ضلع کھرمنگ کے یونین کونسل مہدی آباد میں LGRD کے ترقیاتی اسکیموں میں من مانی عوام سراپا احتجاج۔

کھرمنگ (قاسم قاسمی) ضلع کھرمنگ میں کچھ علاقے ایسے بھی ہے جن کے ساتھ ڈوگرہ زمانہ سے ہی زیادتیں ہورہی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں آج پھر انہی علاقوں کے عوام کا خون چوس کر مند پسند ایریاز کو نوازہ گیا ہے ایک ہی یونین کونسل کے ہوتے ہوئے موضع غاسنگ، آخوندپہ،منٹھوکھا اور منٹھو نالہ کو نو دو گیارہ کر کے مامو بنایا ہے اس یونین کونسل کے لئے ٹوٹل 27 پروجیکٹ کی منظوری ہوئی جن میں سے مندرجہ بالا علاقوں کے لئے کل ملا کے 5 پروجیکٹ اور باقی ماندہ پروجیکٹ ایک ہی علاقے کی منظور نظر ہوگئی ہے ۔۔ٹوٹل 27 پروجیکٹ اس یونین کو ملا ہے جس میں سے 22 صرف مہدی آباد میں ہے،باقی 5 میں سے غاسنگ کے لئے صرف ایک شامیانہ رکھا ہے وہ بھی ڈیڑھ لاکھ کا۔۔۔اور تو اور اس میں سے بھی ظلم کی انتہا یہ ہے کی ایک موضع جن کا نام آخوندپہ ہے جو کہ آپ کو ڈھونڈ کر بھی نہیں ملے گا۔کیا یہ ظلم کی انتہا نہیں ہے ؟؟کیا یہ علاقے اس یونین کا حصہ نہیں ہے۔۔۔؟؟؟یو سی مہدی آباد میں صرف ایک ہی علاقہ ہے ؟؟؟کب تک ہم خاموش تماشائی بنے رہینگے یارو۔۔۔۔خدا کے لئے اپنے حق لئے آواز بلند کریں اگر ایسے نہیں دے رہا ہے تو چھین کے لینا سکھیں۔۔یونین کونسل مہدی آباد میں کل رقم 90 لاکھ جس میں سے 8 لاکھ منٹھوکھا کے لیے اور غاسینگ کے لیے ﮈیڑھ لاکھ باقی 80لاکھ مہدی آباد میں لگایا گیا ہے. جبکہ یونین کونسل کے ممبران مہدی آباد میں چار، غاسینگ میں دو اور منٹھو کھا اور منٹھو نالہ سے ایک ایک ممبران پر مشتمل یونین کونسل ہیں اور اسی حساب سے تقسیم ہونا چاہیے تھا۔ حکام اعلی سے اپیل ہے کہ غاسینگ اور آخوندپہ کو ملا کے 22لاکھ غصب کیا گیا ہے جن کا ازالہ کیا جائے۔

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc