گلگت بلتستان کے نئے وزیر اعلی کا تاج دیامر ریجن کے سر پر سجانے کا اعلان۔

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) وفاق میں الیکشن کے دن قریب آتے ہی وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک عملی اقدام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے رہنماوں نے اس سلسلے میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ سے بھی خصوصی ملاقاتیں کی ہے، تجزیہ نگاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ویسے تو گلگت بلتستان کے الیکشن میں ہمیشہ سے وفاقی حکومت اثرانداز رہے ہیں اور گلگت بلتستان میں وفاق کی اشاروں پر ہی سارے کام ہوتے ہیں اور پاکستان پیپلزپارٹی اور سابق صدر آصف علی زرداری کی خواہش ہے کہ پی پی پی اگلے الیکشن میں گلگت بلتستان میں بھی اپنی حکومت قائم کریں۔ کل نیشنل پریس اسلام آباد میں پاکستان پییلزپارٹی کے جارحانہ روئے سے ایسا تاثر مل رہا تھا کہ سابق صدر آصف علی زرادری کی طرف سے حفیظ الرحمن کے خلاف عدم اعتماد کیلئے سپاری مل گئی ہے۔ کچھ سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ہارس ٹریڈینگ میں کی جائے گی جس کے تحت مسلم لیگ نون اور مذہبی جماعت کے کچھ ممبران کو خرید لیا جائے گا یہی وجہ تھی کہ پریس کانفرنس میں ، رکن مجلس علاملہ پیپلز پارٹی وسابق وزیراعلیٰ سید مہدی شاہ، ممبر قانون ساز اسمبلی جاوید حسین، جنرل سیکرٹری انجینئر محمد اسماعیل، نائب صدر بشیر احمد خان، سعدیہ دانش اور ذوالفقار علی نے پُراُمید انداز میں اعلان کیا ہے کہ وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن کے خلاف عدم اعتما د کی تحریک لانے کیلئے 20 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہوگئی ہے، ان میں سے 11اراکین اپوزیشن اور 9 ارکان حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، نیا وزیراعلیٰ دیامر سے لائیں گے، اگر دیامر سے کوئی وزیراعلیٰ بننے کو تیار نہ ہوا تو بلتستان سے کسی کو وزیراعلیٰ بنایاجائے گا۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے تحریک عدم اعتماد کیلئے بیڈ گورننس، کرپشن اور لوٹ مار اور جی کونسل کی خاتمے کے بعد متبادل نظام کیلئے وزیر اعلی کی جانب سے کشمیر طرز کے سیٹ کی آفر کو ٹھکرانے کو بنیاد بنایا ہے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc