عدم اعتماد کی گرما گرمی میں قانون ساز اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ۔

اسلام آباد (پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی مدت کے خاتمے کے ساتھ گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل کر کے نئے انتخابات کرائے جائیں ۔وفاق میں حکومت کے قیام کے بعد گلگت بلتستان میں انتخابات سے ملنے والا مینڈیٹ عوامی کم حکومتی زیادہ ہوتا ہے ۔اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے ہمارے موقف کو اصولی قرار دے کر تائید کی ہے۔وفاق کے ساتھ گلگت بلتستان میں نگران حکومت کا قیام عمل میں لاکر بیک وقت انتخابات سے نہ صرف دھاندلی کا امکان نہیں ریے گا بلکہ عوام ووٹ کی طاقت سے حکمرانوں کا احتساب بھی کر سکیں گے ۔ورنہ وفاق میں مینڈیٹ حاصل کرنے والی حکومت گلگت بلتستان میں اپنی حکومت کے قیام کے لئے دھاندلی اور سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کرے گی جو عوامی امنگوں کے برعکس اور علاقے کے مفادات پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہوگا ۔گزشتہ انتخابات میں وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کے ذریعے نواز لیگ کی وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں من پسند نتائج حاصل کئے ۔ہمارا مطالبہ اس اصولی موقف کی بنیاد پر ہے جس کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے انتخابات میں دھاندلی کا امکان ختم ہوگا اور صاف شفاف انتخابات کے نتیجے میں دودھ کا دوھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا ۔انہوں نے مذید کہا کہ موجودہ کونسل کے ممبران نے ذاتی مفادات اور مراعات حاصل کرنے کے علاوہ گلگت بلتستان کے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا ایسے میں کونسل گلگت بلتستان کے وسائل پر محض بوجھ ہے اور کونسل کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے تاہم اسکے لئے متبادل نظام کی ضرورت ہوگی ۔ممبران کونسل نے وفاق میں گلگت بلتستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بجائے اپنے بھائیوں اور عزیز و اقارب کو ٹھیکے دلانے میں کردار ادا کیا ہے ۔ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ صوبائی حکومت آئینی اصلاحات کے حوالے سے مخلص نہیں ہے اور اب ہمارے خدشات حرف بہ حرف درست ثابت ہو رہے ہیں۔ سینیٹ،قومی اسمبلی اور این ایف سی میں مبصر کی حیثیت محض تماشائی کا کردار ادا کرنے والی بات ہوگی۔ جسے گلگت بلتستان کے عوام مسترد کردینگے ۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc