طلباء اور سیاست۔۔

طلباء کوسیاست میں دلچسپی لینی چاہیے یا نہیں اس پر مختلف محافل میں بحث ہوتی رہتی ہے، بہت سارے امور کی طرح اس معاملے میں بھی افراد معاشرہ افراط و تفریط کا شکار ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ طلباء کو تعلیم کی تکمیل تک سیاست سے دور رہنا چاہیے سیاست کے میدان میں کچھ بھی ہوجائے وہ اپنی تعلیم میں مگن رہیں کیونکہ سیاست میں دلچسپی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ دوسرے گروہ کا نظریہ یہ ہے کہ طلباء کو مکمل طور پر سیاست میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہے وہ سیاسی ایکٹیوٹیز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔تعلیمی اداروں میں سیاسی پارٹیوں کے آلہ کار کے طور پر کام کریں۔ سیاسی لیڈروں کے جیالے بنیں اور انکے مقاصد کو پرچار کرنے میں کردار ادا کریں۔ ہمارا نظریہ ہر معاملہ کی طرح اس میں بھی عربی ضرب المثل (خیر الامور اوسطھا) (بہترین امر درمیانی راستہ ہے) کے مطابق درمیانی راستہ کا انتخاب ہے کہ نہ افراط ہو نہ تفریط۔ طلباء کا سیاسی امور میں اس قدر دلچسپی لینا ضروری ہے کہ وہ حالات سے آگاہ رہیں اور سیاستدانوں کے مکرو فریب کو سمجھ سکیں ایسے میں اگر طلباء ہی رول ادا نہ کریں تو پھر کون ہوگا جو سیاست کی حقیقت اور سیاستدانوں کے مکر و فریب اور چال چلن سے عوام کو آگاہ کر سکیں۔لہذا عوامی آگاہی کی حد تک طلباء کو ان امور میں دلچسپی لینا ناگزیر ہے تاکہ عوام کیساتھ مکرو فریب کے ذریعے کھیل کھیلنے والوں کا راستہ روک سکیں۔دوسری طرف میڑک اور انٹرمیڈیٹ لیول کے طلباء کیلے صرف آگاہی کی حد تک دلچسپی لینے کی ضرورت ہے۔ وہ پریکٹکلی ان ایشوز میں زیادہ دلچسپی نہ دکھائیں کیونکہ انکے جذبات اور عدم پختگی سے غلط فائدہ اٹھایا جاتا ہے انکی پوری توجہ تعلیمی کارکردگی پر ہو۔جہاں تک یونیورسٹی لیول کے سٹوڈنٹس کی بات ہے تو ان کیلئے پہلے ضروری ہے کہ سیاست اور سیاسی امور سے آگاہی حاصل کرے تاکہ اندھی تقلید سے بچ سکیں۔ اور انکو اس قدر سیاست میں دلچسپی لینی چاہیے جس حد تک انکی تعلیمی کاردکرگی متاثر نہ ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ پھر طلباء کیا رول ادا کر سکتے ہیں؟ طلباء جو بنیادی رول ادا کر سکتے ہیں وہ عوامی آگاہی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے منشور انکی کارکردگی اور سیاسی شخصیات کے بارے لوگوں کو آگاہی دے سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ سیاست میں گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے کلچر کو ختم کرنے میں رول ادا کر سکتے ہیں اسی طرح عوامی رائے کی اہمیت اور معاشرے میں جو چند طبقات کی بالادستی ہے جن کی مرضی کے مطابق نمائندوں کا انتخاب ہوتا ہے بعد میں نمائندے بھی عوام کی بجائے صرف انہی مخصوص افراد کو نوازتے ہیں ان کے چال چلن سے لوگوں کو آشنا کر سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ سیاسی پارٹیوں اور سیاسی شخصیات سے انکے تعلیمی منشور کے حوالے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔بلکہ میں کہتا ہوں کہ سٹوڈنٹس پارٹیوں کو تعلیمی پالیسی اور خدمات کے مطابق پرکھیں ۔اس طرح اگر ایک سٹوڈنٹ مثبت کردار ادا کریں تو معاشرے ضرور ترقی کرینگے اور منفی سیاست کا خاتمہ ہو سکے گا۔ مگر بد قسمتی سے الیکشن کے دنوں میں خاص کر اور باقی ایام میں بھی عموما بہت سارے طلباء بھی گالم گلوچ اور لڑائی جھگڑے کے کلچر کو ہوا دینے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔بلکہ بعض اوقات طلباءہی ان فتنوں کو لیڈ کر رہے ہوتے ہیں اور علم و آگاہی کے باوجود حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے سیاسی لٹیروں کے آلہ کار بن جاتے ہیں اور پھر علاقائی مسائل اور عوامی ایشوز پر بات کرنے کی بجائے سیاسی غنڈہ گیری کرنے والوں کے دفاع کرتے نہیں تھکتے۔ایسے طلباء کیلے لفظ سٹوڈنٹ استعمال کرنا بھی مناسب نہیں لگتا۔ جہاں تک دینی مدارس کے طلباء کی بات ہے تو انکی ذمہ داری تو دوسروں سے بھی زیادہ ہیں۔دینی طلباء کو اسوقت سب سے بڑھ کر جو چیز ضروری ہے وہ سیاسیات کا مطالعہ ہے خاص کر اسلام کے سیاسی نظام کو دقیق انداز میں پڑھنے کی ضرورر ہےتاکہ سیاسیت کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کر سکیں۔اور ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدانوں کے مکرو فریب اور ظاہری تقدس کے اظہار سے آگاہ رہیں تاکہ دینی مقدسات کو ڈھال بنانے میں کوئی کامیاب نہ ہوجائے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ طلباء کو چاہیے کہ وہ شخصیت پرستی، پارٹی بازی، علاقہ پرستی، غنڈہ گیری، اور فتنہ بازی کے خول سے نکل کر معاشروں میں حقیقت پسندی، شعور و آگاہی، امانتداری اور احساس ذمہ داری کے فروغ کیلے رول ادا کریں تاکہ معاشروں کو درست سمت مل سکے۔
تحریر: صابر حسین سراج

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*

apental calc