خدا کی رحمت،زحمت کیوں؟

کالم گاری میں ماہر ہوں نہ ہی اس کے اسلوب سے واقف ہوں بس درد دل کی راحت کے لٸیے قلم اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں وہ درد جس کا سہنا مشکل ہو جاٸے اس کو بیاں کرنےسے سکون مل جاتی ہے تو قارٸین کو بھی اس درد سے آشنا کراتا ہوں تاکہ سب مل بیٹھ کر درد کو محسوس کر سکے ۔آج ایک ایسے درد سے ملانا چاہتا ہوں جو رحمت بن کر آتی ہے لیکن کھبی کھبار معاشرتی بے حسی کی وجہ سے زحمت بن جاتی ہے۔اس رحمت کا نام بیٹی ہے۔ بیٹی خدا کی رحمت ہوتی ہے اور یہ رحمت ہرکسی کو نہیں ملتی۔لیکن اکثر لوگ مجھ سے کہتے ہےکہ یہ دل بہلانے والی باتیں ہے حقیقت میں بیٹی رحمت نہیں زحمت ہواکرتے ہیں ۔میں پوری وجودکے ساتھ اپنی ناقص علم کے سہارے لوگوں کو مطمئین کرنے کی کوشش کرتا ہوں یقیناً کامیابی مجھے ضرور ملتی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ میں جیتی ہوٸی بازی حقیقت میں ہارتا رہتا ہوں ۔میں ان تمام لوگوں کے ان دلاٸل کا جواب نہیں دے پاتا جو بنت حوا معاشرے میں کر گزرتے ہیں۔میں ان تمام لوگوں کا جواب نہیں دے پاتا جس سے بھاٸی کی  غیرت باپ کا عفت و عزت ،ماں کی حیا اور خاندان کی عزت کا جنازہ سر راہ نیلام ہو جاتا ہے۔اے بنت حوا تجھے رحمت کا استعارہ دیا ہوا نہ جانے کیوں لوگ تمہیں زحمت سے تعبیر کرتے ہیں۔اپنی اردگرد نگاہ رکھ لیجے کیونکہ آپ کے مقام و مرتبے میں تبدیلی رونماہو رہی ہے۔کہیں اس کا ذمہ دار خود آپ کی ذات تو نہیں بن پا رہی ہے۔سچ ہے تبدیلی خود سے شروع ہوتی ہے چاہے وہ منفی ہو یا مثبت ۔جب مثبت ہوتو رحمت سے تعبیر دیتے ہیں اور جہاں منفی پہلو نکل جاتاہے تو یقیناً زحمت بن جاتی ہے۔آج کی عورت کیا ہے یہ معلوم نہیں ہو سکا ۔کیوں آج ہر معاشرے میں  ابن آدم بنت حوا کی عزت تار تار کر رہی ہے یہ اسباب میں آج تک نہیں جان سکا۔مگر اتنا کہوں گا جو بھی واقعات رونما ہو رہے ہیں وہ معاشرے کے رہین سہن کا عکس ہے۔جس طرف معاشرے کی ڈگر چلے گی اس سمت گروہ کا رخ ہونا ایک فطری عمل ہے۔آٸےمیں آپ قارٸین سے  چند عمل سماجیانہ کا ذکر کرتا چلو پھرآپ خود ہی فیصلہ کریں اور ان اسباب کو تلاش کرنے کی کوشش کریں جو پل بھر میں رحمت کو زحمت بنا دیتی ہے۔آج کل ہمارے معاشرے میں عورت خود اپنی حیا ،عزت اور عفت کو پامال کرنے پر تُلی ہوٸی ہے۔آج کل کی عورت کترینہ ٗ کرینہ اور مادھوری کو اپنے لٸیے رول ماڈل سمجھنے لگی ہے اپنے پرکھوں کی تہذیب کو پیروں تلے روندا جا رہے ہے۔وہ عورت جو گھر کے محافظ ہوا کرتے تھے آج بازارکی رونق بن چکی ہے۔وہ اپنے فرائض و ذمہ داری سے نابلد ہو کر حقوق کی رنگین نعروں کے غلام بنتی نظر آ رہی ہے۔حد تو یہ ہے کہ مردوں کے استعمال میں آنے والی شیو کریم کے اشتہارات پر عورتوں کورونق بنایا جاتا ہے۔یہ بات عورتوں کو سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ ان کے ذمہ داری کیا ہونی چاہے ۔فطرت سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت پیار و محبت کا ایک حسین مجسمہ ہے۔اور یہی وہ عورت ہے جو خالی مکان کو گھر بنا لیتا ہے۔عورت گھر کا ایک ذمہ دار فرد ہوتا ہے جو محبت کے بینک کا سربراہ ہوتا ہے۔جو ایک خاندان کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے اگر وہ اپنے فراٸض سےکوتاہی کر لیتا ہے تو نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ لپیٹ میں آتا ہے۔ نپولین نے کہا تھا کہ تم مجھے ایک تعلیم یافتہ ماں دے دو میں تمہیں ایک تعلیم یافتہ قوم دونگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عورتوں کا مقام کتنا ارفعا ہے بس بات صرف سمجھنے کی ہے اور اپنی حیثیت واضح کرنے کی ہے۔تاکہ رحمت رحمت رہے زحمت نہ بنیے۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

سوشل ورکر، طالب علم رہنماء

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc