گلگت بلتستان میں مسلسل گرفتاریاں اور سیاسی مذہبی تنظیموں کی خاموشی۔

گلگت بلتستان میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور ان کے کارندوں کی ریاستی جبر اور ریاستی دہشتگردی روز بروز بڑھنے لگے ہیں۔ حالیہ ٹیکس تحریک اور ماں دھرتی کے حقوق کے حصول کےلیے اٹھنے والی ایک اور آواز دبانے کی کوشش ۔ مقبوضہ گلگت بلتستان میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے چمچوں کا ہمیشہ سے یہی روش رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے حقوق میں اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی ناکام کوشش جاری. گلگت بلتستان میں عوامی لیڈروں پر ظلم بڑھتی جارہی ہے کرنل ر نادر صاحب کو وطن بدر کردیا گیا شہید حیدر شاہ نے زندگی قید خانے میں گزار دی ، بابا جان عرصہ دراز سے قید ہیں اور اب دل کی بیماری کی وجہ سے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے حسنین رمل صاحب بغیر کسی قصور کے جیل میں ہیں اور اب احسان ایڈووکیٹ صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور گلگت بلتستان کی کٹھ پتلی حکومت فرعون کے نقش قدم پر گامزن ہے ۔ احسان ایڈووکیٹ، بابا جان، حسنین رمل اور ان جیسے دیگر شخصیات پر ایٹم بم بنانے کا الزام نہیں لگایا جا سکتا تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ان پر دہشتگردی اور بلاسفیمی کے قانون سے ہی گزارہ کر رہی ہیں۔ گلگت بلتستان میں اگر کوئی شہید حیدر شاہ ، بابا جان یا حسنین رمل بننا اور احسان ایڈوکیٹ کی طرح حقوق کی بات کرنا چاہتے ہیں تو سلاخوں کے پیچھے زندگی گزارنے کیلئے تیار رہنا ہوگا اور اگر آزاد رہنا ہے تو یا اسٹیبلشمنٹ کی دلالی اور چمچہ گیری کرنا ہوگا یا خاموشی سے ہجڑوں سے بھی بدتر زندگی گزارنے ہونگے۔ گلگت بلتستان میں مذہبی ،علاقائی اور زبانی تفرقہ پھلانے والے اور جو منفی پروپیگنڈوں کے ذریعے تفرقہ پھیلانے والے کھلی آسمان تلے آزاد ہیں اور گلگت بلتستان کا حق پرست ، عوام دوست تعلیم یافتہ شہری اور عوامی حقوق کے علمبردار لیڈروں کو فورتھ شیڈول ، اے ٹی اے جیسے کالے قوانین کے تحت بے جوم و خطا پابند سلاسل ۔ جب حسنین رمل گرفتار ہوا تھا تب بھی صرف سکردو بلتستان میں احتجاج ہوئے تھے اور اب احسان ایڈوکیٹ کو گرفتار کیا گیا تو اب بھی سکردو بلتستان میں لوگوں کو سڑکوں پر نکلتے دیکھا گیا۔ سکردو کے علاوہ گلگت بلتستان کے کسی بھی ضلعے یا علاقے میں نہ حسنین رمل کی گرفتاری پہ اور نہ بابا جان کی رہائی کے لیے اور نہ احسان ایڈوکیٹ سمیت کسی بھی سیاسی اسیروں کی رہائی کے لیے عوامکو سڑکوں پر نکلتے دیکھا گیا۔ ویسے تو گلگت بلتستان میں قوم پرست اور حق پرست ہونے کا دعویٰ کرنے والے بہت سے تنظیمیں ہیں مگر نہ حسنین رمل، بابا جان اور دیگر سیاسی اسیروں کی رہائی کے لیے اور نہ احسان ایڈوکیٹ کی گرفتاری کے خلاف کسی تنظیم نے احتجاج کرنا دور آواز تک نہیں اٹھائی۔ گلگت بلتستان میں موجود پاکستانی درآمد شدہ سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے کارکنان اور عہدیداروں نے تو اپنا نمک حلال کرنے ہیں وہ لوگ تو ٹھرے دو ٹکے کے نوکر اور دلال جن کو اہنے آقاؤں کی دلالی اور جی حضوری سے فرصت نہیں ان کو تو اسی چیز کے پیسے ملتے ہیں مگرگلگت بلتستان میں جو تنظیمیں ، پارٹیاں حق پرست اور قوم پرست ہونے کا دعویٰ کرتے پھر رہے ہیں کیوں خاموش ہے کہاں ہے ایکشن کمیٹی کہاں ہے سول سوسائیٹی کیا سب کے جوش و جذبوں کو زنگ لگ گئے ہیں۔؟؟؟ ماں دھرتی گلگت بلتستان کے اکثر پڑے لکھے پی ایچ ڈی ہولڈرز تعلیم یافتہ لوگ سیاسی اسیروں کے ساتھ ہونے والی ریاستی جبر اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ریاستی دہشتگردی پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ ماں دھرتی کے حق پرست اور قوم پرستی کا دعویٰ کرنے والی پارٹیاں ؑبھی اکثر تماشائی بنے نظر آرہے ہیںاب وقت آگیا ہے ہمیں اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کے مسجدوں کو ایک کر کے بابا جان ، حسنین رمل سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کی رہائی کے لیے اور احسان ایڈوکیٹ کے گرفتاری کے خلاف آواز احتجاج بلند کرنے کی ضرورت ہیں ورنہ کل کو آپ کی اور میری بھی باری آسکتے ہیں آج کی طرح کل بھی لوگ رویتی طور پر سوشل میڈیا پہ ایک ایک پوسٹ شئیر کریں گے۔ آج ہم سب کو سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی ماں دھرتی کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی جرم میں پابند سلاسل اسیروں کی رہائی کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھانے کی ضرورت ہیں. ہمیں ہجوم سے قوم بن کر ان مظالم پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ کیوں نہ ہم سوشل میڈیا سے باہر نکل کر انسانی ذنجیر بنا ڈالیں۔ سب عملی طور پر متحد ہوکر ان مظالم کے خلاف ہر اضلاع میں پرامن جیل بھرو تحریک کا آغاز کریں اور سب اپنے اپنے ضلعے میں گرفتاریاں دے دیں ۔ کب تک ان مظالم پر خاموش رہیں گے۔؟؟کب تک باریوں کا انتظار کریں؟؟؟ آج ہم سب کو مذہبی ، علاقائی اور سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں کے خول سے باہر آنے کی ضرورت ہے۔ پارٹیاں جائیں باڑ میں۔ہماری ماں دھرتی بے آئین و شناخت کے ستر سال گزر گئے ۔ ہماری آزادیاں سلب ہوئی۔ ہمارا وقار مجروح کردیا گیا۔پھر بھی ہماری خاموشیاں۔ ایسی خاموش ہجڑوں کی طرح زندگی کب تک گزارو گے آگر خاموش ہی رہنا ہے تو پھر یہ نہ کہا جائے کہ ہم گلگت بلتستان کی ایک باضمیر قوم ہیں۔ ایسے الفاظ کا استعمال کرکے باضمیر قوموں کی توہین نہ کیا کریں۔ اٹھو اور باریوں کا انتظار نہ کریں ۔
سارے انسان دوست افراد سے گزارش کرتا ہوں کہ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے اور اسیروں کی رہائی کے لئے جدوجہد کریں تاکہ عوامی آواز مکمل کمزور نہ ہو جائے ۔ الله ہمیں ہجوم کو قوم بن کر متحد ہو کر بلا جواز ماں دھرتی کو ماں کہنے کی پاداش میں گرفتار سیاسی اسیروں کی رہائی کے لیے آواز بلند کرنے کی توفیق عطا فرما۔۔۔!!! آمین
تحریر : اعجاز حسین بلتی
طالب علم رہنما

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc