اندھی تقلید انسان کو گمراہ کر دیتی ہے۔

انسان بڑی قیمتی مخلوق ہے- اس کی زندگی کا ہدف بہت بلند ہے – مگر آج کے انسانوں کی اکثریت کو نہ انسان کی قدر ومنزلت کا ادراک ہے اور نہ ہی انسانی زندگی کے ہدف کی شناخت، وہ انسان کے بارے میں فقط اتنی معرفت رکهتی ہے کہ اس کے دوہاتھ ہیں اور دوپاوں، وہ کهاتے ہیں، پیتے ہیں ،سوتے ہیں، چلتے ہیں اور بات کرتے ہیں- اس کی دوآنکھ اور دو کان ہیں، وغیرہ اسی طرح انسان کی زندگی کے ہدف کے حوالے سے وہ اتنا جانتی ہے کہ جس کی زندگی آسائش اور رفاہ میں گزرے اس نے اپنی زندگی کے ہدف کو پالیا ہے اس کے برخلاف جس کی زندگی عسرت و تنگد ستی میں بسر ہورہی ہو وہ ہدف زندگی سے کوسوں دور ہے- انسان اور اس کی زندگی کے مقصد کے بارے میں رکهنے والی ایسی شناخت در حقیقت شناخت نہیں بلکہ جہالت ہے- اسی بے بنیاد شناخت کی بناء پر آج پاکستان کی سرزمین پر سب سے ارزان چیز انسان اور اس کی زندگی ہے- مفاد پرست اور شہوت نفسانی کے اسیر لوگ جس کسی سے بهی اپنے مفادات کے لئے خطرے کا احساس کرتے ہیں اس کی زندگی کا چراغ گل کرنے میں دیر نہیں کرتے- جب کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انسان اور اس کی زندگی کے مقابلے میں کوئی نعم البدل ہے ہی نہیں -انسان کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ فرشتوں نے اس کو سجدہ کیا، وہ ایسی مخلوق ہے کہ جس کی پیدائش پر خدا نے اپنی تمجید کی، تمام کائنات کے اشیاء کو اس کے لئے مسخر بنادیا، خلقت میں بہترین عمارت اسے عطا کی گئی، اسے اپنی پرستش عبادت ومعرفت کے لئے پیدا کیا گیا، اسے ایک لافانی ولازوال مخلوق بنادیا گیا، انسان بلاواسطہ خدا سے رابطہ قائم کرسکتا ہے، انسان اپنے ارادے سے تمام اقدار پر مسلط ہوسکتا ہے وغیرہ …. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں بعض لوگ ہمیشہ دوسروں کی جان لینے کے درپے ہوتے ہیں ؟کیوں ان کے لئے دوسرے انسانوں کی زندگی سے ذیادہ اپنے مفادات عزیز ہوتے ہیں ؟کیوں ایک ٹولہ اسلام کے نام پر خود مسلمانوں کو خاک وخون میں نہلانے میں اپنی عافیت تلاش کرتا ہے؟ کیا واقعی اسلام کی تعلیمات یہی ہیں کہ مسلمان اپنے کلمہ گو مسلمانوں کو قتل عام کرکے جنت کا مستحق قرار پائیں گے؟ کیا قرآن مجید اور سنت نبوی میں جہاد کا مفہوم یہی ہے کہ مسلمان اپنے ہی مسلمانوں کا گلہ کاٹیں انہیں ذبح کریں یا گولی سے بھون ڈالیں؟ کیا واقعتا کلمہ گو مسلمانوں پر مذہبی اختلافات کے باعث کفر اور شرک کے فتوے لگا کر ان کی جان مال کو اپنے لئے حلال قرار دینے کی اسلام اجازت دیتا ہے؟ کیا اسلام کے اندر مسلمان اپنے مسلمان بهائیوں کا دشمن بن کر کفار سے دوستی کرنے کے لئے کوئی جواز موجود ہے؟ عقل اور منطق کا فیصلہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں متحد رہنے میں ان کی کامیابی مضمر ہے یا اختلافات میں؟ کیا انسانی عقل انسان کو یہ حکم نہیں کرتی کہ تمام معاملات زندگی میں سوچنا ہرگز نہیں بھولنا چاہیے، مذہبی امور میں چاہئے اصول ہوں یا فروع انسان کو ضرور غور کرنا چاہیے؟ کیا واقعی یہ ظلم نہیں کہ انسان کسی فرقے سے تعلق رکھنے والے کچھ جاہل وناداں افراد کے کردار اور کرتوت کو معیار بناکر کر اس فرقے کے ماننے والوں کے اعتقادات اور نظریات کے بارے میں سوفیصدی رای قائم کریں؟ کیا انصاف کا تقاضا یہ نہیں کہ کسی فرقے یا مسلک کے قائلین کے نظریات کو سمجهنے کے لئے ان کے منابع اصلی شمار ہونے والی کتابوں کی طرف رجوع کریں اور بہت سارے سوالات …. مگر افسوس ہمارے معاشرے کے مسلمان ان سوالوں پر غور کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے جس کی بنیادی وجہ اندہی تقلید کے زندان میں ان کا قید ہوکر رہنا ہے- روشن خیال پڑهے لکهے طبقوں کو تو کم از کم یہ سمجهنا چاہیے کہ اندہی تقلید کے بجائے انسان کو دلیل اور منطق کی بنیاد پر تحقیق کرکے دوسروں کے عقائد اور نظریات کی نفی یا تایید کرنا ہی معقول اور اصولی روش ہے – بغیر کسی تحقیق کے کسی کے بارے میں رای قائم کرنا توہمات وتخیلات کی دنیا میں زندگی گزارنے والوں کا کام تو ہوسکتا ہے عقلاء کا نہیں- جس دن پاکستانی مسلمان اندہی تقلید کے خول سے باہر نکل کر دلیل واستدلال کے ذریعے سیاسی مذہبی اور سماجی مسائل وامور کو سمجهنے پر ایمان لائیں گے، ایک دوسرے کے مذہبی ماخذ کتابوں کو پڑهکر ایک دوسرے کے عقائد اور نظریات کو سمجهنے کی کوشش کریں گے اور سنی سنائی بے بنیاد باتوں کو چهوڑ کر اندہی تقلید کی دنیا سے باہر نکل کر وسعت ذہنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے افکار اور خیالات کو درک کرنے کی سعی کریں گے یقین کیجئے اس دن سے بہت سارے روحی امراض جیسے لسانی، قومی، مذہبی … تعصبات کا خاتمہ ہونا شروع ہوجائے گا- اگر بغور دیکها جائے تو معلوم ہوگا کہ سیاسی اور مذہبی میدان میں پاکستانی عوام اور خواص کی اکثریت اندہی تقلید کا ذیادہ شکار دکهائی دیتی ہے- سیاسی میدان میں ہماری اکثریت نے نااہل ونادان مفاد پرست افراد کو اپنے ووٹ کے ذریعے جتا کر آج تک محرومیت اور مظلومیت سے دوچار ہے, حیرت تو یہ ہے کہ اتنا لمبا عرصہ تجربہ کرکے نتیجہ محرومی غربت کے سوا کچھ  ہاتھ نہ آنے کے باوجود وہ عبرت لینے کے لئے تیار نہیں- نااہل افراد کی تبلیغات سے بہت جلد متاثر ہوجاتے ہیں – ان کے غلط وعدے اور وعید پر یقین پیدا کرکے پهر انہی خیانت کار قوم وملک کے دشمن شکم پرست افراد کو ووٹ دینے کے لئے آمادہ رہتے ہیں – ابهی 2018 کے انتخابات میں پاکستان کی ترقی بقا استحکام اور اس کی قوم کی خوشحالی کے خواہان ہر پاکستانی کو چاہیے کہ وہ چاروں طرف سے سوچ سمجھ کر اہل افراد کو ہی اپنا قیمتی ووٹ دے کر امین شخص اور حقیقی محب وطن ہونے کا ثبوت پیش کرے – حقائق کے بارے میں کرنے والی فکر انسان کو عالم و ہم و گمان سے نکا ل کر ایک حقیقی و واقعی مفکر بناتی ہے اسی وجہ سے حضرت عیسیٰ (ع) اپنے ارشادات میں فرماتے ہیں ”غوّر…. قلبک الفکر” اپنے قلب کو سوچ و فکر کی عادت ڈالو۔تفکر سے قدرت فکر و تمرکز زیادہ ہو جاتی ہے جب فکر قوی ہو تو وہم و خیال ضعیف ہو جاتے ہیں اور وہم و خیال کے ضعیف ہونے اور تقویت فکر سے شیطان اور دشمنان دین کی گمراہ کنندہ تبلیغات ضعیف ہو جاتی ہیں ۔ کیو نکہ جس انسان کو تفکر و تدبر و تعقل کی عادت ہو وہ اسے اپنے اعتقادات ومعلومات کا اساس قر ار دیتا ہے ۔
حضرت علی (ع) کا فرمان ہے:”لاعلم کالتفکر ”تفکر کی مانند کوئی علم نہیں ہے ۔ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا :” من صفات المومن ان یکون جوّال الفکر ”مومن کی صفات میں سے ہے کہ وہ جولان فکری رکهتا ہو ۔حضرت علی (ع) فرماتے ہیں :”الفکر تورث نوراً والغفلة ظلمة ‘ سوچ و فکر نورانیت اور غفلت ظلمت و تاریکی کو ایجاد کر تی ہے ۔حضرت امام صادق (ع) فرما تے ہیں:“التفکر یدعوا الی البرّ والعمل به” فکر انسان کو خوبیوں اور ان پر عمل کی طرف دعوت دیتی ہے-
اندھی تقلید انسان کو گمراہ کردیتی ہے

تحریر: محمد حسن جمالی

اسلامک اسکالر

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc