیا جس میں لوکل انتظامیہ کو وزیر اعلیِ اور گونرر اور اسمبلی کو قانون ساز اسمبلی کا درجہ دیا۔ جس کے تحت گلگت بلتستان کی اسمبلی انتظامی معاملات میں قانون سازی کا مجاز قرار دیا لیکن گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی مکمل تعریف نہیں کرسکے بلکہ گلگت بلتستان کی مستقبل کے حوالے سے اصل اختیارات وفاق کے پاس ہی رہے۔ اس سلسلے میں ایک کونسل تشکیل دیا جس کا اصل کام وفاق اور گلگت بلتستان کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرنا تھا لیکن کونسل اس حوالے سے بلکل ہی ناکام نظر آیا بلکہ گلگت بلتستان پر بغیر کسی حقوق اور وسائل پر اختیارات کے بغیر تمام قسم کے ٹیکسز کی نفاذ کیلئے ایک ٹول کے طور پر استعمال ہوئے جسے عوام نے احتجاج کرکے مسترد کردیا۔ اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کونسل کی خاتمے کی باتیں خبروں میں گردش کرتے ہیں گلگت بلتستان کے عوام نے سوشل میڈیا پر ایک بھر پور کمپئین چلایا جس میں گلگت بلتستان کونسل کے خاتمے کو احسن اقدام قرار دیتے ہوئے تمام تر اختیارات قانون ساز اسمبلی کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف مقامی سطح پاکستان مسلم لیگ نون کے حکمرانوں نے ویسے تو کونسل کی خاتمے کیلئے کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی لیکن اراکین کونسل نے حفیظ الرحمن کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے۔ شائد یہی وجہ سے کہ وزیر اعلی نے پارٹی ساکھ کو بچانے اور پارٹی ممبران کا دل رکھنے کیلئے جاتی امراء جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ تمام لوگ جو اس وقت گلگت بلتستان کونسل کے نام پر مراعات سے مستفید ہورہے ہیں، جو جاری رہے۔ سابق وزیر اعظم کی جانب سے اس سلسلے میں کونسل کو بحال رکھنے کی وعدوں کے علاوہ حکومت پنجاب کی طرف سے گلگت بلتستان کیلئے امداد اور اعلان کی باتیں بھی میڈیا کا زینت بنا ہوا ہے لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہی لوگ جو آج اپنی نوکری بچانے کیلئے ایک ہوکر نواز شریف کے سامنے اپنا فریاد لیکر گئے بلکل اسی طرح حقوق گلگت بلتستان کیلئے اسلام آباد کے آگے ڈٹ جاتے تو شائد گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ ہوسکتا تھا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حد تو یہ ہوگئی کہ وزیر اعلی کی جانب سے گلگت بلتستان کیلئے آذاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کی آفر کو ٹھکرا کر موجودہ نظام کے تحت نظام چلانے کی باتیں گلگت بلتستان کے عوام کی آواز نہیں۔ عوامی حلقوں نے رائنونڈ یاترے کو نوکری بچاو مہم گلگت بلتستان لٹاو مہم قرار دیا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc