انتظامی مسائل سے شدید دوچار داریل تانگیر کو ضلع بنانا وقت کی ضرورت ہے۔

گلگت(نامہ نگار) داریل تانگیر کو ضلع بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے،دو لاکھ سے زائد آبادی والے یہ دو علاقے انتظامیہ مسائل کا شکار ہیں ،علاقے سے ضلعی ہیڈ کوارٹر دور ہونے کی وجہ سے ان علاقوں کے لوگوں کو چلاس جانا پڑتا ہے۔ان خیالات سادات ویلفیئرآرگنائزیشن گلگت بلتستان ترجمان سیدحضرت یوسف نے اپنے ایک بیان میں کیا۔انہوں نے کہا کہ داریل تانگیر رقبے کے لحاظ سے بھی بڑا علاقہ ہے اور علاقے کی ایک شناخت اور پہچان ہے ،لیکن ہمیشہ سے اس علاقے کو پسماندہ رکھنے کی سازش کی گئی ہے اور یہ سازش ہنوز جاری ہے حکومت وقت کو چاہے کہ انتظامی مسائل اور عوامی مسائل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے فوری طور پر ضلع کا اعلان کیا جائے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی آسکے اور علاقہ ترقی کر سکے۔گدشتہ روزسادات ویلفیئرآرگنائزیشن گلگت بلتستان کاایک ہنگامی اجلاس منعقدہواجس میں ایگزیکٹیوباڈی کے تمام ممبران نے شرکت کی۔اجلاس میں داریل تانگیرکے ضلع بنانے کے موضوع پرسیرحاصل بحث ہوئی۔اجلا س میں بتایاگیاکہ کھرمنگ ،ہنزہ اورنگرکوضلع بناسکتے ہیں توداریل تانگیروالوں کاکیاقصورہے۔انہوں کہاکہ آبادی کے لحاظ سے داریل تانگیرسے ان اضلاع سے کئی گنازیادہ ہے ۔اس لئے متعلقہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عوامی مسائل اورپسماندگی کومدنظررکھتے ہوئے ہمارے مسائل ترجیحی بنیادپرحل کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ داریل تانگیرکے عوام کئی دہائیوں سے گلگت بلتستان آزادی کے لئے بے شمارقربانیاں دی ہیں ۔ داریل تانگیرکوضلع بنانے کے حوالے سے2009ء میں گلگت بلتستان کے قانون سازاسمبلی میں قرارداد بھی منظورکی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ قانون سازحکومت داریل تانگیرکوفوری ضلع کادرجہ دینے کی نوٹفیکیشن جاری کرکے عوام کادیرینہ خواب شرمندہ تعبیرکیاجائے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc