روندو میں جاری تعلیمی سرگرمیاں اور لڑکھڑاتی سیاست | تحریر | سید ساجد

حالیہ دنوں میں روندو کے دو بڑے علاقے سوشل میڈیا پہ زیر بحث ہیں ـ تلو انٹر کالج کے قیام کی وجہ سے اور طورمک ڈی ڈی او شپ ملنے کی وجہ سے ـ
تلو کالج کا نوٹفکیشن آتے ہی لوگ بلبلانے لگے چونکہ اس کالج کے قیام کے لئے روندو کے ایک سینئر صحافی میدان عمل میں تھے جس کی بنا پہ گمان تھا کہ ان کے اخبار کی طرح یہ پراجیکٹ بھی” جلد آرہا ہے” کا شکار ہو جائے گا مگر ان کی تکلیف میں شدت اس وقت آئی جب باقاعدگی سے لیکچرارز کی تعیناتی کا نوٹفکیشن جاری ہوا ـ اس کے بعد سے دانشگرد حضرات نے مفت مشورے کا بازار ہی سجا لیا ـ کوئی ڈمبوداس کو موذوں قرار دے رہے ہیں تو کسی کو تلو جانے والوں کے مسائل کی فکر ستانے لگی ـ کوئی اسے سیاستدانوں کی کاوش کہ رہا تھا تو کوئی اسے سماجی شخصیات کی محنت کا نتیجہ مان رہے تھے ـ
دوسرا ایشو طورمک کے ڈی ڈی او کا ہے جس کا نوٹفکیشن جاری ہو چکا ہے اور صرف ڈی ڈی او کے تعیناتی کا نوٹفکیشن جاری ہونا باقی رہتا ہے ـ مگر یہاں کچھ لوگ جن کی عادت ہوتی ہے رولا ڈالنے کی اخباری بیان بازی کا سہارا لیکر اپنے من پسند شخص کی تعیناتی کے لئے کوشاں ہیں مگر طورمک کے تمام اساتذہ نے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو آئنہ دکھایا جس پر شائد وہ برا بھی مان گئے مگر ان کے برا ماننے سے کسی کو ذرہ برابر بھی فرق نہیں پڑتا
یہ پس منظر بیان کرنے کا مقصد اس لڑائی کو واضح کرنا تھا کہ جو آرام پسند اشخاص نرم بستر پہ تشریف کو رکھتے ہوئے کریڈٹ لینے کے لئے یا اس پراجیکٹ کو سبو تاژ کرنے لئے آپس میں لڑرہے ہیں ـ ایک ہی پارٹی کے تین لوگ مختلف بیان دیتے ہیں اور آس میں ہی الجھ جاتے ہیں جبکہ ان کو معلوم ہے کہ اب دم ہلانے سے کچھ نہیں ہوگا چونکہ ان کی حکومت کے دور میں انہوں نے نائی اور ڈرائیور کو “ٹیچر” بھرتی کرنے کے علاوہ کچھ کیا ہی نہیں ہے اور اب عوام.میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔اسی طرح تلو کالج کے قیام کے لئے جدوجہد کرنے پہ ” عالم نور ” صاحب کو زبردست خراج تحسین پیش کرنا چاہئے تھا مگر اس پہ یہ اعتراض اٹھایا جارہا ہے کہ اسے ڈمبوداس میں بننا چاہئے تھا ـ
ہمیں یہ بات سمجھ لینا چاہئے کہ تلو ہو یا طورمک ڈمبوداس ہو یا گنجی ، روندو ہو یا شگر کھرمنگ ہو یا گنگچھے یہ سارا علاقہ ہمارا اپنا ہے یہاں کے لوگ ہمارے اپنے ہیں آس میں مل کر بیٹھنا ہی ہماری بقا کی ضامن ہے ـ ارض بلتستان کی تعمیر کا جذبہ رکھتے ہوئے کام کیا جائے ـ ایک دوسرے کے مسائل کا خیال رکھتے ہوئے حل کے لئے کوشش کیا جائے ـ پارٹی اور تنظیمی مفادات کو عوام کے مفادات پہ ترجیح نہ دیا جائے ـ کسی دوسرے کے کام کا کریڈٹ اپنے سر لینے کے لئے کوشش کرنے کے بجائے خود سے کچھ ایسا کرنے کی کوشش کریں کہ جس سے لوگ مجبور ہوں اور آپ کو کریڈٹ دیں ـ

About admin

One comment

  1. سید حسین موسوی

    ہمارے معاشرے کی اصل مشکل ہی یہ ہے کہ سب دین ، قوم اور علاقے کی خدمت کرنا چاہتاہے مگر نام اپنا ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc