میرا پسندیدہ طالبان۔۔طالبان خان۔

میں ایک شیعہ ہوں ، طالبان اور شیعہ کے تعلقات کو ہم سب ہی جانتے ہیں ، طالبان یا طالبان کے سہولت کار اور ہم خیالوں کے ہاتھ چاہے کوئیٹہ میں ہویا چلاس میں ، ڈی آئی خان میں ہو یا بابوسر میں ، کراچی میں ہو کوہستان میں ، افغانستان میں ہو یا شام میں ، عراق میں ہو یا سعودی عرب میں شیعوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ۔ان لوگوں کے ہاتھوں سے اتنے امریکی نہیں مرے ہیں جتنے شیعہ مرے ہیں ، اتنے اسرائیی نہیں مرے ہیں جتنے عراقی مرے ہیں ، اتنے برطانوی نہیں مرے ہیں جتنے شامی مرے ہیں ، اتنے اسٹریلوی نہیں مرے ہیں جتنے حوثی مرے ہیں ، ایسے میں شیعہ کیا ایک عام انسانی احساس رکھنے والے بندے کا بھی ان سے نفرت کرنا ایک فطری بات ہے ۔ انسان فطرتا ظلم سے ، جبر سے ، قتل سے نفرت کرتا ہے ۔ مگر پاکستان مین ایک طالبان ایسا بھی ہے جن سے ہم محبت کرتے ہیں ، اس کا نام طالبان خان ہے ۔ مین اس طالبان کو سلام کرتا ہوں جو نواز شریف جیسے مافیا کے سرغنے سے برسر پیکار ہے ، مین اس طالبان سے محبت کرتاہوں جو ذرداری جیسے بڑے چور سے نبرد آزما ہے ، میں اس طالبان کو دعا دیتا ہوں جواس مولوی سے نبرد آزما ہے جو دین کو اقتدار کی کرسی پہ قربان کرتا ہے ، میں اس طالبان سے پیار کرتا ہوں جواس گروہ سے مقابلے میں کھڑے ہیں جو پختونوں کے نام پر سیاست کرتا ہے اور جبیں اپنی بھرتے ہیں۔ میری حمایت اس طالبان کئلیئے ہے جو پاکستان کے اس عوام کے نجات دلانے کئلئے سربکف ہے جن کے پاس انتخاب کئلیے چور کے مقابلے میں چور ڈاکو کے مقابلے میں ڈاکو ، کرپٹ کے مقابلے مین کرپٹ ، راہزن کے مقابلے مین راہزن ہیں ، یہ طالبان اس کرپٹ کو اس چورکو اس ڈاکو کو اور اس راہزن کو ایک ایماندار ، بے داغ ، کرپشن سے پاک پڑھا لکھا راہبر سے بدلنے کی جد و جہد کر رہا ہے ۔ پاکستانی قوم کو نہیں معلوم تھا کہ ڈرامے باز اپنے ڈرامے کے پیچھے دولت کے انبار لگا رہے ہیں چور اپنی مسکراہٹ کے پیچھے قاروں کا خزانہ اکٹھا کر رہے ہیں ، ڈاکو اپنی سیاست کے ذریعے لندن ، سعودی عرب ، نیوزی لینڈ ، دبئی میں دولت کی شہنشاہیت کھڑی کر رہے ہیں ، یہ طالبان خان ہے جس نے دنیا کو بتا دیا کہ یہ کون لوگ ہیں اور ہمارے ساتھ کیا کیا کھیل کھیل رہے ہیں ۔ پاکستانی قوم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہو گا کہ یہاں بھی ایک چیرٹی تنظیم ورلڈ کلاس کا شوکت خانم بنا سکتی ہے ، نمل جیسا ادارہ بنا سکتی ہے ، یہ وہی طالبان خان ہے جس کی عزم ہمت خلوص اور محنت نے یہ سب ممکن بنا دیا ، پاکستانیوں نے کبھی یہ بھی نہ سوچا ہو گا کہ عدالتوں کی قیمت لگانے والے نواز شریف ، اگر خرید نہ پائے تو حملہ کر کے چیف جسٹس کو گھر بھیجنے والے نواز شریف ، ایک بلڈنگ مین چیف جسٹس کے خلاف دوسری عدالت کھڑی کرنے والے نواز شریف کو ایک دن یہی عدالت سیسلین مافیا قرار دے گی ، اور ایسا کن کی کوششون سے ممکن ہوا اسی طالبان خان کی کوششوں سے ۔ اس قوم نے یہ بھی نہ سوچا ہو گا کہ کرپشن میں ستر سال سے غوطہ زن قوم کی بدنام ترین پولیس کبھی ٹھیک بھی ہو سکے گی ، مگر یہ وہ طالبان خان اور اس کے ساتھی ہین جنہوں نے 4 سال کی قلیل مدت میں یہ کام کر کے دکھا یا، تعلیم کو کاروبار بنا کر ، سرکاری اداروں کی تعلیم کو نا قابل اصلاح قرار دیکر گلی گلی میں چھ چھ کمروں کی عمارتوں میں پرائیوٹ تعلیمی ادراہ قائم کرنے والی قوم کو معیاری تعلیم کی ہر فرد تک دسترس کیلئے سرکاری سکولوں کو بہتر کرنے کا نعرہ اور عمل درامد بھی اسی طالبان خان کا ہے ، حالانکہ ان کے طالبان تو سکولوں کو بموں سے اڑاتے اور سکول جانے والی بچیوں کو گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں مگر یہ طالبان کسی اور جہاں کا طالبان ہے ۔ میرے پاس اور بھی بہت سی دعائیں ، محبتیں اور پیار ہے اس ظالبان کیلئے مگر جہاں میں لکھتا ہوں وہاں لوگ اتنا لمبا مضمون پڑھنے کے عادی نہیں ، اس لئیے اتنے ہی پر اکتفا کرتا ہوں ۔
تحریر: انجینئر شبیر حسین
سوشل ایکٹوسٹ

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc